یہ ایک خالص اسلامی بلاگ ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر مختلف اسلامی موضوعات پر وقتاً فوقتاً مواد شائع کیا جاتا ہے۔ اس بلاگ ویب سائٹ کا واحد مقصد اس پُر فتن دور میں دین کی صحیح معلومات کو پھیلانا اور اسلامی شعار کو محفوظ رکھنا ہے نوٹ: ویب سائٹ پر اپلوڈ کئے گئے مضامین میں حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہے ویب سائٹ اس بارے میں ذمہ دار نہیں۔ شُکریہ

تلاشِ موضوع

#نسب_مبارک_و_پرورش_جان_دو_عالم_صلی_اللہ_علیہ #وسلم




نسب_مبارک_و_پرورش_جان_دو_عالم_صلی_اللہ_علیہ وسلم 


آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت عرب کے سب سے افضل و معزز خاندان میں ہوئی جو کہ فضیلت اور اچھے اخلاق و پسندیدہ افعال میں اپنے آباء و اجداد ہی سے مشہور تھا 

والد کی جانب سے آپ کا نسب شریف محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف جبکہ والدہ کی جانب سے آمنہ بنت وھب بن عبد مناف بن زھرہ الزھریۃ ہے یو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب حضرت عدنان سے ہو کر جناب حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جا ملتا ہے جوکہ عرب مستعربہ کے جد امجد ہیں 

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کی ولادت با سعادت سے قبل ہی آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے تھے لہذا آپ کے دادا حضرت عبد المطلب نے آپ کی کفالت کا ذمہ لیا ۔ آپ کی والدہ حضرت آمنہ رضي الله عنها نے چند دن دودھ پلایا پھر حضرت ثوبیہ رضی الله عنها نے اور اس کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ رضی الله عنها  آپ کو دودھ پلانے کے لیے اپنے ساتھ دیہات لے گئیں جیسا کہ اہل مکہ کی عادت تھی کہ بچے کو پیدائش کے بعد دیہات میں رضاعت کے لئے بھیج دیتے تا کہ خالص فصیح و بلیغ عربی زبان سیکھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مدت رضاعت مکمل ہوگئی تو حضرت حلیمہ رضی الله عنها نے آپ  کی وجہ سے آنے والی بھلائی اور خوشحالی کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو مزید اپنے پاس رکھنے کی تمنا کی ۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی الله عنها کے یہاں پرورش کے دوران بچپن میں ایک مرتبہ آپ کے پاس دو فرشتے آئے اور آپ کا سینہ مبارک چاک کیا پھر اسے دوبارہ سی دیا  اور وہ پہلے کی طرح صحیح و سلامت ہو گیا ، آپ اس واقعہ سے بہت خوف زدہ تھے جس کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے چہرہ انور کا رنگ متغیر تھا ،

شان علی المرتضی بزبان امیر معاویہ




شان علی المرتضی بزبان امیر معاویہ


 حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کسی نے ان سے ایك مسئلہ پوچھا فرمایا:
*سل عنھا علی ابن ابی طالب فھو اعلم*

 مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ  سے پوچھو وہ  مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں،
سائل نے کہا:یا امیر المؤمنین! مجھے آپ کا جواب ان کے جواب سے زیادہ محبوب ہے،

آپ رضی اللہ تعالی عنہ نےفرمایا:

*بئسما قلت لقد کرھت رجلا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یغرہ بالعلم غرا ولقد قال لہ انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی وکان عمر اذا اشکل علیہ شیئ یاخذ منہ*

ترجمہ:

تونے سخت بُری بات کہی ایسے کو ناپسند کیا جس کے علم کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عزت فرماتے تھے اور بیشك حضور نے ان سے کہا تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسٰی علیہما الصلوٰۃوالسلام سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں،
 امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو جب کسی بات میں شبہ پڑتا ان سے حاصل کرتے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔

5 عمدہ باتیں




5 عمدہ باتیں


تحریر: عبداللہ ھاشم عطاری مدنی
03313654057

حضرت سیِّدُناابوزَغْل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے فرمایا:’’ میری 5 باتیں یادرکھو(اور یہ ایسی عمدہ ونایاب باتیں ہیں کہ) اگر تم اُونٹوں پر سوار ہو کرانہیں تلاش کرنے نکلوگے تواُونٹ تھک جائیں لیکن یہ باتیں نہ مل پائیں گی:
 (۱) بندہ صرف اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے امید رکھے۔
 (۲) اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرتا رہے۔
 (۳)جاہل علم کے بارے میں سوال کرنے سے نہ شرمائے۔
 (۴)اور اگر عالم کو کسی مسئلے کا علم نہ ہو تو (ہر گزنہ بتائے اورلاعلمی کا اظہار اورصاف انکار کرتے ہوئے) ’’وَاللہ اَعْلَمْ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّسب سے زیادہ علم والاہے۔‘‘ کہنے سے نہ گھبرائے اور
 (۵) ایمان میں صبرکی وہ حیثیت ہے جیسی جسم میں سر کی، اس کا ایمان(کامل)نہیں جو بے صبری کا مظاہر کرتا ہے۔‘‘ (شعب الإیمان للبیھقی،باب فی الصبرعلی المصائب، الحدیث:۹۷۱۸، ج۷، ص۱۲۴،بتغیرٍقلیلٍ۔)

چاند مصطفٰی کریم ﷺکا کِھلونا تھا "




"چاند  مصطفٰی کریم ﷺکا کِھلونا تھا "

تحریر:عبداللہ ھاشم عطاری مدنی
03313654057

حضرتِ  سیِّدُناعبّاس  سے روایت ہے کہ آپ نے رسولِ اکرم، نُورِ مجسم ﷺ  سے عرض کی:’’ یارَسُولَ اللہ ﷺ!  مجھے توآپ کی نُبُوَّت کی نشانیوں نے آپ کے دِین میں داخِل ہونے کی دعوت دی تھی، میں نے دیکھا کہ آپ(بچپن میں ) گہوارے(یعنی جُھولے) میں چاند سے باتیں  کرتے  اوراپنی انگلی سے اس کی جانب اشارہ کرتے تو جس طرف آپ ﷺ  اِشارہ فرماتے چاند اس جانب جھک جاتا۔ حُضُور پُر نُور ﷺ نے فرمایا: ’’میں چاندسے باتیں کرتاتھااور چاندمجھ سے باتیں  کرتاتھا او ر وہ مجھے رونے سے بہلاتاتھااورجب چاند عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ کرتا، اس وقت میں اُس کی تَسْبِیْح کرنے کی آواز سنا کرتاتھا۔(الخصائص الکبرٰی ج 1،ص  ۹۱)
چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد۱؎  میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں  پر کھلونا نور کا
مصطفی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کیسی قُوَّت عطا فرمائی تھی کہ آپ بچپن میں  اِشارے سے چاند کو جِدھر چاہتے لے جاتے تھے ۔جب اِعلانِ  نُبُوَّت کے بعد تقریباً48 برس کی عمر میں  کفّارِ مکّہ نے آپ ﷺ سے چاند کو دوٹکڑے کر کے دکھانے کا مُطَالَبہ کیا تو بھی آپ ﷺنے اِشارے سے چاند کو چاک کر کے دِکھا دیا تھا ۔(مدارج النبوۃ ،ج۱،ص۱۸۱)
چاند اشارے کا ہِلا ،حُکم کا باندھا سُورج
واہ! کیا بات شہا! تیری توانائی کی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو عام کرنے کا طریقہ



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو عام کرنے کا طریقہ


الحمد للہ رب العالمین ہم مسلمانوں کی خوش نصیبی کہ اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا اور ہمیں میلاد مصطفی صلی الله علیہ وسلم  کرنے والے خوش نصیب لوگوں میں چنا کہ جس کے فضائل کثیرہ کا بیان کرتے ہوئے علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جہاں آقا علیہ السلام کا ذکر کیا جاتا ہے ملائکہ اس جگہ کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں اللہ رب العزت ان پر اپنی رحمت کو عام فرما دیتا ہے جس گھر میں میلاد پڑھا جائے اللہ رب العزت اس گھر کو قحط وباء نظر بد و چوروں سے محفوظ فرمادیتا ہے 
مگر یاد رکھیں میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے طریقے رائج ہیں مگر ان میں فی زمانہ مشہور طریقہ محفل میلاد کا انعقاد کرنا ہے 
جس جس کو اللہ رب العزت نے اپنی بے بہا نعمتوں سے نوازا ہے ان مخیر حضرات کی بارگاہ میں ایک مخلصانہ گزارش ہے کہ آپ محفل میلاد کے اختتام پر ایک اسٹال لگائیں اگر ممکن ہو تو فی سبیل اللہ وگرنہ کم قیمت میں کتب سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و دیگر کتب فروخت کریں تاکہ وہ لوگ جو سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے نا آشنا ہے وہ سیرت مصطفی صلی الله علیہ وسلم کا پڑھیں اور آپ علیہ السلام کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگی میں عملی  جامہ پہنائیں 
 




