یہ ایک خالص اسلامی بلاگ ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر مختلف اسلامی موضوعات پر وقتاً فوقتاً مواد شائع کیا جاتا ہے۔ اس بلاگ ویب سائٹ کا واحد مقصد اس پُر فتن دور میں دین کی صحیح معلومات کو پھیلانا اور اسلامی شعار کو محفوظ رکھنا ہے نوٹ: ویب سائٹ پر اپلوڈ کئے گئے مضامین میں حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہے ویب سائٹ اس بارے میں ذمہ دار نہیں۔ شُکریہ

تلاشِ موضوع

*تعارف مفتی محمد ہاشم خان عطاری زید مجدہ*




*تعارف مفتی محمد ہاشم خان عطاری  زید مجدہ*

*اسم گرامی*

    استاذ الفقہ والحدیث  ابوالحسن محمدہاشم خان بن گل محمد بن شیر محمدبن نواب خان۔آپ  کا تعلق ملک اعوان برادری سے ہے۔

*ولادت  و مقام ولادت*

    آپ کی ولادت راولپنڈی ڈویژن کے ضلع اٹک کی ایک تحصیل پنڈی گھیپ میں7جون1979ء کو ہوئی ۔

*ابتدائی تعلیم و تربیت*

سیرت صدر الافاضل سید نعیم الدین مرادآبادی




صدر الافاضل سید نعیم الدین  مرادآبادی 

🌹امام الھند سلطان المناظرین سید المفسرین حضور صدرالافاضل فخر الاماثل علامہ مفتی سید نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ العزیز🌹

=ولادت مبارکہ

آپ کی ولادت 21؍ صفرالمظفر 1300ھ بمطابق یکم جنوری 1883ء بروز پیر کو شہر مرادآباد میں ہوئی۔

= اسم مبارک =

آپ کا تاریخی نام مبارک  ’’غلام مصطفی‘‘ تھا۔
مگر عرفی نام "سید محمد نعیم الدین"  شہرت پذیر وہمہ گیر ہے۔

= خاندان =

آپ کاخانوادہ علم و فضل میں یگانہ تسلیم کیا جاتا تھا ۔ والد ماجدمولانا سید محمد معین الدین المتخلص بہ نزہتؔ مرادآبادی (م 1339ھ) اور جد امجد مولانا سید محمد امین الدین راسخ ؔبن مولانا سید محمد کریم الدین آرزوؔ اپنے عہد کے مشاہیر علما و شعرا میں شمار کیے جاتے تھے۔

اور موجودہ دور میں بھی یہ نعیمی خانوادہ اپنی امتیازی شان کے ساتھ دین وسنیت خدمت میں ہمہ تن مصروف عمل ہے۔

جمعہ کے فضائل احکام و مسائل




تحریر عبداللہ ھاشم عطاری مدنی
03313654057

جمعہ کے فضائل احکام و مسائل

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(سورہ الجمعہ آیت 9)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
 اس آیت سے نمازِجمعہ کے احکام بیان کئے جا رہے ہیں  ۔یہاں  اس آیت سے متعلق تین باتیں  ملاحظہ ہوں :
(1)… اس آیت میں  اذان سے مراد پہلی اذان ہے نہ کہ دوسری اذان جو خطبہ سے مُتَّصِل ہوتی ہے۔ اگرچہ پہلی اذان حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں  اضافہ کی گئی مگر نماز کی تیاری کے واجب ہونے اور خرید و فروخت ترک کر دینے کا تعلق اسی سے ہے۔
(2)…دوڑنے سے بھاگنا مراد نہیں  ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ نماز کیلئے تیاری شروع کردو اورذِکْرُ اللّٰہ سے جمہور علماء کے نزدیک خطبہ مراد ہے۔
(3)… اس آیت سے نمازِ جمعہ کی فرضیّت،خرید و فروخت وغیرہ دُنْیَوی مَشاغل کی حرمت اور سعی یعنی نماز کے اہتمام کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا ۔( خزائن العرفان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۰۲۵، ملخصاً)

ملک الموت حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام




ملک الموت حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کیا کام سر انجام دیتے ہیں

س فرشتہ کا نام حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام  ہے جو      اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحیں  قبض کرنے پر مقرر ہیں ۔ اپنے کام میں  کچھ غفلت نہیں  کرتے اور جس کی موت کا وقت آجاتا ہے ، بلاتاخیر اس کی روح قبض کرلیتے ہیں  ۔مروی ہے کہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام کے لئے دنیا ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح کردی گئی ہے تو وہ مَشارق و مَغارب کی مخلوق کی روحیں  کسی مشقت کے بغیر اُٹھالیتے ہیں  اور رحمت و عذاب کے بہت سے فرشتے اُن کے ماتحت ہیں۔(      خازن، السجدۃ، تحت الآیۃ:      ۱۱     ،      ۳      /      ۴۷۶     )     
مروی ہے کہ حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کسی مومن کی روح اس کو سلام کئے بغیر قبض نہیں  فرماتے ۔ حضرت       عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جب حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں  تو کہتے ہیں  : تیرا ربّ تجھے سلام فرماتا ہے اور ایک روایت میں  یہ بھی ہے کہ مومنین جب قبروں  سے نکلیں  گے تو فرشتے سلامتی کی بشارت کے طور پر انہیں  سلام کریں  گے۔      (      جمل، الاحزاب، تحت الآیۃ:       ۴۴      ،       ۶       /       ۱۸۰      ، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ:       ۴۴      ،       ۳       /       ۵۰۴      ، ملتقطاً      )    

اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اور پردہ



تحریر عبداللہ ھاشم عطاری مدنی 03313654057

اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اور پردہ
   
     وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(سورہ الاحزاب آیت 33)
ترجمہ کنز العرفان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔اے نبی کے گھر والو! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب صاف ستھرا کردے۔
   یعنی اے میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی ازاواج! تم اپنے گھروں  میں  ٹھہری رہو اور اپنی رہائش گاہوں  میں  سکونت پذیر رہو (اور شرعی ضرورت کے بغیر گھروں  سے باہر نہ نکلو۔) یاد رہے کہ اس آیت میں  خطاب اگرچہ ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ     کو ہے لیکن اس حکم میں  دیگر عورتیں  بھی داخل ہیں ۔    (     روح البیان، الاحزاب، تحت الآیۃ:     ۳۳    ،     ۷     /     ۱۷۰    )  

"اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو"




"اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو"

تحریر عبداللہ ھاشم عطاری مدنی 03313654057

سورہ الزمر آیت 53  میں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اپنی کامل رحمت،فضل اور احسان کا بیان فرمایا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(الذمر آیت 53)
ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ، آپ فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’اے میرے وہ بندو! جنہوں نے کفر اور گناہو ں میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر زیادتی کی، تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا اور یہ خیال  نہ کرناکہ ایمان قبو ل کر لینے کے بعد سابقہ کفر و شرک پر تمہارا مُؤاخذہ ہو گا، بیشک    اللہ    تعالیٰ اُس کے سب گناہ بخش دیتا ہے جو اپنے کفر سے باز آئے اور اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر لے ،بیشک وہی گناہوں پر پردہ ڈال کربخشنے والا اور مصیبتوں  کو دور کر کے مہربانی فرمانے والا ہے۔    (   تفسیرکبیر، الزّمر،تحت الآیۃ:   ۵۳   ،    ۹    /    ۴۶۳   -   ۴۶۴   ، جلالین مع جمل، الزّمر، تحت الآیۃ:    ۵۳   ،    ۶    /    ۴۳۹   -   ۴۴۰   ، مدارک، الزّمر، تحت الآیۃ:    ۵۳   ، ص   ۱۰۴۳   ، ملتقطاً   ) 