میلاد_شریف_کے_قصوں_کو_پڑھنے_کےفضائل 


امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہر وہ گھر مسجد یا محلہ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کو پڑھا جائے فرشتے اس مکان کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ رب العزت ان لوگوں پر اپنی رحمت کو عام فرما دیتا ہے
 
ملائکہ ان کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں 
ہر وہ مسلمان جس کے گھر میں میلاد شریف پڑھا جائے اللہ رب العزت اس کے سبب اس گھر کو قحط وباء بغض حسد بری نظر اور چوری سے محفوظ فرما دیتا ہے 
اور جب وہ وفات پا جاتا ہے اللہ کریم اس پر منکر نکیر کے جوابات آسان فرما دیتا ہے اور وہ اپنے رب کے یہاں اچھے مقام پر ہوگا 

ولادت_مصطفی_صلی_اللّٰہ_علیہ_وسلم



ولادت_مصطفی_صلی_اللّٰہ_علیہ_وسلم 


جب اطراف عالم میں گمراہی پھیلنے لگی جہالت عام ہونے لگی شرک اور بت پرستی کر کے گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام کے دینوں میں تحریفیں کی جانے لگیں اور طاقتوروں کی طرف سے لوگوں پر ظلم قہر ہونے لگا حتی کہ علقمند سمجھے جانے والے باشعور لوگ بھی شرک و جاہلیت کی گندگی کے دلدل میں پھنسنے لگے تو اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا

جب پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا زمانہ قریب آیا تو دین حق پر قائم علماء آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبریں سنانے لگے تمام عرب اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ اللہ عزوجل کی ان پر خاص عنایت ہے اور تمام عرب کعبۃ اللہ شریف کی حرمت و عظمت کے قائل تھے یہی وجہ ہے کہ جب ابرہہ اپنے لشکر ساتھ کعبۃ اللہ شریف پر چڑھائی کرنے آیا تو اللہ رب العزت نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ابرہہ کے لشکر کو نیست و نابود فرمادیا جیسا کہ قرآن پاک سورۃ الفیل آیت نمبر 3 تا 5 میں اللہ رب العزت نے فرمایا 

وارسل علیھم طیرا ابابیل ترمیھم بحجارۃ من سجیل فجعلھم کعصف ماکول 
اہل عرب کی قدیم زمانے سے یہ عادت چلتی آئی ہے کہ جب بھی انکے مابین کوئی مشہور واقعہ رونما ہوتا تو اسی واقعے سے اپنی تاریخ شمار کرتے تھے 
چونکہ اہل عرب کے دلوں میں واقعہ فیل کی عظمت بیٹھ چکی تھی اس لئے وہ اپنے تاریخی معاملات و واقعات کی تاریخ اسی واقعے سے شمار کرنے لگے 

_*محدث حرم حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللّٰہ علیہ*_



_*محدث حرم حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللّٰہ علیہ*_


*نام و نسب* : سفیان بن عیینہ بن ابی عمران الھلالی الکوفی ثم المکی
*کنیت* :  ابو محمد 
*القاب* : محدث حرم ، امام الکبیر ، حافظ العصر ، شیخ الاسلام

*ولادت* :
آپ کی ولادت 107 ھ کو کوفہ میں ہوئ آپ کے والد اس وقت کے والیِ کوفہ یوسف بن عمر ثقفی کے عتاب کی وجہ سے گھربار چھوڑ کر مکہ منتقل ہوگئے اور حرم مکہ کے جوار میں مستقل سکونت اختیار فرمالی اس وقت آپ کی عمر 13 سال تھی اور آپ کے نو (9) بھائ تھے جن میں پانچ (5) بھائ اھل علم و علماء میں شمارہوتے تھے 

*تحصیل علم* : 
چار سال کی عمر میں مکمل حفظ کرلیا اور سات سال کی عمر میں حدیث کی کتابت و روایت کرنے لگے یہ سلسلہ 15 سال تک جاری رہا مگر طبیعت اس طرف مائل نہ ہوئ چنانچہ والد نے ارشاد فرمایا کہ پیارے آپ کے بچپن کا زمانہ ختم ہوا اب چونکہ آپ باشعور ہو گئے ہو لہذا مکمل طور پر تحصیل علم میں لگ جائو مگر اس راہ میں سب سے زیادہ ضروری یہ ہےکہ اہل علم کی اطاعت و خدمت کی جائے اگر تم اھل علم کی اطاعت و خدمت کرتے ہو تو ان کے علم و فضل کی دولت سے فیض یاب ہوگے آپ پوری عمر اس نصیحت پر عمل کرتے رہے مکہ اس وقت آئمہ تابعین کا مرکز تھا حضرات امام زھری ابن جریج علیہ رحمہ اور بہت سے آئمہ کی مجالس قائم ہوتی تھیں جب باضابطہ تحصیل علم کے لیے آمادہ ہوئے تو تمام علماء مکہ  بالخصوص حضرات ابن شہاب زھری  اور عمرو بن دینار علیہ رحمہ کی مجلس درس میں شریک ہونے لگے جب تک یہاں قیام رہا پھر کوفہ آگئے اور وہاں کے اہل علم سے استفادہ کیا  آپ نے ستاسی (87) تابعین کی زیارت سے مشرف ہوئے

*قوت حافظہ* : 
اللہ پاک نے ابن عیینہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کو کمال کا حافظہ اور فھم عطاء فرمایا تھا  آپ کا خد بیان ہے کہ " ما کتب شیئا حفظتہ " میں جس چیز کو تحریر میں لایا وہ مجھے یاد ہوگئ 

قرآن اور مدحتِ مصطفٰی



*🌹تیری مثل نہیں ہے خدا کی قسم🌹*
*قرآن اور مدحتِ مصطفٰی*


*✍️ غلام نبی انجـــــــم رضا عطاری*

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دنیا کا دستور ہے کہ بادشاہ جب اپنے درباریوں میں سے کسی کو اپنی عنایتوں سے مخصوص کرتے ہیں تو اسے ایسے خاص انعامات عطا کرتے ہیں، جس سے اس کی قدرو منزلت ہر شخص  پر ظاہر ہو جائے اور وہ دوسروں سے بالکل ہی ممتاز ہو جائے اور وہ کمالات اور مراتب جو کسی اور کو بھی ملے ہوئے ہوں تو بادشاہ اپنے خاص اور چُنے ہوئے درباریوں کو وہ دینے کے ساتھ دیگر بھی کئی بہتر مرتبوں سے سرفراز کرتا ہے،اسی طرح  بادشاہِ حقیقی یعنی اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی، مکی مدنی، محمدِ عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام مخلوق سے زیادہ انعامات دے کر اپنی خاص مہربانیوں سے مشرف کیا اور قرآنِ کریم میں ربِّ کریم نے مختلف مقامات پر مختلف القابات کے ساتھ اپنے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعریف  فرمائی ہے، چنانچہ

٭سورۂ فتح آیت نمبر 29 میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو *مُحَمَّدٌ رَّسُول اللہ* فرمایا۔

٭تو سورۂ اٰلِ عِمْرَان آیت نمبر 33 میں آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو *”مصطفیٰ“* قرار دیا گیا۔

٭سورۂ اٰلِ عِمْرَان آیت نمبر 179 میں *”مجتبیٰ“* فرمایا۔

٭تو سورۂ جنّ آیت  نمبر 27 میں آپ کو *”مرتضیٰ“*  کے لقب سے یاد کیا گیا۔

٭سورۂ بَنِی اِسْرائیل آیت  نمبر 1 میں *عبدِ کامل* فرمایا۔

٭تو سورۂ مائِدَہ آیت نمبر 15 میں آپ کو *”نور“* فرمایا گیا ۔

٭سورۂ نِسَاء آیت نمبر 174 میں *”بُرہان(یعنی  واضح دلیل )“*

٭تو سورۂ اَحْزَاب آیت  نمبر 40 میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کو *”خَاتمُ النَّبِیِّیْن“* فرمایا گیا۔

٭سورۂ اَحْزَاب آیت نمبر 45 میں شاہد یعنی *”حاضر و ناظر“، ”سراجِ مُنیر“(یعنی چمکتا ہوا سورج) اورداعی اِلَی اللہ(یعنی اللہ پاک کی طرف بُلانےوالا)* فرمایا گیا۔ 

٭سورۂ  یٰس آیت نمبر 1 میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو *”یٰس“*

٭تو سورۂ طٰہٰ آیت نمبر 1 میں *طٰہٰ* فرمایا گیا۔ 

٭سورۂ  بقرہ آیت  نمبر 119 میں *بشیر (خوشخبری سنانے والا) اور ”نذیر“(ڈر سنانے والا)* فرمایا گیا ہے۔ 

٭سورہ مُزّمّل آیت نمبر 1 میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کو *”مُزَّمِّل“*

...میلاد کے بارے میں اہم سوالات جوابات...