عمرہ کا آسان طریقہ




تحریر و مرتب عبداللہ ھاشم عطاری مدنی 03313654057

عمرہ کا آسان طریقہ

اَلحَمدُلِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ
الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ   ﷺ
عمرہ کی فضیلت:

(۱) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:رمضان میں عمرہ میرے  ساتھ حج کے برابر ہے۔(بخاری ج ا ص ۶۱۴ حدیث ۱۸۶۳)
(۲)رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عمرہ سے عمرہ تک اُن گناہوں کا کفارہ ہے جو درمیان میں ہوئے اور حج ِ مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔(بخاری ج اج۵۸۶حدیثا۷۷۳)
احرام کسے کہتے ہیں؟:
حرام کے لفظی معنیٰ ہیں حرام کرنا کیونکہ  احرام باندھنے والے  پر بعض حلال باتیں بھی حرام ہو جاتی ہیں ۔ 
حج اور عمرہ کے احرام میں  فرق:

حج ہو یا عمرہ احرام باندھنے کا طریقہ دونوں کا ایک ہی ہے ۔ بس  نیت اور اس کے الفاظ میں تھورا سا فرق ہے۔
احرام باندھنےسے پہلے کے کام:
 (۱)ناخن تراشنا    (۲)زیر موئے ناف بالوں کو صا ف کرنا   (۳)مسواک ، وضو ، غسل کرنا      (۴)جسم اور احرام کی چادروں  پر خوشبو  لگا نا سنت ہے۔( وہ خوشبو ایسی ہو جس  سے تَہ نہ جمتی  ہو

احرام باندھنے کا طریقہ:

        مرد سِلے ہوئے کپڑے اُتار کر ایک نئی یا دُھلی ہوئی سفید چادر اوڑ ھیں اور ایسی ہی چادر کا تہبند باندھیں۔ پاسپورٹ یا رقم وغیرہ رکھنے کے لئے  جیب والا نائیلون یا  چمڑے کا بیلٹ باندھ  سکتے ہیں۔

عورت کا احرام:

            عورت  حسب معمول سلے ہوئے کپڑے پہنیں ،دستانے اور موزے بھی  پہن سکتی ہے اور سَر بھی ڈھانپیں مگر چہرے پر چادر نہیں اوڑھ سکتیں کیوں کہ  عورتوں کو کسی ایسی چیز سے منہ چھپانا جو چہرے سے چِپٹی ہو حرام ہے۔ ، غیر مردوں سے چہرہ چھپانے کے لئے ہاتھ  کا پنکھا یا کتاب وغیرہ سےآڑ کر لیں۔

شرک کیاہےاور مشرک کون ہے؟



 شرک کیاہےاور مشرک کون ہے؟


شرک کی تعریف و  اہلِ عرب میں شرک و بت پرستی کی ابتداء کب ہوئی اور شرک کی اقسام:


شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی غیر کو واجبُ الوجود یا لائقِ عبادت سمجھا جائے ۔ حضرت علامہ سعدُ الدین تفتازانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرک کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :’’اَ لْاِشْتِرَا کُ ھُوَاِثْبَاتُ الشَّرِیْکِ فِی الْاُلُوْہِیَّۃِ بِمَعْنٰی وُجُوْبِ الْوُجُوْدِ کَمَا لِلْمَجُوْسِ اَوْ بِمَعْنٰی اِسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ کَمَا لِعَبَدَۃِ الْاَصْنَامِ‘‘ ۔ یعنی ’’شرک یہ ہے کہ خدا کی اُلوہیت (یعنی معبود ہونے) میں کسی کو شریک کرنا اس طرح کہ کسی کو واجبُ الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے یا خدا کے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا خیا ل ہے ۔ (شرح عقائد نسفیہ، مبحث الافعال کلہا بخلق اللہ تعالی والدلیل علیہا، ص ۷۸،)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرِخدا کو معبود یا مستقل بالذّات و واجبُ الوجود نہ جانے ۔ (فتاوی رضویہ جدید ، ۲۱/۱۳۱،)

مردہ سنتا اور دیکھتا ہے



"مردہ سنتا اور دیکھتا ہے"

آیت  ’’ اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى  بیشک تم مُردوں   کو نہیں   سناسکتے ‘‘( سورہ النمل آیت 80)  سے مُردوں   کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں   کا رد: 

              بعض حضرات اس آیت سے مُردوں   کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہیں ، ان کا استدلال غلط ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں   کفار کو مُردہ فرمایا گیا اور اُن سے بھی مُطلَقاً ہر کلام سننے کی نفی مراد نہیں   ہے بلکہ وعظ و نصیحت اور کلامِ ہدایت قبول کرنے کیلئے سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافر مردہ دل ہیں   کہ نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں   اٹھاتے۔ حضرت ملا علی قاری   رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں : ’’مردوں   سے مراد کفار ہیں   اور  (یہاں )  مطلق سننے کی نفی نہیں   بلکہ معنی یہ ہے کہ ان کاسننا نفع بخش نہیں   ہوتا۔ (  مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجہاد، باب حکم الاسرائ، الفصل الاول،  ۷  /  ۵۱۹ ، تحت الحدیث:  ۳۹۶۷ ) 

قرآن پاک کی ضرورت، اہمیت اور فوائد



قرآن پاک کی ضرورت، اہمیت اور فوائد

قرآن کریم وحی الہٰی ہے، یہ قُربِ خداوندی کا ذریعہ ہے، رہتی دنیا تک کےلیے نسخۂ کیمیاء ہے، تمام علوم کا سرچشمہ ہے، یہ ہدایت کا مجموعہ، رحمتوں کا خزینہ اور برکتوں کامنبع ہے، یہ ایسا دستور ہے جس پر عمل پیرا ہوکر تمام مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، ایسا نور ہے، جس سے گمراہی کے تمام اندھیرے دور کیے جاسکتے ہیں ایسا راستہ ہے، جو سیدھا اللہ پاک کی رضا اور جنّت تک لے جاتا ہے، اصلاح و تربیت کا ایسا نظام ہے جو انسان کا تزکیہ کرکے (یعنی انسان کو پاک کرکے) اسے مثالی بنادیتا ہے، ایسادرخت ہے جس کے سائے میں بیٹھنے والا قلبی سکون محسوس کرتاہے، ایساباوفا ساتھی ہے جو قبر میں بھی ساتھ نبھاتا ہے اور حشر میں بھی وفا کا حق اداکرے گا۔ آئیے جانتے ہیں کہ قرآن کریم کیوں نازل ہوا؟ اس کی اہمیت کیاہے؟ اس کے فوائد وثمرات کیاہیں؟