...میلاد کے بارے میں اہم سوالات جوابات...

سوال:
①میلاد کیا ہے، کس حدیث میں ہے کہ میلاد مناو یا کس حدیث میں ہے کہ میلاد نا مناو.....؟؟
سب سے پہلے کس نے منایا.؟
②فرض ہے یا واجب..کوئ نا مناے، جلوس میں نا آے تو..؟؟
③اسلام کے مرکز مکہ مدینہ میں میلاد نہیں منایا جاتا تو تم لوگ کیوں مناتے ہو......؟؟
④بارہ ربیع الاول کے دن تو نبی پاک کی وفات ہوئی، وفات پر خوشی تو شیطان کرتا ہے.....؟؟
نبی پاک کی ولادت اور وفات کی تاریخ کیا ہے....؟؟
⑤میلاد دور نبوی میں نہین تھا، خلفاء راشدین صحابہ کرام تابعین کے دور مین نہین تھا تو یہ بدعت ہوا.........؟؟
بدعت کیوں نہیں، بدعت کیا ہے......؟
⑥آپ نے کہا میلاد کی اصل ثابت ہے تو قرآن و سنت سے وہ اصل وہ دلیل پیش کریں
⑦میلاد پے ہزاروں لاکھوں عاشقانِ رسول اور مسجدیں ویران
یہ عاشقِ رسول ہیں یا بدعتی ٹھگ جعلی عاشق......؟؟
⑧میلاد کے جلسے جلوس جھندے ناچنا کہاں سے ثابت ہے....؟؟
⑨تم نعوذ باللہ سمجھتے ہو کہ نبی پاک حاضر ناظر ہیں اور تمھاری محفل جلسے جلوس مین ائے ہین اس لیے آمد مصطفی مرحبا کے نعرے لگاتے ہو،اسکی کیا دلیل ہے.....؟؟
.
.
جواب①:
*میلاد کیا ہے،سب سے پہلے کس نے منایا*
میلاد کوئ مقرر کردہ مخصوص عبادت.و.عمل نہیں..!
قرآن و حدیث میں صاف صاف دو ٹوک الفاظ میں میلاد منانے یا نا منانے کا حکم نہیں بلکہ قرآن و حدیث اور نبی پاک کے عمل اور صحابہ کرام اہل بیت کے اقوال و عمل میں غور کیا تو واضح ہوا کہ:
"نبی پاک صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے اچھے،جائز طریقوں سے شکر ادا کرنا، ذکرِ نبی کرنا، صحیح طریقے سے خوشی کا اظھار کرنا میلاد کہلاتا ہے
(ماخذ:حول الاحتفال صفحہ13تا35، حسن المقصد ص196)
.
جلسے جلوس جھنڈے عمدہ لباس...عبادت ذکر اذکار درود کی کثرت....روزہ نوافل عبادت ذکر حمد نعت تحریر تقریر صدقہ خیرات وغیرہ اگر "نبی پاک کی ولادت کی مناسبت سے ہوں صحیح طریقے سے ہوں تو یہ سب میلاد میں شامل ہیں
(ماخذ حول الاحتفال ص13تا35)
.
سب سے پہلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے میلاد منایا.
(حول الاحتفال صفحہ16)

کیا سیدنا حسن کو سیدنا معاویہ نے زہر دلوایا........؟؟ رافضیوں شیعوں اور مرزا پلمبریوں کا رد............!!




کیا سیدنا حسن کو سیدنا معاویہ نے زہر دلوایا........؟؟
رافضیوں شیعوں اور مرزا پلمبریوں کا رد............!!
.
سوال:
علامہ صاحب اس وڈیو کا جواب چاہیے…(وڈیو میں لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے کہ بخاری ابوادود وغیرہ میں ہے کہ سیدنا حسن کو معاویہ نے زہر دلوایا…وڈیو میں مرزا جہلمی کہتا ہے کہ الاستعاب طبقات ابن سعد انساب الاشراف اور تاریخ دمشق میں روایات موجود ہین جن میں لکھا ہے کہ یزید اور معاویہ نے سیدنا حسن کو زہر دلوایا)
.
جواب.و.تحقیق:
بخاری مسلم ابوداود وغیرہ میں تو ایسا کچھ نہیں لکھا کہ سیدنا معاویہ یا یزید پلید نے زہر دلوایا
البتہ
مرزا پلمبر کے دیے گئے حوالہ جات مین کیا لکھا ہے تحقیق پیش خدمت ہے
.
*#الاستیعاب میں کیا لکھا ہے.....؟؟*
مرزا پلمبر تو کہتا ہے کہ الاستیعاب میں روایات موجود ہیں کہ سیدنا معاویہ نے سیدنا حسن کو زہر دلوایا.....جب ہم الاستیعاب کی پوری عبارت پڑہیں تو واضح ہوتا ہے کہ الاستیعاب میں یہ لکھا ہے کہ
①بلاسند لکھا ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ امام حسن کو انکی بیوی جعدہ نے زہر دیا
②ایک گروہ(شیعہ وغیرہ) سے بلاسند و بلادلیل سنا گیا ہے کہ سیدنا حسن کو اسکی بیوی جعدہ نے سیدنا معاویہ کی خفیہ سازش کے تحت زہر دیا
③الاستیعاب میں دو سندوں کے ساتھ روایت لکھی کہ سیدنا حسن سے اصرار کیا گیا کہ وہ نام بتائیں جس نے زہر دیا مگر سیدنا حسن نے نام نہ بتایا
الاستیعاب کی اصل عربی عبارت یہ ہے 

ماہِ ربیع الاوّل رحمتوں و عظمتوں والا مہینا




*ماہِ ربیع الاوّل رحمتوں و عظمتوں والا مہینا*

اے عاشقانِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ربیع الاول وہ مبارک اور عظمت والا مہینا ہے جس کا عاشقانِ رسول گویا سارا سال انتظار کرتے ہیں ۔اس مہینے کے آتے ہی دنیا بھر کے مسلمان اپنے محبوب آقا، دو عالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا یومِ ولادت بڑی شان و شوکت اور نہایت عزّت و احترام سے مناتے ہیں۔

رَبیعُ الْاوّل کا چاند نظر آتے ہی غلامانِ مصطفےٰ، عاشقانِ میلاد خوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں،گویا ہر طرف بہار کا سماں ہوتا ہے، باغِ اُلفت لہلہانے لگتا ہے، دلوں کی کلیاں کِھلنے لگتی ہیں اور خوش نصیبوں کے لبوں پر نعتوں کے گجرے اور دُرود و سلام کی ڈالیاں سج جاتی ہیں، عاشقانِ رسول اپنے گھر، گلیاں، مکان، دکانیں اور بازار سجاتے ہیں اور اجتماعِ مِیلاد و محافلِ دُرود سے آنے والی صَلِّ عَلٰی کی صدائیں کانوں میں رس گھولتی ہیں۔

*🔹میرے اعلیٰحضرت ایک زندہ و جاوید کردار🔹*




*🔹میرے اعلیٰحضرت ایک زندہ و جاوید کردار🔹*

*✍️خادم المصنفین*
*🥀غلام نبی انجم رضا عطاری🥀*
_03461934584_

*میرے آقا اعلحضرت امامِ اَہلسنّت مجدد دین و ملت مولانا  الحاج الحافظ الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ* ایک عظیم ہستی ہیں جو عبادت ، تقویٰ و پرہیزگاری، عشقِ رسول، عاجزی و اِنکساری اور عِلْم و عمل کے حقیقی پیکر تھے۔

*🔹اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور اِیثارِ مسلمین🔹*

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسُنَّت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اعلیٰ کردار کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اپنی محبوب اور پسندیدہ چیزیں بھی دوسروں کو پیش کردیا کرتے تھے۔آئیے ! اس بارے میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی سیرت کا ایک دلچسپ واقعہ سنئے،چنانچہ

*🍁حاجت مند پر عطاء🍁*

موسمِ برسات میں بعض اوقات مسجد کی حاضری دورانِ بارش ہوا کرتی تھی۔حاجی کفایتُ اللہ صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے اس تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ایک چھتری خرید کر نذر (تحفے میں پیش) کی اور اپنے ہی پاس رکھ لی،جب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کاشانَۂ اَقدس سے تشریف لاتے تو حاجی صاحب چھتری لگا کر مسجد تک لے جاتے،ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک حاجت مند نے چَھتری کا سُوال کیا،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے فوراً وہ چَھتری حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سے لے کر اُس حاجت مند کو عطا فرمادی ۔

(📗حیاتِ اعلیٰ حضرت ،ص۱۱۸)

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور شفقت و خیر خواہی




*اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور شفقت و خیر خواہی*

اے عاشقانِ امام احمد رضا! اعلیٰ حضر ت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی سیرتِ مبارَکہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ دُعا مانگتے وَقْت اپنے رشتے داروں، دوستوں، مَحَبَّت و عقیدت رکھنے والوں، مُریدوں اور دیگر مسلمانوں کیلئے دعا کرنے کا خُصوصی اہتمام فرماتے تھے۔آئیے!اس کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:

*دعا کے لئے فہرست بنائی*

(1) اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نماز فجر کے بعد اپنے اَوْراد و وَظائِف کے آخر میں اُن سب کے لئے نام لے کر دُعا فرمایا کرتے تھے۔لوگ اِس بات کی آرزو رکھتے تھے کہ اُن کے نام بھی اِس فہرست میں شامل ہوجائیں۔

*🤲سب کے لئے دُعا کرتا ہوں*🤲

 (2) حضرت سَیِّد ایّوب علی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک دن میں بہت پریشان تھا، دُعا کا طالب ہوا تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے دُعا فرمائی اور ساتھ ہی مجھے اور میرے بھائی سید قناعت علی سے ارشاد فرمایا: تم دونوں کا نام بھی میں نے دُعا کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جو آہستہ آہستہ بہت لمبی ہو گئی ہے یہ تمام نام مجھے یاد ہیں ، روزانہ سب کے لیے نام لے کر دُعا کرتا ہوں ۔

(📗فیضان اعلی حضرت ، ۱۸۰ملخصاً)

*🔻جنازے میں کثرت سے دُعا مانگتے🔻*

(3) اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ تمام عوامِ اہل سُنّت کے لیے درد محسوس کرنے والا دل رکھتے تھے، چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اکثر جنازوں میں تشریف لے جاتے اور مَیِّت سے ہمدردی کا یوں اظہار فرماتے کہ دورانِ جنازہ اور جنازہ کے بعد مَیِّت کیلئے کثرت سے دُعا فرماتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ جس خوش قسمت کی نماز ِجنازہ پڑھاتے تو وہاں موجود لوگوں کو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اپنی پُر زور شفاعت سے اُس کی مغفرت کروارہے ہیں ۔

(📗حیات اعلیٰ حضرت ،ص۵۵۲ملخصاً)

از۔۔۔۔۔ *✍️ غلام نبی انجــــــــم رضا عطاری*

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور خود داری




*اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور خود داری!*


حضرت مولانا سَیّد ایّوب علی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا بیان ہے: ایک صاحب نے (اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی بارگاہ میں) بدایونی پیڑوں (یعنی مٹھائی) کی ہانڈی پیش کی، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے ( ان سے ) فرمایا: کیسے تکلیف فرمائی؟ انہوں نے کہا: سلام کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سلام کا جواب دے کر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر پوچھا: کوئی کام ہے؟ انہوں نے عرض کی کچھ نہیں، حضور! صِرْف مزاج پوچھنے کے لیے آیا تھا۔ارشاد فرمایا: عنایت و نوازش۔اور کافی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے مخاطب ہو کر فرمایا، کچھ فرمائیے گا؟ انہوں نے پھر نَفی میں جواب دیا۔ اس کے بعد  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے  وہ شیرینی مکان میں بھجوادی۔ اب وہ صاحب تھوڑی دیر بعد ایک تعویذ کی درخواست کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: میں نے تو آپ سے 3 بار پوچھا تھا مگر آپ نے کچھ نہیں بتایا، اچھا تشریف رکھئے اور اپنے بھانجے علی احمد خان صاحب (جو تعویذ دیا کرتے تھے ) کے پاس سے تعویذ منگوا کر ان صاحب کو عطا فرمایا اور ساتھ ہی حاجی کفایتُ اللہ صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا اشارہ پاتے ہی مکان سے وہ مٹھائی کی ہانڈی منگوا کر سامنے رکھ دی۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے وہ مٹھائی ان الفاظ کے ساتھ واپس فرما دی کہ اس ہانڈی کو ساتھ لیتے جائیے، میرے یہاں تعویذ بکتا نہیں ہے انہوں نے بہت کچھ معذرت کی، مگر قبول نہ فرمایا، بالآخر بے چارے اپنی مٹھائی واپس لیتے گئے۔

(📗حیاتِ اعلی حضرت،ص۹۲ملخصاً)

از۔۔۔ *غلام نبی انجم رضا عطاری

*🔸اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور حُقوقُ الْعِباد🔸*




*🔸اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور حُقوقُ الْعِباد🔸*

اے عاشقانِ امام احمد رضا!اعلیٰ حضرت،امام اَہلسنَّت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اعلیٰ کردار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اللہ پاک کے حُقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق کے بارے میں بھی بہت حسّاس تھے کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو معلوم تھا کہ بندوں کے حُقوقُ کا مُعاملہ اللہ کریم کے حقوق سے بھی زیادہ نازک ہے۔ آئیے! بندوں کے حقوق کا احساس کرنے کے بارے میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا دلچسپ واقعہ سنئے اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی سیرت پر عمل کرنے کی نِیَّت کیجئے ،چنانچہ

  *♦️بچے سے معافی مانگی♦️*

ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ بریلی شریف کی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ افطار کے بعد کھانا نہ کھاتے بلکہ صرف پان کھاتے تھے۔ جبکہ سَحَری کے وَقْت گھر سے صرف ایک چھوٹے سے پیالے میں فیرینی یعنی ایک قسم کی کھیر جو دودھ، چینی اور چاولوں کے آٹے سے بنتی ہے وہ اور ایک پیالی میں چٹنی آیا کرتی تھی،وہ نوش فرمایا کرتے تھے۔ایک دن شام کو پان نہیں آئے اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی یہ پختہ عادت تھی کہ کھانے کی کوئی چیز طلب نہیں فرماتے تھے،چنانچہ خاموش رہے لیکن طبیعت میں ناگواری ضرور پیدا ہوئی۔مغرب سے تقریباً 2 گھنٹے بعد ایک بچہ پان لایا،اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے اسے ایک تھپڑ مارکر فرمایا:اتنی دیر میں لایا؟ لیکن بعد میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو خیال آیا کہ اس بے چارے کا  تو کوئی قصور نہ تھا،قصور تو دیر سے بھیجنے والے کا تھا ۔

*🔹اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور اِیثارِ مسلمین🔹*




*🔹اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور اِیثارِ مسلمین🔹*

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسُنَّت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اعلیٰ کردار کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اپنی محبوب اور پسندیدہ چیزیں بھی دوسروں کو پیش کردیا کرتے تھے۔آئیے ! اس بارے میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی سیرت کا ایک دلچسپ واقعہ سنئے،چنانچہ

*🍁حاجت مند پر عطاء🍁*

موسمِ برسات میں بعض اوقات مسجد کی حاضری دورانِ بارش ہوا کرتی تھی۔حاجی کفایتُ اللہ صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے اس تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ایک چھتری خرید کر نذر (تحفے میں پیش) کی اور اپنے ہی پاس رکھ لی،جب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کاشانَۂ اَقدس سے تشریف لاتے تو حاجی صاحب چھتری لگا کر مسجد تک لے جاتے،ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک حاجت مند نے چَھتری کا سُوال کیا،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے فوراً وہ چَھتری حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سے لے کر اُس حاجت مند کو عطا فرمادی ۔

(📗حیاتِ اعلیٰ حضرت ،ص۱۱۸)

"حضرت علی رضي اللہ عنہ کی حکمت و دانائی




"حضرت  علی  رضي اللہ عنہ  کی حکمت و دانائی"

تحریر: عبداللہ ھاشم عطاری مدنی
03313654057

امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب  نے اپنے زمانهٔ خلافت میں حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان  سے ملاقات کی تو ان سے فرمایا:'' اے حذیفہ ! تم نے صبح کیسے کی ؟'' عر ض کی:'' اے امیرالمؤمنین! میں نے اس طرح صبح کی کہ فتنے سے محبت کرتا ہو ں اور حق کو ناپسند کرتا ہوں اور وہ کہتا ہوں جو پیدا نہیں ہوا اور اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں اور بغیر وضو کے صلوٰۃ پڑھتا ہوں اور میرے پاس زمین پرایک ایسی چیز ہے جو اللہ عزوجل کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے۔'' تو سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات پر شدید غضبناک ہوگئے اور ان کی گرفت کا ارادہ فرمایا مگرپھر ان کی نبی کریم ﷺ کے ساتھ صحبت یعنی صحابیت کا خیال آیا تو رُک گئے ۔اسی اثناء میں حضرتِ سَیِّدُنا علی المر تضی کرم اللہ وجہہ الکریم وہاں سے گزر ے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ پر غضب کے آثار ملاحظہ فرمائے تو پوچھا:'' اے امیر المؤمنین! آپ کو کس بات نے غضبناک کیا ہے ؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پورا قصہ سنادیاتو مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے کہا:'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا قول کہ''میں فتنے سے محبت کرتاہوں ۔''اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تاویل ہے :

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ (آزمائش ) ہی ہیں ۔(پ28،التغابن:15)

*النفحات العطریة ایک باکمال رسالہ*




*النفحات العطریة ایک باکمال رسالہ*


مشہور عرب عالم  مصنف کتب کثیرہ  شیخ نور الدین عتر صاحب نور اللہ مرقدہ نے  سیرت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر  ایک  بہت مختصر  مگر  جامع رسالہ لکھا ہے
 جسکا نام *" النفحات العطریة "* ہے  اسکے صرف 48 صفحات ہیں 

شیخ صاحب نے  بہت ہی عشق بھرے انداز  میں لکھا ہے جو عربی  پڑھنا جانتے ہیں 

وہ ضرور پڑھیں اور علماء و طلباء کرام کو  بالخصوص پڑھنا چاہیے 

اس رسالہ میں شیخ صاحب فرماتےہیں  
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پڑھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان میں  ثابت قدمی اور  تقویت ملتی ہے 
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  خصائص و معجزات پڑھ کر ایمان میں  بڑھوتری اور عشق میں ترقی ملتی ہے 

اس رسالہ کو پڑھ کر  جو چاشنی ملتی ہے وہ  بیان سے  باہر ہے جب شہد چکھیں گے تو مٹھاس محسوس کا پتا چلے گا
 جس بھائی کو یہ رسالہ پی ڈی ایف میں چاہیے رابطہ کرے 
03013823742

اللہ کریم شیخ صاحب کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ۔۔آمین






🌹عشق رسول بڑھانے کا ایک طریقہ🌹


 فرماتے ہیں کہ اگر  بندہ  حرمین طیبین کی حاضری سے باریاب  نہیں ہوا تو وہ  خانہ کعبہ اور روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سینری گھر میں  لگا لے اور ہر روز اسے دیکھ کر  یہی تصور کرکے کہ ان شاء اللہ ایک جسمانی طور پر بھی  حاضری نصیب ہوگی 
 اور ساتھ میں  مکہ و مدینہ کے فضائل پڑھے اور سنے 
 آقا علیہ السلام کی سیرت پڑھے،  
صحابہ و بزرگان دین کے ادب مدینہ کے واقعات پڑھے، 

ہر روز رات کو درود پاک پڑھتے پڑھتے سوئیں 

ہوسکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر کچھ نہ کچھ پڑھ کر یا سن کر سوئیں  

جو  زیارت سے مشرف ہوچکے ہیں  ان سے وہاں کی  باتیں سنے اور  ان سے سوال کرے 
 
اس طرح آپ کے عشق میں اضافہ ہوگا  تڑپ کی شدت بڑھے گی  اور ایک دن  ضرور کرم ہوگا اور ہم  جسمانی طور پر  حاضر خدمت ہونگے 

*محدث سورتی و محدث بریلی کے درمیان مکالمہ*




*محدث سورتی و محدث بریلی کے درمیان مکالمہ*


پیلی بھیت میں ایک دعوت میں اعلی حضرت اور مولانا  وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ تشریف فرما تھے 
میزبان دعوت نے  دسترخواں  لگانے سے  پہلے   ہاتھ دھلانے کیلئے برتن لایا ۔
وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ نے  میزبان کو اشارہ فرمایا کہ پہلے اعلی حضرت محدث بریلی کے ہاتھ دھلاو 
تو اعلی حضرت نے فورا فرمایا آپ  محدث ہیں اور  سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ  جاننے والے ہیں آپ کا  فیصلہ  حق ہے اور آپ کی شان کے لائق ہے 

مرشد کو مرید پر فخر





سیدی اعلی حضرت…!
عام طور پر مرید کو مرشد پے فخر ہوتا ہے مگر ایسےکم ہی مرید ہوتےہیں جن پےمرشد کو فخر ہوتا ہے…جیسے سیدی الیاس قادری کے مرید بعض علماء جن پے مرشد الیاس قادری کو فخر
جیسے اعلی احضرت امام احمد رضا عظیم مرید تھے جن پر مرشد کو فخر تھا آپ کے مرشد کا فرمان مشھور ہے کہ
اگر پوچھے گا خدا، لائے ہو کیا، تو میں کہوں گا احمد رضا
.
ذہانت و ذوقِ مطالعہ،تحقیق ترقی محنت ادب تطبیق ترجیح جرات بہادری سچائی وسعت ظرفی صبر وغیرہ کی تعلیم و تربیت و نگرانی…علمی روحانی اور پیسےوالا خاندان…سوالات کی بھرمار اور قدرت کی دیگر عطائیں…یہ سب محنت و قدرتی عطاءیں امام احمد رضا کو مجدد و اعلی حضرت بناتی ہیں…ایسی ہستیاں بہت کم ہی پیدا ہوتی ہیں، ایسی ہستیاں بہت کم ہی بنتی ہیں…آج پچیس صفر المظفر انکی وفات کا دن ہے ایصال ثواب کیجیے،انکے مشن و کتب کا مطالعہ کیجیے،حسب طاقت انکےمشن کو جاری رکھیے
.
سیدی اعلی حضرت نےبعض اکابرین سےبعض باادب مدلل اختلاف کرکےسمجھایا کہ سیدی رضا سےبھی باسلیقہ پردلیل اختلاف کیاجاسکتاہے…باادب پردلیل اختلاف علماء حقہ کا حق ہےامت کے لیے رحمت ہے اس سے دل چھوٹا نہ کیجیے…
.
سیدی اعلی حضرت پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ بہت سخت تھے سختی کرتے سخت حکم لکھتے...یہ اعتراض بالکل غلط ہے...ضدی فسادی اناپرست مفاد پرست منافق ایجنٹ پر سختی و مذمت بھی برحق ہے…اسی میں معاشرتی بھلائی ہے
القرآن:
يا أيها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم
ترجمہ:اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں
(سورہ توبہ آیت73)
عقل.و.حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سمجھایا جائے، نرمی برتی جائے، اور اسی حکمت کا تقاضا ہے کہ منافق ضدی فسادی پر سختی برتی جائے، اسی حکمت کا تقاضا ہے کہ کچھ جرائم پر سزا مقرر کی جائے، سزا دی جائے.... اسی میں معاشرے کی بھلائی بھی ہے تو ضدی فسادی مفادی کم عقل کا علاج بھی..

آل پہلے یا اصحاب پہلے........؟؟




آل پہلے یا اصحاب پہلے........؟؟


فاطمہ جزو نبی ہےابوبکر و عمر وغیرہ ان سے کیسے افضل ہوسکتے ہیں.......؟؟
.
سکھر کی عظیم الشان ریلی کا عنوان تحفظ ناموس رسالت و تحفظ ناموسِ صحابہ و اہلبیت تھا...اس پر ایک پیر صاحب نے فرمایا کہ پہلے آل کی بات ہوگی پھر اصحاب کی کیونکہ درود میں آلہ پہلے اور اصحابہ بعد میں ہے... اس سے پہلے اور اب اس کے بعد زور و شور سے پنجاب کے جلسوں سے دوٹوک آواز آتی رہی ہے کہ پہلا نمبر آل دا....سندھ اور پنجاب کے کچھ گدی نشین پیر صاحبان مدعی اہلسنت کہلا کر اسی طرف مائل نظر آرہے ہیں بلکہ اب تو کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ پہلے آل پھر اصحاب...ایسے میں اہلسنت کا نظریہ دلائل کے ساتھ واضح کرنا لازم تھا تو لیجیے دلائل حاضر ہیں...اللہ کریم اندھی عقیدت و محبت سے بچائے،نبی کریم صحابہ کرام اہلبیت عظام اسلاف و برحق علماء کا پیروکار بنائے
.
جواب.و.تحقیق:
①مفتی حنیف قریشی کہہ چکے ہیں کہ علامہ جلالی صاحب نے بےاحتیاطی تو کی مگر گستاخی زہرا نہ کی..وڈیو میری فیس بک تائم لائن پے موجود ہے...اور مفتی چمن زمان صاحب نے جو مفتی اشرف جلالی صاحب کو گستاخ و گمراہ لزوم کفر وغیرہ کے فتوے دے اسکا مختصر مگر مدلل رد الرسالہ التبصرۃ المختصرۂ علی المحفوظہ کے نام سے میں لکھ چکا ہوں گگل ڈرائیو سے ڈاؤنلوڈ کریں
ڈانلوڈ لنک
https://drive.google.com/file/d/1-UKtL8Sg4U5dofL7S0oMCO4P58mvDBS7/view?usp=drivesdk
یا مجھے وتس اپ کرکے وہ رسالہ pdf میں حاصل کرسکتے ہیں
.
②بعض پیر صاحبان، بعض گدی نشین حضرات اور ان کے حمایتیوں کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پہلے آل محمد یعنی اہلبیت بی بی فاطمہ وغیرہ علیھم الرضوان کا ذکر ہو پھر صحابہ یعنی سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھم وغیرہ کا ذکر ہو
جبکہ
علماء نے لکھا ہے کہ آل محمد کے کئ معنی ہیں قرینہ کلام سے مناسب معنی اخذ کییے جائیں...درود میں جو آلہ ہے اس سے مراد اہلبیت نہیں بلکہ اس سے مراد کلمہ گو سچے امتی محمد ہیں اور اصحابہ میں صحابہ و اہلبیت شامل
لیکناکثر نعرہ و تذکرہ و ذکر میں پہلے صحابہ کا ذکر ہو پھر اہلبیت کا کہ صحابی سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما تمام امت سے افضل ہیں تو اہلبیت سے بھی افضل ہیںلیھذا
حدیث و اقوال ِ اہلبیت کے مطابق پہلے صحابہ پھر اہلبیت
آل کے کئ معنی لیھذا مقام کےمناسب معنی مراد ہونگے:*
وقيل: اَل محمد أتباعه. وقيل: الأتباع والرهط والعشيرة.
وقيل: اَل الرجل ولده. وقيل: قومه. وقيل: أهله الذين حرمتعليهم الصدقة. وقيل: كل تقي إلى يوم القيامة، فهو آله- عليه السلامآل محمد کا معنی یہ کیا گیا ہے کہ حضور کے پیروکار امتی ایک معنی یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد پیروکار امتی اور گروہ اور خاندان بھی ہے۔۔اور کہا گیا ہے کہ آل کا معنیٰ ہے اولاد اور کہا گیا ہے کہ معنی ہےقوم۔۔۔اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ نیک و متقی امتی جو قیامت تک آئے گا تو وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آل میں شامل ہے  
(شرح ابوداود للعینی6/285)