مناسکِ حج و عمرہ کے دوران مختلف مقامات پر پڑھنی جانے والی دعائیں



تحریر
عبداللہ ھاشم عطاری مدنی
03313654057    
 
  مناسکِ حج و عمرہ  کے دوران مختلف مقامات پر پڑھنی  جانے والی دعائیں 

حج کی نیت:

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيْدُ الْحَجَّ، فَيَسِّرْه لِي، وَتَقَبَّلْه مِنِّی، وَأَعِنِّي عَلَيْه، وَبَارِکْ لِي فِيْه، نَوَيْتُ الْحَجَّ، وَأَحْرَمْتُ بِهﷲِ تَعَالٰی.(حصکفی، الدر المختار، کتاب الحج، 2 : 482)
عمرے کی نیت: 
 
اِللّٰھُمَّ اِ نِّی اُ رِیدُ العُمرَۃَ فَیَسِّرھَا لِی وَ تَقَبَّلھَا مِنِّی وَاَعِنِّی عَلَیھَا وَ بَارِک لِی فِیھاط  نَوَیتُ العُمرَۃَ وَاَحرَمتُ بِھَا لِلہِ تَعَالٰی ط

 تلبیہ:
لَبَّیکَ ط اِللّٰھُمَّ لَبَّیکَ ط لَبَّیکَ لاَ شَرِیکَ ط لَکَ لَبَّیکَ ط اِنَّ الحَمدَ وَالنِّعمَۃَلَکَ وَالمُلکَ ط  لاَ شَرِیکَ لَکَ ط 



 جنت کی دعا مانگنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کی سنت ہے

      حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام نے  دعا مانگی وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(سورہ الشعراء آیت 84)  ترجمہ کنز العرفان :  اوربعدوالوں میں میری اچھی شہرت رکھ دے۔ یعنی اے میرے رب! میرے بعد آنے والی امتوں  میں  میری اچھی شہرت رکھ دے، چنانچہ اللہ تعالٰی  نے حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کو یہ عطا فرمایا کہ ہر دین والے اُن سے محبت رکھتے ہیں  اور اُن کی ثناکرتے ہیں ۔ مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ :  ۸۴   ، ص  ۸۲     
       دنیا کی سعادتیں  طلب کرنے کے بعد آخرت کی سعادتیں  طلب کرتے ہوئے حضرت ابراہیم       عَلَیْہِ             الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام نے دعا مانگی  وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ(سورہ الشعراء آیت 85) ترجمہ کنز العرفان: اور مجھے ان میں سے کردے جو چین کے باغوں کے وارث ہیں ۔
 یعنی اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ مجھے ان لوگوں  میں  سے کر دے جنہیں  تو اپنے فضل وکرم سے چین کے باغوں  اورنعمت کی جنت کا وارث بنائے گا۔(       بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ      ۔۔۔       الخ      ،       ۲ / ۲۵۰      ، الحدیث:       ۲۷۹۰      )  

خواہشات کی پیروی دنیا اور آخرت کے لئے بہت نقصان دہ ہے




خواہشات کی پیروی دنیا اور آخرت کے لئے بہت نقصان دہ ہے:      
  نفسانی خواہشات کی پیروی دنیا اور آخرت دونوں  کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ نفسانی خواہشات کی پیروی کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:     
’’       وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ   قصص: ۵۰  )      
ترجمہ کنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔      
            اور ارشاد فرماتا ہے:      
     وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ         
ترجمہ کنزُالعِرفان  : اور نفس کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی بیشک وہ جو       اللہ       کی راہ سے بہکتے ہیں  ان کے لیے سخت عذاب ہے اس بنا پر کہ انہوں  نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔      
            اور ارشاد فرماتا ہے:      
’’       وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا      ‘‘      (      کہف:      ۲۸      )      
ترجمہ   کنزُالعِرفان  : اور اس کی بات نہ مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔    

نیک اعمال کو ضائع نہ کرو



"نیک اعمال کو ضائع نہ کرو"
             
   سورہ محمّد آیت 33 میں نیک عمل کو باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے
 وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ۔ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔
 یعنی ریاکاری یا منافقت کرکے اپنے اعمال باطل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو ریا کاری اور نفاق سے خالی ہو اور صرف اللہ تعالیٰ رضا حاصل کرنے کے لئے   کیا گیا ہو۔   لہٰذا آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفلی نماز یا روزہ یا کوئی اور ہی عمل ہو ،اس پر لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے بلکہ اسے پورا کرے۔ 

انسان کا جسم مرنے کے بعد مٹی ہو جائے گا



"انسان کا جسم مرنے کے بعد مٹی ہو جائے گا"

سورہ ق آیت 3 میں رب العزت ارشادِ فرماتا ہے ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًاۚ-ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ
ترجمہ کنز الایمان: کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جئیں گے یہ پلٹنا دُور ہے۔
کفارِ مکہ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر بھی تعجب کیا اور کہا: مرنے کے بعدجب ہمارے جسم کے اَجزاء زمین میں  بکھر جائیں گے اور ہم بوسیدہ ہو کر مٹی ہو جائیں  گے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ جیسا ابھی ہمارا جسم ہے اور جس طرح ابھی ہم زندہ ہیں  دوبارہ اسی طرح ہمارا جسم بن جائے اور ہم پھر سے زندہ ہو جائیں  ،اس کا واقع ہونا عقلی طور پربعید ہے اور ایسا ہوتا کبھی دیکھا نہیں  گیا۔کفارِ مکہ کی اس بات کا رد کرتے اور انہیں  جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’اُن کے جسم کے جو حصے، گوشت، خون اور ہڈیاں  وغیرہ زمین کھا جاتی ہے ان میں  سے کوئی چیز ہم سے چھپی نہیں  بلکہ ہم ان کے بدن کے ہر حصے کے بارے میں  جانتے ہیں  کہ وہ بکھر کر کہا ں گیا اور کس چیز میں  مل گیا، اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب لوحِ محفوظ ہے جس میں  ان کے اسماء، اَعداد اور جو کچھ ان کے جسم میں  سے زمین نے کھایا سب درج،لکھا ہو ااور محفوظ ہے۔جب ہمارے علم کا یہ حال ہے اور ہم انہیں  ویسے ہی زندہ کرنے پر قادر بھی ہیں  جیسے پہلے تھے تو پھر انہیں  پہلے کی طرح دوبارہ زندہ کر دیا جانا عقل سے کیسے دور ہے۔( ابن کثیر ، ق ، تحت الآیۃ : ۳-۴، ۷ / ۳۶۹ ، ابو سعود ، ق، تحت الآیۃ: ۳
-۴، ۵ / ۶۱۷، خازن، ق، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۴ / ۱۷۴-۱۷۵، ملتقطاً