*دینی خدمات، تدریس، امامت، قرآن حدیث پڑھانے، دم جھاڑ پھونک وغیرہ پر معاوضہ لینا، تنخواہ لینا......؟؟*




*دینی خدمات، تدریس، امامت، قرآن حدیث پڑھانے، دم جھاڑ پھونک وغیرہ پر معاوضہ لینا، تنخواہ لینا......؟؟*

اعتراض:
ایک صاحب نے فیس بک پے بڑا تیکھا اعتراض لکھ مارا کہ علماء مفتی مولوی سب ٹھیک نہیں یہ لوگ دینی کام خدمات تدریس امامت وغیرہ قرآن و حدیث کو بیچ کر کھا رہے ہیں جو کہ بہت ہی سخت قابل مذمت ہے
اسی طرح جھاڑ پھونک تعویذ والے حضرات عملیات کے بابے جو فیس لیتے ہیں یہ بھی دین کو کاروبار بنانے کے مترادف ہے....ان سب سے دور بھاگو ، یہ سب مفتی عامل بیچ کھانے والے سب مردود و ناحق ہیں، دین کے بدلے کھانے والے ہیں، ان کے پاس کتابوں کی دلیل ہے مگر ان کے پاس قران و حدیث کی کوئی دلیل نہین بلکہ قرآن و حدیث انکی مخالفت کرتا ہے
.
جواب:
پیارے بھائی اس طرح بےدردی بےادبی سے علماء مفتیان کرام امام صاحبان وغیرہ دینی کام کرنے والوں کی مزمت و اعتراض سے پہلے علماء سے سوال تو کریں....بےدردی بےادبی سے اسلاف علماء اور اسلامی کتب کو مردود تو نہ کہیں...پہلے مقدور بھر تحقیق کریں....مشاورت کریں...علماء سے اعتراض و سوال کریں وہ اپ کو مکمل سمجھائیں گے...یہ معتبر اسلامی کتب اکثر قرآن حدیث صحابہ اہلبیت تابعین کے اقوال سے ہی ماخوذ و خلاصہ ہیں……بحرحال آپ کے اعتراض کا جواب میں کتب کے بجاءے قرآن و حدیث صحابہ کرام کے قول و فعل پیش کر رہا ہوں تاکہ آپ کی تسلی ہو
.
*#برحق باعمل علماء کی قدر کرو،اطاعت کرو، اہل استنباط علماء صوفیاء امراء سے سوال و مشاورت کرو،اطاعت کرو:*
القران..ترجمہ:
اللہ کی اطاعت کرو،اور رسول کی اور اولی الامر (برحق علماء، امراء)کی اطاعت کرو.(سورہ نساء آیت59)
.
القرآن..ترجمہ:
اگر معاملات کو لوٹا دیتے رسول کی طرف اور اولی الامر کی طرف تو اہل استنباط(اہلِ تحقیق،باشعور،باریک دان،سمجھدار علماء صوفیاء امراء)ضرور جان لیتے
(سورہ نساء آیت83)
.
جو بڑوں کی عزت نہ کرے،چھوٹوں پر شفقت نہ کرے
(برحق)علماء کی قدر نہ کرے،انکا حق نہ جانےوہ میری امت میں سے نہیں.(مجمع زوائد حدیث532)

قاتلانِ حسین کون.....؟





*غدار مکار بزدل مفادی مطلبی شیعہ ہی قاتلانِ حسین ہیں…ثبوت و حوالہ جات شیعہ کتب سے*
.
سوال:
شیعہ کو قاتلین امام حسین ع کہنے والے ارسطو ذھن لوگوں سے ایک معصومانہ سوال.......
جب کربلا کا واقعہ پیش آیا تب
حاکم وقت:یزید بن معاویہ(صحابی رسول معاویہ کا بیٹا)
کوفہ کا گورنر: عبیداللہ ابن زیاد( صحابی رسول ص زیاد ابن ابيه کا بیٹا)
کربلا میں لشکر یزید کا سالار: عمرو ابن سعد( صحابی رسول ص سعد ابن ابی وقاص کا بیٹا)
لشکر یزید کا اہم سردار: سنان بن انس (صحابی رسول ص انس بن مالک کا بیٹا) تھا......
پوچھنا یہ تھا کہ کیا یہ سارے لوگ شیعہ تھے؟؟؟؟؟؟
اور اگر یہ شیعہ نہیں تھے تو اس وقت کے کمزور شیعوں نے ایسے طاقتور لوگوں کی موجودگی میں امام حسین ع اور ان کے ساتھیوں کو شہید کیسے کر دیا؟؟؟؟؟؟
براہ مہربانی جواب دلیل سے دیں اور گالم گلوچ سے پرہیز کریں. شکریہ.
.
.
اس سوال میں بظاہر یہ بتانے کی کوشش کی گئ ہے کہ
①یزید اور صحابہ کی اولاد ہی قاتلانِ حسین ہیں
②شیعہ کمزور تھے وہ قاتلِ حسین نہیں....شیعوں نے آخر کیسے قتلِ حسین کیا......؟؟
.
جواب.و.تحقیق:
شیعہ کتابوں سے ہم ثابت کریں گے کہ
①شیعہ طاقت میں تھے....اہل کوفہ شیعہ تھے... 80ہزار کے قریب قریب شیعوں نے امام حسین کے نائب مسلم بن عقیل کے ذریعے امام.حسین کی بیعت کی، یہی اہل کوفہ شیعہ نے امام حسین کو ہزاروں خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی پرزور دعوت دی
.
②پھر یہی طاقتور کوفی شیعہ یزید کی دھمکیوں لالچوں میں آکر بے وفا غدار منافق نکلے اور امام حسین کے نائب مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑ دیا بے، یزیدی فوج میں شامل ہوئے اور مسلم بن.عقیل کو شہید کرایا

#بشارت_میلاد_الرسول_صلی_اللہ_علیہ_وسلم




بشارت_میلاد_الرسول_صلی_اللہ_علیہ_وسلم


مسیب بن رافع  حضرت کعب احبار سے راوی،انہوں نے فرمایا
 میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے،اﷲ عزوجل نے جو کچھ موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اتارا ا س کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا،وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے،
جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا:
اے میرے بیٹے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھے ہیں ان میں ایك نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مُدعی نکل کھڑا ہو،تو اس کی پیروی کرلے 
یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا،نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہو اگر اﷲ تعالٰی تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیروی کرنے والا  ہوجائے گا،

ملفوظات سیدی امیر اہل سنت




ملفوظات سیدی امیر اہل سنت


🌹 دعوت اسلامی نے چندہ جمع کرکے جامعات المدینہ بنائے اور آج آپ یہیں سے پڑھ کر  عالم ہوئے اور آج آپ سب کی دستار فضیلت ہے 

🌹 دعوت اسلامی آپ کی تحریک ہے کبھی اسکے ساتھ بے وفائی نہیں کرنا 

🌹 جامعتہ المدینہ میری دکان ہے  میری دکان سے آپ سب نے سودا لیا اور سیل مین کی ٹریننگ لی اور اب میری دکان کے سامنے اپنی دکان مت کھولنا

🌹 آپ کسی کے ہوجاو یا کسی کو اپنا کرلو کہ آپ دعوت اسلامی کو اپنا کرلو یا دعوت اسلامی کے ہوجاو اور کوئی راستہ مت اپناو
مہربانی کرکے میری دعوت اسلامی سے ہٹ کر  کوئی راستہ نہیں اپنانا مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جانا یہ میری نصیحت بھی ہے اور وصیت بھی ۔