دل کی سختی کے اسباب اور ا س کی علامات




د ل کی سختی کے اسباب اور ا س کی علامات

   دل کی نرمی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور دل کی سختی بہت بڑی آفت ہے کیونکہ دل کی سختی کا    انجام یہ ہوتا ہے کہ اس میں  وعظ و نصیحت اثر نہیں     کرتا،انسان کبھی اپنے سابقہ گناہوں  کو یاد کر کے نہیں     روتا اور اللہ تعالیٰ کی  آیات میں غورو فکر نہیں   کرتا۔دل کی سختی کے مختلف اَسباب اور علامات ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں :   
(   1   )…   اللہ  تعالیٰ کے ذکر سے غفلت برتنا۔    
(   2   )…   قرآنِ پاک کی تلاوت نہ کرنا۔   
(   3   )…    موت کو یاد نہ کرنا۔   
(   4   )…   بیکار باتیں  زیادہ کرنا۔   
(   5   )…    فحش گوئی کرنا۔   

رسولِ کریم صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی ہر ایک کے لئے کامل نمونہ ہے



رسولِ کریم صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی ہر ایک کے لئے کامل نمونہ ہے:  
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(سورہ احزاب آیت 21)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک تمہارے لئےاللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے جو الله اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور الله کو بہت یاد کرتا ہے۔
 سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سیرت میں  پیروی کیلئے بہترین طریقہ موجود ہے جس کا حق یہ ہے کہ اس کی اقتدا اور پیروی کی جائے،جیسے غزوہِ خندق کے موقع پر جن سنگین حالات کا سامنا تھا کہ کفارِ عرب اپنی بھرپورافرادی اور حَربی قوت کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے اچانک نکل پڑے تھے اور ان کے حملے کو پَسپا کرنے کے لئے جس تیاری کی ضرورت تھی اس کے لئے مسلمانوں  کے پاس وقت بہت کم تھا اور افرادی قوت بھی ا س کے مطابق نہ تھی،خوارک کی اتنی قلت ہو گئی کہ کئی کئی دن فاقہ کرنا پڑتا تھا،پھر عین وقت پر مدینہ منورہ کے یہودیوں  نے دوستی کا معاہدہ توڑ دیا اور ان کی غداری کی وجہ سے حالات مزید سنگین ہو گئے، ایسے ہو شْرُبا حالات میں  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنی کیسی شاندار سیرت پیش فرمائی کہ قدم قدم پر اپنے جانثار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ ساتھ موجود ہیں ، 

دشمنوں پر رحم کرنا اور ان کی خیر خواہی کرنا بزرگانِ دین کا طریقہ ہے



        

دشمنوں  پر رحم کرنا اور ان کی خیر خواہی کرنا بزرگانِ دین کا طریقہ ہے    
     اللہ تعالیٰ کے اولیاء کا طریقہ یہ ہے کہ وہ غصہ پی جاتے ہیں  اور اپنے دشمنوں  پر بھی رحم فرماتے ہیں یہی ایک کامل مومن اور  مُبَلِّغ اسلام کی شان کے لائق  ہے کہ وہ لوگوں  کی دشمنی اور مخالفت کی طرف توجہ نہ کرے بلکہ ہر حال میں  ان کا خیر خواہ رہے اور ان کی اصلاح کی دعا کرتا رہے۔ اسی مناسبت سے یہاں  دشمنوں  پر رحم اور ان کی خیر خواہی کرنے سے متعلق تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت سے 3واقعات اور خود کو تکلیف پہنچانے والوں  کی خیرخواہی کرنے سے متعلق دیگر بزرگانِ دین کے دوواقعات ملاحظہ ہوں ،    

محمد اقبال کی سوانح حیات:



محمد اقبال کی سوانح حیات:

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (٩ نومبر ١٨۷۷ء تا ٢١ اپریل ١٩٣٨ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے ١٩٣٠ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

"نکاح کی سنت کو عام اور آسان کرو"





"نکاح کی سنت کو عام اور آسان کرو "
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ط
         اللہ عزوجل فرماتاہے:
{ فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ  فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً }( پ۴،النساء۳۔  
ترجمہ نکاح کرو جو تمھیں  خوش آ ئیں  عورتوں  سے دو دو اور تین تین اورچار چار۔ اور اگر یہ خوف ہوکہ انصاف نہ کر سکو گے تو ایک سے۔
                اور فرما تا ہے:
                { وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ-اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۳۲)وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-}(2پ۱۸،النور:۳۲۔۳۳)
 ترجمہ اپنے یہاں  کی  بے شوہر والی عورتوں  کا نکاح کر دو اور اپنے نیک غلاموں  اور باندیوں  کا۔ اگر وہ محتاج ہوں  تو اللہ  (عزوجل) اپنے فضل کے سبب اُنھیں  غنی کر دے گا۔ اور اللہ  (عزوجل) وسعت والا علم والا ہے اور چاہیے کہ پارسائی کریں  وہ کہ نکاح کا مقدور نہیں  رکھتے یہاں  تک کہ اللہ  (عزوجل) اپنے فضل سے انھیں  مقدور والا کر دے۔

"امام اہلسنت احمد رضا خان فاضل بریلوی کا تعارف



"امام اہلسنت احمد رضا خان فاضل بریلوی کا تعارف"
مجتہد، مجدد، مصلح، نعت گو شاعر، سائنس دان، فلسفی

امام احمد رضا خان (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقہیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنقی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرع حیثیت سے ناجائز ہے عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی۔ عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔

شیطان اور شہابِ ثاقب



"شیطان اور شہابِ ثاقب "

    اللّٰہ تعالیٰ نے آسمانِ دنیا کو ہر مردود اور لعین شیطان سے محفوظ رکھا ہے لیکن جو شیطان آسمانوں     میں     ہونے والی گفتگو چوری کر کے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں     تو ان کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑ جاتا ہے( یعنی شیطان کو ستاروں کے ذریعہ مارا جاتا ہے)   (   تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ   : ۱۷-۱۸، ۷ / ۴۹۹   )   
اس بات کی دلیل قرآن مجید کی سورہ  الحجر کی آیت 17 اور 18 میں ان الفاظ میں ذکر ہے۔: 
وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ(۱۷)اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ(۱۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا ۔ البتہ جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑجاتا ہے۔

دین اسلام پر ثابت قدمی




"دینِ اسلام پر ثابت قدمی"

سورہ ھود آیت 112 میں ارشادِ خداوندی ہے
فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْاؕ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۱۱۲)
ترجمہ کنز العرفان: تو قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے اور اے لوگو سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
یعنی اے حبیب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے دین پر عمل کرنے اور اس کے دین کی دعوت دینے پر ایسے ثابت قدم رہیں جیسے آپ کے رب          عَزَّوَجَلَّ  نے آپ کو حکم دیا ہے اور  آپ کی امت میں سے جو آپ پر ایمان لایا ہے اسے بھی چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے اَحکام کی بجا آوری پر ثابت قدم رہے۔            (     خازن، ہود، تحت الآیۃ:      ۱۱۲     ،      ۲      /      
۳۷۳     ) 

عدل اور انصاف




"عدل اور انصاف"