🌹 میرے بعد میری دعوت اسلامی کو چلاتے  رہنا  اور  گروہ بندی نہیں کرنا اور نہ کبھی شوری کے خلاف بولنا جب تک شریعت کی پابند رہے اگر شریعت کے خلاف بھی کچھ کرے تو حکمت عملی سے سمجھانا ہے کہ فتنہ برپا کرنے سے معاملہ سلجھتا نہیں الجھتا ہے 

🌹  دعوت اسلامی اتنی بڑی واحد تحریک ہے جس میں گروپ بازی نہیں یہ آپس میں لڑتے نہیں گروپس ہونے سے دین کے کام کو  بہت بڑا حرج ہوتا ہے 

⭐حسن و جمال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم⭐




⭐حسن و جمال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم⭐


اللہ تعالی کی یہ سنت رہی ہے کہ جس ہستی کے سر پر نبوت کا تاج سجایا ہے اسے کمالات نبوت کے علاوہ ہر قسم کے انسانی کمالات میں بھی امتیازی شان عطا فرمائی ہے 

حسن ظاہری بھی انسانی کمالات میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے 
اور اللہ تعالی نے میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن کا شہنشاہ بنایا ہے 
حسن کی تمام حدیں میرے نبی مکرم رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑی مبارک کی رنگت پہ آکر رک جاتی ہیں۔

1️⃣ : جب جلیل القدر صحابی  حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ  جن کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منبر مبارک رکھوا کر   آپ سے نعتیں سنتے اور جنکی تائید جبرائیل امین علیہ السلام فرماتے 
انھوں نے حسن مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلک دیکھی  تو آپ نے فی البدیع فرمایا 

*احسن منك لم تر  قط عيني* 
*واجمل منك لم تلد النساء*
*خلقت مبرأ من كل عيب*
*كأنك قد خلقت كما تشاء*

ترجمہ:

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ جیسا حسین میرے آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں 
آپ جیسا جمیل  کسی ماں نے جنا ہی نہیں 
آپ کو ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا گویا کہ آپ کی تخلیق آپ کی مرضی سے کی گئی 

امام_حمد_رضا_خان_پر_سرکار_مدینہ_کا_کرم




امام_حمد_رضا_خان_پر_سرکار_مدینہ_کا_کرم


سیدی اعلی حضرت، مجدد دین و ملت،  حامی سنت،  ماحی بدعت،  امام عشق و محبت الشاہ ، الحافظ،  القاری،  المفتی امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

*مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کرم سے میری مدد فرماتے اور اپنے کلام حق سے مجھ پر افاضہ فرماتے ہیں*

(فتاوی رضویہ ج١٢/١٣١ رضا اکیڈمی ممبئی)

علامہ عبدالحکیم خاں اختر شاہ جہان پوری لکھتے ہیں:

*حقیقت یہ ہے اعلی حضرت امام احمد رضا خان کو اتنے علوم و فنون پر کمال حاصل ہوا* 
*اسکا بہت کم حصہ کسبی اور اکثر و بیشتر حصہ وہبی ہے*

(سیرت امام احمد رضا خان ص ١٥ مطبوعہ رضوی کتاب گھر دہلی)

✍محمد ساجد مدنی

⭐محدث کی زبان کو چوس لیا⭐




⭐محدث کی زبان کو  چوس لیا⭐


صاحب کرامت  مشہور ولی اللہ  حضرت سہل  بن عبداللہ تستری  علیہ الرحمہ   ایک دن  حضرت امام ابوداود رحمة الله عليه کی زیارت کیلئے آئے اور  فرمایا 
اے ابو داود اپنی زبان  باہر  نکالیے کہ میں اسکا  بوسہ لوں کیونکہ آپ اس  زبان مبارک سے  نبی مکرم رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کی  حدیثیں  بیان  فرماتے ہیں  
چنانچہ انکے اصرار پر امام ابوداود نے اپنی زبان نکالی اور انھوں نے  نہایت گرم جوشی اور پیار کے ساتھ آپ کی زبان کو  چوس لیا ۔

حضرت ابراہیم حربی نے جب  سنن ابو داود کا  مطالعہ کیا تو فرمایا:
اللہ تعالی نے امام ابودواد کیلئے حدیث کو ایسے نرم کردیا  جیسے  حضرت داود علیہ السلام پر  لوہے کو نرم  فرمادیا تھا ۔

موسی بن ہارون محدث جو امام ابوداود کے ہم زمانہ تھے  فرماتے ہیں:
ابوداود دنیا میں  حدیث کیلئے اور آخرت میں  جنت کیلئے  پیدا کیے گئے 

(رجال الحدیث ص 59)

✍#محمد_ساجد_مدنی

امام احمد رضا خان کا مقصد زندگی دفاع عزت رسول ۔۔۔!!




امام  احمد رضا خان کا مقصد زندگی دفاع عزت رسول ۔۔۔!!


الحمدﷲ! اس فقیر بارگاہ غالب قدیر عز جلالہ،کے دل میں کسی شخص سے نہ ذاتی مخالفت نہ دنیوی خصومت،مجھے میرے سرکار ابد قرار حضور پرنور سید الابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے محض اپنے کرم سے اس خدمت پر مامور فرمایاہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کوایسوں کے حال سے خبردار رکھوں جو مسلمان کہلاکر اﷲ واحد قہار جل جلالہ اور محمد رسول اﷲ ماذون مختار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس پر حملہ کریں تاکہ میرے عوام بھائی مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی بھولی بھالی بھیڑیں ان"ذیاب فی ثیاب"  انسانی لباس میں چھپے بھیڑئیوں سےبچے رہیں 

،یہ مبارك کام بحمداللہ اس عاجز کی طاقت سے بدرجہا زیادہ انجام پایا ،اور ہوتاہے،اورجب تك وہ چاہے گا ہوگا
اس سے زیادہ نہ کچھ مقصود نہ کسی کی گالی گلوچ  وبہتان وافتراء کی پرواہ

اعلی حضرت اور علم حروف و ریاضی




اعلی حضرت اور علم حروف و ریاضی


تحریر:    دانیال رضا مدنی 

جس طرح اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ دیگر علوم و فنون پر کامل  دسترس رکھتے تھے اسی طرح آپ علم حروف و علم ریاضی پر بھی مہارت تامہ  رکھتے تھے
اس متعلق کئی واقعات کتب میں موجود ہے مگر ایک مسئلہ زیر نظر ہوا جس میں اعلی حضرت نے رافضیوں کو علم حروف کے ذریعے جواب دیا 
سائل سوال کرتا ہے کہ ایک رافضی نے کہا آیۃ کریمہ-اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠(بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں) کے عدد ۱۲۰۲(بارہ سو دو) ہیں اور یہی عدد ابو بکر عمر و عثمان کے ہیں 

اس پر اعلی حضرت نے علم حروف کے ذریعے ہی ان پر ضرب شدید لگاتے ہوئے فرمایا 

۱  اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍؕ-اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۱۵۹)

بیشک جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور شیعہ ہو گئے اے نبی تمیں ان سے کچھ علاقہ نہیں 

اس آیت مبارکہ کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں اس آیۃ کریمہ کے حروف ۲۸۲۸ (دو ہزار آٹھ سے اٹھائیس) ہیں اور یہ ہی عدد روافض اثنا عشریہ شیطنیہ اسماعلیہ کے ہیں 

مزید فرماتے ہیں 

۲  لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے ہے برا گھر
 

پاکستان کے نوجوانوں کے نام پیغام


 

پاکستان کے نوجوانوں کے نام  پیغام 🇨🇨


وطن تو آزار ہو چکا ؛ دماغ و دل غلام ہے اب بھی
پیئے ہوئے ہیں شرابِ غفلت یہاں پر خاص و عام اب بھی
غلط ہے تیرا یہ نعرہ ساقی بدل چکا ہے نظام محفی
وہی شکست سی بوتلیں وہی شکست سا جام اب بھی
میرے میخاناءِوطن کا وہی کوہنا اب بھی
کسی پر جامِ شراب جائز ، کسی پر پانی حرام اب بھی

🟩 آج ملک بھر میں آزادی کا دن منایا جا رہا ہے ؛؛؛؛؛؛
ہر طرف خوشیوں ہیں ؛؛؛؛؛؛
جلسے ہیں ، جلوس ہیں ؛؛؛؛؛؛
جھنڈے ہیں ، چراغاں ہیں ؛؛؛؛؛؛
نعرے ہیں ، تقریریں ہیں ؛؛؛؛؛؛

♻️ مگر اے آزادی کا جشن منانے والوں
 کیا تم جانتے ہو کہ اس آزاد ملک کیلئے کتنی مائوں کے لخت جگروں کے سر کٹ گئے ؟؟
کتنی عصمتیں لُٹ گئیں ؟؟
خون کے کتنے دریا بہہ گئے ؟؟
کتنے آرزوں کے محل گرگئے ؟؟