        سورہ النحل آیت 90 میں ارشادِ خدا وند ہے
      اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ 
بیشک اللّٰہ عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے۔}
عدل اور انصاف کا (عام فہم) معنی یہ ہے کہ ہر حق دار کو اس کا حق دیاجائے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے ، اسی طرح عقائد، عبادات اور معاملات میں  اِفراط و تفریط سے بچ کر درمیانی راہ اختیار کرنا بھی عدل میں  داخل ہے جیسے بندہ نہ تو دہریوں  کی طرح اللّٰہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرے اور نہ مشرکوں  کی طرح اللّٰہ  تعالیٰ کو شریک ٹھہرانے لگے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ  اللّٰہ تعالیٰ کو موجود، واحد اور لاشریک مانے، اسی طرح نہ تو یہ نظریَہ رکھے کہ       اللّٰہ  تعالیٰ مومن بندے کے کسی گناہ کا مُؤاخذہ نہیں  فرمائے گا اور نہ ہی یہ عقیدہ رکھے کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ جہنم میں  رہے گا بلکہ یہ عقیدہ رکھے کہ گنہگار مسلمان کا معاملہ اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر مَوقوف ہے وہ چاہے تواسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے اور
 کبیرہ گناہ کرنے والا مسلمان ہے، وہ اگر جہنم میں  گیا تو ہمیشہ جہنم میں  نہ رہے گا بلکہ اپنے گناہوں  کی سزا پوری ہونے کے بعد جنت میں  داخل ہو گا۔ یونہی بندہ عبادات میں  اس قدر مصروف نہ ہو جائے کہ اس وجہ سے بیوی بچوں ، عزیز رشتہ داروں،  پڑوسیوں  اور دیگر لوگوں  کے شرعی حقوق ہی ادا نہ کر سکے اور نہ عبادات سے اس قدر 

ریشمی لباس اور سونے چاندی کا زیور دنیا میں صرف عورتوں کے لئے حلال ہے



ریشمی لباس اور سونے چاندی کا زیور دنیا میں  صرف عورتوں  کے لئے حلال ہے

            یاد رہے کہ ریشمی لباس اور سونے چاندی کے کنگن جنتی لباس ہیں  ، دنیا میں  عورتوں  کیلئے حلال اور مردوں  کیلئے حرام ہیں ۔ اس بارے میں  بکثرت اَحادیث ِ مبارکہ ہیں ،ان میں  سے 4اَحادیث درج ذیل ہیں ۔
(1)… حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’سونا اور ریشم میری اُمت کی عورتوں  کے لیے حلال ہے اور مَردوں  پر حرام۔( نسائی، کتاب الزینۃ، تحریم لبس الذہب، ص۸۳۶، الحدیث: ۵۲۷۵)

ظلم کے مطابق سزا دیناعدل و انصاف اور معاف کر دینابہترہے




ظلم کے مطابق سزا دیناعدل و انصاف اور معاف کر دینابہترہے: 
  
 جو شخص جتنا ظلم کرے اسے اتنی ہی سزا دینا عدل و انصاف ہے، لیکن ممکنہ صورت میں  بدلہ لینے کی بجائے ظالم کو معاف کر دینا بہر حال بہتر اور افضل ہے کیونکہ معاف کرنے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے، چنانچہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے:  ’’ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ   ‘‘   (   بقرہ   :۱۹۴   )   
ترجمہ کنزُالعِرفان:  توجو تم پر زیادتی کرے اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہواور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔ 

موت اور قیامت کا وقت چھپائے جانے کی حکمت



اور قیامت کا وقت چھپائے جانے کی حکمت

سورہ طہ آیت 15 میں ارشادِ خداوندی ہے:
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى(۱۵)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک قیامت آنے والی ہے ۔ قریب ہے کہ میں اسے چھپارکھوں تاکہ ہر جان کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے۔
بیشک قیامت لازمی طور پر آنے والی ہے اور قریب تھا کہ    اللہ  تعالیٰ اسے سب سے چھپا کر رکھتا اور یہ فرما کر ب
  کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ دیتا کہ بے شک قیامت آنے والی ہے، یعنی لوگوں   کو اِس بات کا علم ہی نہ ہوتا کہ کوئی قیامت کا دن بھی ہے  (اگر ایسا ہوتا تو لوگ بالکل ہی 

شیاطین انس و جن




"شیاطین انس و جن"

رب تعالیٰ سورہ الحج آیت 3 میں ارشاد فرماتا ہے
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِـعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ(۳)
ترجمہ کنز العرفان: اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم کے جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔
آیت کا شان نزول:
اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں  نازل ہوئی جو بڑا ہی جھگڑالو تھا اور فرشتوں     کو خدا کی بیٹیاں  اور قرآنِ مجید کو گزشتہ لوگوں کے قصے بتاتا تھا اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا منکر تھا ۔

وزن اور میزان



"وزن اور میزان"

 سورہ الانبیاء آیت 47 میں ارشادِ ربانی ہے
وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ-وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ(۴۷)
  ترجمۂ کنز العرفان      
اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں گے تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگااور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو گی تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کیلئے کافی ہیں ۔

جامعۃ المدینہ دعوتِ اسلامی کا تعارف



جامعۃ المدینہ دعوتِ اسلامی کا تعارف
 
الحمد لله رب العالمين و الصلوة و السلام عليٰ سيد المرسلين
اما بعد فاعوذ بالله من الشيطٰن الرجيم بسم الله الرحمٰن الرحيم
فرمانِ امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ: ’’جامعۃ المدینہ  دعوت اسلامی کا مغز ہے

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو






"والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو"

سورہ  بنی اسرائیل آیت 23 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے 
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)
ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا ۔

ولی اللہ کون۔۔۔۔؟



ولیاولی کون۔۔۔۔۔؟ 

سورہ یونس آیت 62 اور 63 میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)
  ترجمۂ کنز العر فان             
سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔
                         وَلِیُّ اللّٰہ کون؟
  لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاءسے بناہے جس کا معنی قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ             عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اَولیاء کی ہے،       بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا

عذاب قبر حق ہے




"عذاب قبر حق ہے"
  ۔ بعض بے علم لوگ اور منکرینِ حدیث عذاب ِقبر کا انکار کرتے ہیں یہ صریح گمراہی ہے ۔ اِس بارے میں اَحادیث و آثار بکثرت ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔     
(1)…     حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں  اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنائے۔ (     مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب عرض مقعد المیّت من الجنّۃ او النار علیہ۔۔۔ الخ، ص     ۱۵۳۴     ، الحدیث:      ۶۸(۲۸۶۸)     )     
(2)…     حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      دو قبروں کے پا س سے گزرے تو ارشاد فرمایا ’’ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ کسی (ایسے) بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دئیے جا رہے (جن سے بچنا مشکل ہو)۔پھر ارشاد فرمایا’’کیوں نہیں ! (بے شک وہ گناہ معصیت میں بڑا ہے) ان میں سے ایک چغلی کھایا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔ پھر آپ نے ایک سبز ٹہنی توڑی اور اس کے دو حصے کئے ،پھر ہر قبر پرا یک حصہ گاڑ دیا، پھر فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی شاید ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے۔(      بخاری، کتاب الجنائز، باب عذاب القبر من الغیبۃ والبول،      ۱ / ۴۶۴     ، الحدیث:      ۱۳۷۸     )      
(3)…     حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ      فرماتے ہیں کہ ہم حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ ایک انصا ری صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ      کے جنازے میں نکلے ،جب قبر تک پہنچے تو وہ ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی چنانچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے اردگرد اس طرح خاموشی سے بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے دستِ مبارک میں ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ زمین کرید نے لگے اور سرِ انور اٹھا کر دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمایا ’’     اِسْتَعِیْذُوْا بِاللہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ  ‘‘ قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔(      ابوداؤد، کتاب السنّۃ، باب فی المسألۃ فی القبر وعذاب القبر،      ۴ / ۳۱۶     ، الحدیث:      ۴۷۵۳     )     
(4)…     حضرت امّ مبشر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ میں بنو نجار کے ایک باغ میں تھی اور اس میں بنو نجار کے زمانۂ جاہلیت میں مرنے والوں کی قبریں تھیں اس وقت میرے پا س رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      تشریف لائے، پھر جاتے ہوئے ارشاد فرمایا اِسْتَعِیْذُوْا بِاللہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قبر کے عذاب سے  اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ میں نے سنا تو عرض کی یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’ہاں ! مردے اپنی قبروں میں ایسا عذاب دیئے جاتے ہیں جسے جانور سنتے ہیں۔(     معجم ا لکبیر، امّ مبشر الانصاریۃ،      ۲۵ / ۱۰۳     ، الحدیث:                 ۲۶۸     )     
(5)…     حضرت ابو ہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     دعا مانگا کرتے ’’  اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ     ‘‘   اے  اللہ عَزَّوَجَلَّ  ، میں عذابِ قبر سے، جہنم کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ لیتا ہوں۔(     بخاری، کتاب الجنائز، باب التعوّذ من عذاب القبر،      ۱ / ۴۶۴     ، الحدیث:      ۱۳۷۷     )     
 

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا تعارف "




" مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا تعارف "

تاریخ پیدائش و مقامِ پیدائش:  
 بدایوں شریف کو جن ہستیوں کے مقام پیدائش ہونے کا شرف حاصل ہے ا ن میں ایک ذات مشہورمُفسِّرقراٰن،حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہِ رحمۃُ اللہِ الْقَویکی بھی ہے۔ آپ کی ولادت صبح ِصادق کی پُرنور اور بابرکت ساعتوں میں شوّالُ المکرّم 1314ھ کو محلہ کھیڑہ بستی اوجھیانی (بدایوں،یوپی ہند) میں ہوئی۔ (حالاتِ زندگی،حیاتِ سالک،ص64)

 تعلیم و تربیت:
 آپ نے قراٰنِ پاک سےلے کر فارسی کی نصابی تعلیم اور درسِ نظامی کی ابتدائی کُتُب اپنے والدِگرامی حضرت مولانا محمد یار خان بدایونی سے پڑھیں،مدرسہ شمسُ العلوم میں علامہ قدیر بخش بدایونی علیہِ رحمۃُ اللہِ الْقَویکی نگرانی میں تین سال تک تعلیم حاصل کی پھر مختلف درس گاہوں میں پڑھا اور آخر کار جامعہ نعیمیہ  (مُراد آباد، ہند) میں داخلہ لے کر خلیفۂ اعلیٰ حضرت صدرُ الافاضل مفتی سیّد
 محمد نعیمُ الدّین مراد آبادی اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت علامہ حافظ مشتاق احمد صدیقی کانپوری رحمۃُ اللہِ  تعالٰی علیہِما جیسے شفیق اور مہربان اَساتِذَہ کے زیرِ سایہ رہ  کرعلم و عمل کی دولت سے فیض یاب ہوئے اور 19 برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی۔ (حالاتِ زندگی، حیاتِ سالک، ص69 تا 80 ملخصاً)

قرآن مجید میں جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال بیان کرنے کا مقصد




قرآن مجید میں جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال  بیان کرنے کا مقصد:              
            قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے، ان کے مکالمے، جنتیوں کی نعمتیں اور جہنمیوں کے عذاب، جنتیوں کی خوشیاں اور جہنمیوں کی حسرتیں یہ سب چیزیں بیان کی گئیں۔ آیات میں جو کچھ بیان ہوا اس میں بنیادی طور پر مسلمانوں اور کافروں کے انجام کا بیان کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ اصحاب ِ اعراف کا بھی بیان ہے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے۔ اب یہاں مسلمانوں کا ایک وہ گروہ بھی ہوگا جن کے گناہ زیادہ اور نیکیاں کم ہوں گی اور یونہی وہ لوگ بھی ہوں گے جو نیکیوں کے باوجود کسی گناہ پر پکڑے جائیں گے۔ ان تمام چیزوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو کفر سے بچنے کی کوشش کرنی 
چاہیے،

آخرت میں کامیابی کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔




آخرت میں کامیابی کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔؟
آدمی کو چاہئے کہ وہ فلاح و کامیابی کے راستے پر چلے اور وہاں تک پہنچے جہاں نیک لوگ پہنچے اور اس کا سب سے بہترین راستہ فوری طور ر اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ کے لئے نیک اعمال کرنا ہے۔
امام محمد غزالی        رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ        فرماتے ہیں ’’زندگی کی ہر گھڑی بلکہ ہر سانس ایک نفیس جوہر ہے جس کا کوئی بدل نہیں ،وہ اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ تجھے ابدی سعادت تک پہنچا دے اور دائمی بدبختی سے بچا لے ا س لئے ا س سے زیادہ نفیس جوہر اور کیا ہو سکتا ہے، اگر تم اسے غفلت میں ضائع کر دو گے توواضح نقصان اٹھاؤ گے اور اگر اسے گناہ میں صرف کرو گے تو واضح طور پر ہلاک ہو جاؤ گے۔ اب اگر تم ا س مصیبت پر نہیں روتے تو یہ تمہاری جہالت ہے اور جہالت کی مصیبت تمام مصیبتوں سے بڑ ھ کر ہے۔ (افسوس) لوگ غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں ،جب موت آئے گی تووہ جاگ جائیں گے ،اس وقت ہر مفلس کو اپنے اِفلاس کا اور ہر مصیبت زدہ کو اپنی مصیبت کا علم ہو جائے گا لیکن ا س وقت اس کا ازالہ نہیں ہو سکے گا۔       (        احیاء علوم الدین، کتاب التوبۃ، الرکن الاول فی نفس التوبۃ، بیان انّ وجوب التوبۃ عام فی الاشخاص۔۔۔ الخ،        ۴ / ۱۵)   

مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ کا تعارف"




"مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ کا تعارف"

تاریخ و مقام ولادت: 
پاکستان کی سر زمین پنجاب نے بہت سے جید علماء کرام کو پیدا کیا ہے ان ہی میں ایک قبلہ مفتی صاحب بھی ہیں آپ صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں 6 جون 1977 کو پیدا ہوئے۔
اسم گرامی و ولدیت:
محمد قاسم بن حاجی محمد عبداللہ
لقب: 
شیخ الحدیث والتفسیر،مفتیٔ اہلسنت۔ آپ استاد الاساتذہ ہونے کے ساتھ ساتھ مفتی المفتیین بھی ہیں۔
کنیت :
ابو الصالح۔

عذاب قبر حق ہے




"عذاب قبر حق ہے"
  ۔ بعض بے علم لوگ اور منکرینِ حدیث عذاب ِقبر کا انکار کرتے ہیں یہ صریح گمراہی ہے ۔ اِس بارے میں اَحادیث و آثار بکثرت ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔     
(1)…     حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      نے ارشاد فرمایا ’’اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں   اللہ  تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنائے۔ (     مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب عرض مقعد المیّت من الجنّۃ او النار علیہ۔۔۔ الخ، ص     ۱۵۳۴     ، الحدیث:      ۶۸(۲۸۶۸)     )    

حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر عذاب نازل ہونے کا واقعہ



حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر عذاب نازل ہونے کا واقعہ:
حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام     کی قوم پر عذاب نازل ہونے کے واقعے کواللہ تعالیٰ قرآن مجید کی سورہ الاعرف کی آیت 72 میں آئیں الفاظ میں بیان کرتا ہے
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠(۷۲)
ترجمہ کنز العرفان: تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت کے ساتھ نجات دی اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے۔
  واقعہ:               
    اس کامختصر واقعہ یہ ہے کہ قومِ عاد احقاف میں رہتی تھی، احقاف عمان اور حضر موت کے درمیان علاقہ یمن میں ایک ریگستان ہے۔ قومِ عاد نے زمین کو فِسق سے بھر دیا تھا۔ یہ لوگ بت پرست تھے ان کے ایک بت کا نام’’ صُدَائ‘‘اور ایک کا ’’صُمُوْد‘‘ اور ایک کا ’’ ہَبائ‘‘ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں حضرت ہود     عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو معبوث فرمایا

"جہاد کی فضیلت و ترغیب



"جہاد کی فضیلت و ترغیب"

     اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت ہے کہ مسلمانوں کی جماعت صابر رہےتومدد ِالٰہی سے دس گنا کافروں پر غالب رہے گی کیونکہ کفار جاہل ہیں اور ان کی جنگ سے غرض نہ حصولِ ثواب ہے نہ خوف ِعذاب، جانوروں کی طرح لڑتے بھڑتے ہیں تو وہ للہیت کے ساتھ لڑنے والوں کے مقابل کیا ٹھہر سکیں گے۔ (     مدارک، الانفال، تحت الآیۃ:      ۶۵     ، ص     ۴۲۰     )  بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر فرض کردیا گیا کہ مسلمانوں کا ایک فرددس افراد کے مقابلہ سے نہ بھاگے، پھر آیت ’’      اَلْـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ     ‘‘ نازل ہوئی تو یہ لازم کیا گیا کہ ایک سو مجاہدین دو سو 200 لوگوں کے مقابلے میں قائم رہیں۔     (     بخاری، کتاب التفسیر، باب الآن خفّف اللہ عنکم۔۔۔ الخ،                 ۳ / ۲۳۱     ، الحدیث:      ۴۶۵۳     )           
یعنی دس گنا سے مقابلہ کی فرضیت منسوخ ہوئی اور دو گنا کے مقابلہ سے بھاگنا ممنوع رکھا گیا۔  

مصائب کی دوری کے لئے نیک اعمال کرنے جائز ہیں



مصائب کی دوری کے لئے نیک اعمال کرنے جائز ہیں :    
   دنیاوی مصائب دور کرنے کے لئے نیک اعمال کرنے جائز ہیں یعنی     اللہ     تعالیٰ کو راضی کرنے کیلئے عمل کیا جائے تاکہ وہ اپنی رحمت فرماتے ہوئے ہماری حاجت پوری کردے، اسی لئے بارش کیلئے نمازِ اِستِسقاء اور گرہن میں نمازِ کسوف پڑھتے ہیں۔ یہاں ہم ظاہری اور باطنی مصائب کی دوری کے لئے احادیث میں مذکور چند اعمال ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان پر عمل کر کے اپنے مصائب دور کرنے کی کوشش کریں۔    
(    1    )…    امُّ المؤمنین حضرت امِّ سلمہ    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا         فرماتی ہیں :میں نے سیدُ المرسلین     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ         اللہ     تعالیٰ کے حکم کے مطابق ’’     اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ     ‘‘     پڑھے         (اور یہ دعا کرے)     ’’    اَللّٰہُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا    ‘‘ا ے     اللہ    !میری ا س مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ‘‘تو     اللہ     تعالیٰ اس کو اس سے بہتر بدل عطا فرمائے گا۔     (    مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ، ص     ۴۵۷    ، الحدیث:     ۳         (۹۱۸)    )    
(    2    )…    حضرت     عبداللہ     بن عمر    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا     سے روایت ہے،     رسولُ اللہ         صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے ارشاد فرمایا ’’ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ عرض کی گئی:     یا         رسولَ         اللہ     !     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    ،     ان دلوں کی صیقل کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’ موت کی زیادہ یاد اور قرآنِ کریم کی تلاوت۔     (    شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ،     ۲     /     ۳۵۲    ، الحدیث:     ۲۰۱۴    )    
(    3    )…    حضرت     عبداللہ     بن مسعود     رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    سے روایت ہے، نبی کریم     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص روزانہ رات کے وقت سورہ ٔواقعہ پڑھے تو وہ فاقے سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔    (     شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات،     ۲     /     ۴۹۲    ، الحدیث:     ۲۵۰۰    )    
(    4    )…    حضرت عطاء بن ابی رباح     رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ     فرماتے ہیں ’’ مجھے خبر ملی ہے کہ حضور پر نور    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے ارشاد فرمایا ’’ جو دن کے شروع میں سورہ  ٔ    یٰسٓ     پڑھ لے تو اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی۔     (    دارمی،کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل یٰس،     ۲     /     ۵۴۹    ، الحدیث:     ۳۴۱۸    )    

دعا کے کی تعریف و فضائل و فوائد اور دعا میں حد سے بڑھنے کی ممانعت


            
 دعا کے کی تعریف و فضائل و فوائد اور دعا میں حد سے بڑھنے کی ممانعت
اللہ تعالیٰ قرآن کی سورہ الا عرف آیت 55 میں ارشاد فرماتا 
 اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ۔
ترجمۂ کنز العرفان: اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہ آواز سے دعا کرو ۔ بیشک وہ حد سے بڑھنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔
دعا کسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟
    دُعا      اللہ      تعالیٰ سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں اور یہ عبادت میں داخل ہے کیونکہ دُعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجزو محتاج اور اپنے پروردگار کو حقیقی قادر و حاجت روااعتقاد کرتا ہے اسی لئے حدیث شریف میں وارد ہوا ’’      اَلدُّعَآئُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ      ‘‘ دعا عبادت کا مغز ہے۔      (     ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل الدعائ،      ۵      /      ۲۴۳     ، الحدیث:      ۳۳۸۲     )   

"تقدیر الٰہی"