🟢 یقیناً یہ ملک ہمارے بڑوں نے آسانی سے حاصل نہیں کیا بلکہ اس کی جڑوں میں 18 لاکھ مسلمانوں کا خون مدفون ہے ::
70 ہزار مسلمان لڑکیوں کی عزتیں اس کے نام پر قربان ہوئی ہیں ::
ہزاروں گھر اُجڑ گئے ہیں ::
اس کے بعد یہ ملک ہمیں ملا ہے جس میں ہم آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔۔::::

♣️ کیا مطالعہ دوست ہے ؟؟ ♣️




♣️ کیا مطالعہ دوست ہے ؟؟ ♣️


جی ہاں ❗
                مطالعہ انسان کا ایک وفادار دوست ہے ۔
ایسا دوست جو مشکل گھاٹیوں میں انسان کا سہارا بنتا ہے ۔
ایسا دوست جو انسان کی زندگی کے امتحانات میں اس کا ساتھ دیتا ہے ۔
اور اس امتحانات میں اپنے دوست کو کامیابی و کامرانی سے ہم کنار کر دیتا ہے :-

🔹️ لہذا انسان کو بھی چاہیے کہ اپنی دوستی کتاب سے کرلے یقین جانیں کہ یہ دوست آپ کو کبھی بھی کسی بھی مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ 
آپ کے کندھے کے ساتھ کندھا دے کر کھڑا رہے گا :-

✴ ایک بات یاد رکھیں جب آپ اپنے مسائل کا حل کسی انسان سے پوچھتے ہیں تو ہوسکتا ہے وہ انسان کسی موڑ پہ آپ کو دھوکا دے دے ۔
لیکن جب آپ کتابوں سے دوستی کرکے ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو کتاب آپ کو مسائل سے لڑنے کا طریقہ بتاتی ہے ، لوگوں کے ساتھ جینے کے راز سکھاتی ہے :-

♻️ اگر آپ بلند فضا میں اڑنا چاہتے ہیں تو آپ مطالعے کو مستقل مزاجی کے ساتھ تھام لو ؛ مطالعہ آپ کو عروج پر پہنچا دے گا :-
کسی نے کیا خوب کہا کہ 
《 پروں کو کھول زمانہ اُڑنا دیکھتا ہے
زمین پر بیٹھ کر کیا آسمان دیکھتا ہے 》

💠 آپ کمر کَس کے مطالعے کو اپنے اوّلین دوستوں میں سے بنالو یہ مطالعہ آپ کو بلند مقام عطا کرے گا :-
ایک قول ملتا ہے کہ
\\ خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دِیا جلانا ہوگا //

🔶️ آخری بات کہہ کر تحریر کو سمیٹ لیتا ہوں 
{{ ہمیشہ یاد رکھنا کہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے آپ کو اکیلے ہی آگے بڑھنا پڑتا ہے
لوگ آپ کے ساتھ تب آتے ہیں
جب آپ کامیاب ہوجاتے ہیں }}

📝 آپ مطالعہ ان طریقوں سے کریں 📝

🗨 بندہ محنت اگر اپنی سمت پر کرے گا تو اس کا اس کو فائدہ ملے گا  ؛
اگر بے سمت پر محنت کی تو اس کو اس کا کچھ فائدہ نہیں ملے گا ؛

📘 جتنا آپ کا مطالعہ وسیع ہوگا
اسی قدر آپ کا ذہن وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا :-

📕 ابتداءً مطالعہ ہر کوئ نہیں کرتا ،
جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ؛
ان میں بھی "2" طبقے کے لوگ پائے جاتے ہیں ؛
1:- طبقہ فقط ٹائم پاس کیلئے قصے ، کہانیاں ، پڑھتے ہیں :-
2:- اپنے اندر صلاحیت پیدا کرنے اور امت مسلمہ کی اصلاح کرنے کیلئے مطالعہ کرتے ہیں :-
ان میں سے دوسری قسم کے لوگ صحیح سمت پر محنت کررہے ہیں :-

❓ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کن طریقوں سے ہم بھی مطالعہ کریں تاکہ ہمارے اندر بھی صلاحیت پیدا ہو ؟؟

📗 مطالعہ کرنے کے "5" طریقے عرض کرتا ہوں ان ہی طرق کو اپناتے ہوئے آپ مطالعہ کریں :-

1️⃣ سب سے پہلے جن علوم کا سیکھنا آپ پر فرض ہے ان علوم کا مطالعہ کرنا شروع کریں :-

2️⃣ فی زمانے میں جن موضوعات پہ مطالعہ کرنے کی حاجت ہے انہی کتب کے مطالعہ کو ترجیح دیں :-

3️⃣ ایسی کتاب کا مطالعہ کریں جو کتاب آپ کو دیگر کتب سے بے نیاز کر دے :-

4️⃣ علم سے بھرپور کتاب کا مطالعہ کریں ، ایسی کتاب کے مطالعے سے اجتناب کریں جو قصوں اور جھوٹی کہانیوں پر مشتمل ہو :-

5️⃣ معتبر اور مستند علماء کرام کی کتب کا مطالعہ کریں :-
🕸 ہر شخص مطالعہ کیوں نہیں کر پاتا ؟ 🕸

🧊 ہر چیز پایہ تکمیل تک اپنے اسباب کے ساتھ پہنچتی ہے ۔
جیسے ؛ کسی نے کسی کی دعوت کی تو یہ دعوت مکمل اس وقت کہلائے گی جب میزبان دعوت کے اسباب کو مکمل کرے گا ،
اگر مکمل نہ کرے گا تو مہمان کہے گا کہ یہ کونسی دعوت ہے ؟

🌀 اسی طرح تحریر کے اسباب میں سے ایک سبب مشاہدہ بھی ہے 
اور پھر مشاہدے کو لفظوں میں بیان کرکے آگے پہنچانا بھی ایک ملکہ ہے ۔
لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ اس دور میں مشاہدہ کرنا کسی حد تک نظر نہیں آرہا ، اور مشاہدے کو لفظوں میں بیان کرنا تو کُوسُوں دور تک نظر نہیں آرہا :-

⚡ اور تحریرات کے اسباب میں سے ایک سبب مطالعہ بھی ہے ،
تحریر کیلئے مطالعہ بے حد ضروری ہے ،
ہر شخص اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ مطالعے کے بہت فوائد ہیں
لیکن ایک طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص مطالعہ کربھی نہیں پاتا۔
 اور دور حاضر میں مطالعہ نہ کرنے کی شکایت بھی عام ہے :-

🌹 اب میں آپ کو " 22 " ایسے اسباب بتاتا ہوں جن کی وجہ سے مطالعہ نہیں ہو سکتا :-

1️⃣ کتابوں سے دوری :-

2️⃣ علم کی ناقدری :-

3️⃣ بے مقصد زندگی :-

4️⃣ سُستی اور لاپرواہی :-

5️⃣ وقت کو فضولیات میں گزار دینا :-

6️⃣ اچھی ملازمت پر اطیمنان :-

7️⃣ امتحان میں پاس ہونے پر اطیمنان :-

8️⃣ سُوشل میڈیا کا زیادہ استعمال :-

9️⃣ کاموں کی ترتیب کا نہ ہونا :-

🔟 حافظے کی کمزوری :-

1️⃣1️⃣ احساس کمتری :-

2️⃣ 1️⃣خود اعتمادی کا نہ ہونا :-

3️⃣1️⃣ نصابی مطالعہ پر اکتفاء :-

4️⃣1️⃣ خود پسندی :-

5️⃣1️⃣ انانیت :-

6️⃣1️⃣ کسی کو کمتر سمجھنا :-

7️⃣1️⃣ کتاب کی ظاہری صورت پر دل کا مائل نہ ہونا :-

8️⃣1️⃣ عشق مجازی میں گرفتار ہوجانا :-

9️⃣1️⃣ اچھی صحبت کا نہ ملنا :-

0️⃣2️⃣ خودشناسی کا نہ ہونا :-

1️⃣2️⃣ گناہوں کی کثرت :-

2️⃣2️⃣ روحانی آداب کا اہتمام نہ ہونا :-

🔺️ جس طرح باسی روٹی کھانا پسند نہیں کرتا 
اسی طرح باسی لوگوں کے ساتھ رہنا بھی کوئ پسند نہیں کرتا ،
لہذا اپنے آپ کو تر رکھا کرو 
               وہ کیسے ؟؟
وہ ایسے کہ اپنے اندر صلاحیت بڑھائو کتابیں پڑھ کر :-

🔅 سیکھنے والا انسان تروتازہ رہتا ہے ، خوش رہتا ہے :-

♦️ سیکھنے کیلئے کتاب ضروری نہیں ہے 
بلکہ ہوش و حواس ضروری ہیں

✍ ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری 
03128065131
            (( 02.09.2020 ))