"تقدیر الٰہی"
قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَاۚ-هُوَ مَوْلٰىنَاۚ-وَ عَلَى اللّٰهِ فلأتوكل الْمُؤْمِنُوْنَ(۵۱)
  ترجمۂ کنز العرفان          
    ترجمہ کنز العرفان : تم فرماؤ: ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہ ہمارا مددگار ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
         یعنی اے حبیب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عل وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ، آپ ان لوگوں سے فرما دیں جو آپ کو مصیبت و تکلیف پہنچنے پر خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں وہی پہنچے گا جو        اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اور ہم پر مقدر فرما دیا اور ا س نے اسے لوحِ محفوظ میں لکھ دیا کیونکہ قیامت تک ہونے والا ہر اچھا برا کام لکھ کر قلم خشک ہو چکا تو اب کوئی شخص ا س بات پر قادر نہیں کہ وہ اپنی جان سے ا س مصیبت کو دور کر دے جو اس پر نازل ہونی ہے اور نہ ہی کوئی ا س بات پر قادر ہے کہ وہ خود کوایسا فائدہ پہنچا 
سکے جو اس کے مقدر میں نہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہمارا حافظ و ناصر ہے اور وہ ہماری زندگی اور موت ہر حال میں ہماری جانوں سے زیادہ ہمارے قریب ہے اور مسلمانوں کو اپنے تمام اُمور میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔   

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے۔۔۔۔۔



  رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر نے والا کافر ہے۔۔۔۔۔   

اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی سورہ التوبہ آیت 66 میں ارشاد فرماتا ہے
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ-اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآىٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠۔
ترجمہ کنز العرفان: بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔
تفسیر خازن میں اس آیت کے تحت مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی جانب سے پیش کردہ عذر و حیلہ قبول نہ کیا اور ان کے لئے یہ فرمایا کہ بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔  ) خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ:       ۶۶      ،       ۲ / ۲۵۷      ، ملخصاً  )

قرب الٰہی کیسے حاصل ہو۔۔۔۔۔؟





قرب الٰہی کیسے حاصل ہو۔۔۔۔۔۔؟

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے    وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِؕ-اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْؕ-سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۹۹)
ترجمہ کنز العرفان: اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں نزدیکیوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ سن لو! بیشک وہ ان کے لیے (اللہ کے) قرب کا ذریعہ ہیں ۔ عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ( سورہ التوبہ آیت 99  )  
  یعنی بے شک ان کا خرچ کرنا ان کے     لئے     اللہ     تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا حاصل ہونے کا ذریعہ ہے کیونکہ انہوں نے اخلاص کے ساتھ اپنا مال خرچ کیا اور اپنے اس عمل کو         رسولُ اللہ         صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی طرف وسیلہ بنایا عنقریب     اللہ         عَزَّوَجَلَّ     انہیں اپنی رحمت یعنی جنت     میں داخل فرمائے گا، بیشک     اللہ         عَزَّوَجَلَّ     اپنے اطاعت گزار بندوں کو بخشنے والا اور ان پرمہربان ہے۔     (    جلالین مع صاوی، التوبۃ، تحت الآیۃ:     ۹۹    ،     ۳     /     ۸۳۱    )  

حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اُلُوہِیَّت کی تردید



حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اُلُوہِیَّت کی تردید 

حضرت   عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا        نے فرمایا کہ نجران کے عیسائیوں نے یہ بات کہی ہے اور نصرانیوں کے فرقہ یعقوبیہ وملکانیہ کا یہی مذہب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو  اللہ بتاتے ہیں کیونکہ وہ حُلُول کے قائل ہیں اور ان کا اعتقاد ِباطل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام        میں حلول کیا ہوا ہے جیسے پھول میں خوشبو اور آگ میں گرمی نے،مَعَاذَ اللہ ثُمَّ مَعَاذَاللہ۔ اللہ  تعالیٰ اس سے پاک ہے۔        اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حکمِ کفر دیا اور اس کے بعد اُن کے مذہب کا فساد بیان فرمایا۔       
اللہ پاک قرآن مجید کی سورہ  المائدہ کی آیت 17 میں ارشاد فرماتا ہے لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَؕ-قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاؕ-وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔
ترجمہ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح بن مریم ہے۔ تم فرما دو: اگر اللہ مسیح بن مریم کواور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمالے تو کون ہے جو اللہ سے بچانے کی طاقت رکھتا ہے؟ اور آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر شے پر ہے۔

 اس آیت مبارکہ میں حضرت عیسیٰ   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَا کی الوہیت کی کئی طرح تردید ہے        
(1)… حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو موت آسکتی ہے، اور جسے موت آ سکتی ہے وہ خدا نہیں ہو سکتا۔       
(2)… آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ماں کے شکم سے پیدا ہوئے، اور جس میں یہ صفات ہوں وہ اللہ نہیں ہو سکتا ۔       
(3)…        اللہ تعالیٰ تمام آسمانی اور زمینی چیزوں کا مالک ہے اور ہر چیز رب عَزَّوَجَلَّ  کا بندہ ہے، اگرکسی میں        اللہ تعالیٰ نے حلول کیا ہوتا تووہ اللہ  کا بندہ نہ ہوتا حالانکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   خود ا س بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ  اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔       
(4)…       اللہ  تعالیٰ از خود خالق ہے، اگر آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  میں اُلُوہیت ہوتی تو آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام        بھی از خود خالق ہوتے۔       

" بخل کی تعریف و مذمت و بخل کا علمی اور عملی علاج "




" بخل کی تعریف و مذمت و بخل کا علمی اور عملی علاج "

 بخل کی تعریف    :     
بخل کی تعریف یہ ہے کہ جہاں شرعاً یا عرف وعادت کے اعتبار سے خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے۔ زکوٰۃ صدقہ فطر وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً واجب ہے اور دوست احباب،عزیز رشتہ داروں پر خرچ کرنا عرف و عادت کے اعتبار سے واجب ہے۔    (    احیاء علوم الدین، کتاب ذمّ البخل وذمّ حبّ المال، بیان حدّ السخاء والبخل وحقیقتہما،         ۳ / ۳۲۰    ،     ملخصاً    )        

"حضرت عیسیٰ علیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور معجزات "




"حضرت عیسیٰ علیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   اور معجزات "  
 
    اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور دلیل کے طور پر اس زمانے کے حالات کے موافق بہت سے معجزات عطا فرمائے۔ آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ      عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے ۔ یہی بات موجودہ بائبل میں بھی موجود ہے۔ آیت میں حضرت عیسیٰ      عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام      کے پانچ معجزات کا بیان ہے۔ (1) مٹی سے پرندے کی صورت بنا کر پھونک مارنا اور اس سے حقیقی پرندہ بن جانا، (2)پیدائشی اندھوں کو آنکھوں کا نور عطا فرما دینا، (3)کوڑھ کے مریضوں کو شفایاب کردینا، (4)مردوں کو زندہ کردینا، 
(5)غیب کی خبریں دینا۔      
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے معجزات کی تفصیل   
(1)…پرندے پیدا کرنا: جب حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام      نے نبوت کا دعویٰ کیااور معجزات دکھائے تو لوگوں نےدرخواست کی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام      ایک چمگادڑ پیدا کریں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت بنائی پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اڑنے لگی ۔           (     خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ     : ۴۹، ۱ / ۲۵۱)