جنگِ بدر کا پس منظر:
قریش کی اسلام:
اسلام نے مکہ کی سرزمین میں اعلان حق کیا تو معاشرے کے مخلص ترین افراد ایک ایک کرکے داعی اسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے۔ وہ لوگ جن کے مفادات پرانے نظام سے وابستہ تھے تشدد پر اتر آئے نتیجہ ہجرت تھا۔ لیکن تصادم اس کے باوجود بھی ختم نہ ہوا۔ اسلام مدینہ میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور یہ بات قریش مکہ کے لیے بہت تکلیف دہ تھی اور وہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے اور مسلمان ہر وقت مدینہ پر حملے کا خدشہ رکھتے تھے۔ اس صورت حال کی نزاکت کا یہ عالم تھا کہ صحابہ ہتھیار لگا کر سوتے تھے اور خود کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کی حفاظتی تدابیر اختیار کرتے تھے۔
فضائل و مناقب حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ
May 10, 2020 Abdullah Hashim Madni
فضائل و مناقب حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ
محترم قارئین : تین (3) ہجری میں پندرہ (15) رمضان المبارک کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت ہوئی ، آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پہلی اولاد ہیں ۔ قُرب ولادت کے وقت نبی کریم عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام ایمن اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو سیدہ عالم کی دیکھ بھال کے لئے مامور کیا ۔ انہوں نے آیت الکرسی اور تینوں معوذ پڑھ کر ان کو دم کیا ، بچے کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتویں دن نومولود کے عقیقے کے موقع پردو دُنبے ذبح کئے اور اپنی پیاری بیٹی سے فرمایا کہ بچے کے سر کے بال اتروائیں اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کریں ۔ جب آپ کا سر منڈا کر بالوں کا وزن کیا گیا تو یہ وزن ایک درہم کے برابر تھا۔ اتنی چاندی خیرات کی گئی ۔ دایہ کو دنبے کی ران اور ایک دینار دیا گیا ۔ سرمنڈانے کے بعد نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے نومولود کے سر پر خوشبو ملی اور اسی دن آپ کا نام رکھا گیا اور ختنہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی آپ کے کان میں اذان کہی تھی ۔ (ضیاء النبی ، مدارج النبوۃ ، سیرت حلبیہ)
رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم حلیہ مُبارک - Abdullah Madni 1991
May 09, 2020 Abdullah Hashim Madni
"رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم حلیہ مُبارک"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکار دوجہاں ،مختار کون مکاں،باعث تخلیق کون مکاں،آقائے دو جہاں ،فخر موجودات ،زینت بزم کائنا ت،حضور پرنور، شافع یوم النشور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا رحمت بن کے آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عضوعضو معجزہ تھا۔
-------------------------------------------------------------------------------------------
ہم یہاں اس عظیم ہستی کے جسم اطہر اعضاء کی ہیت و بناوٹ و کمالات ملاحظہ کریں گے کہ
جو سارے عالموں کے لئے رحمت بن کے آئے جو ہر دکھی وبے سہارا کا سہارا بنے جنہوں نے لوگوں کے مصائب و آلام کا مداوا کیا, لوگوں کی مشکلات دور کیں ان کی خواہشات پوری کیں, بن مانگے عطاء کرتے رہے ۔
-------------------------------------------------------------------
آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اَدَب - Abdullah Madni 1991
May 09, 2020 Abdullah Hashim Madni
آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اَدَب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جُنید بَغْدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (شروع میں)خلیفہ بغداد کے درباری پہلوان اور پوری مُملکت کی شان تھے۔ ایک دن دربار لگا ہوا تھا کہ چوبدار نے اطلاع دی کہ صحن کے دروازے پر صبح سے ایک لاغَر و نیم جان شخص برابر اِصرار کررہا ہے کہ میرا چیلنج جُنید (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )تک پہنچا دو ،میں اس سے کُشتی لڑنا چاہتا ہوں۔لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی مگر خلیفہ نے درباریوں سے باہمی مشورہ کے بعدکُشتی کے مقابلے کیلئے تاریخ و جگہ مُتَعَیَّن کردی۔
انوکھی کشتی مقابلے کی تاریخ آتے ہی بَغداد کا سب سے وسیع میدان لاکھوں تماشائیوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ اعلان ہوتے ہی حضرت جُنید بَغْدادی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) تیار ہوکر اَکھاڑے میں اُتر گئے۔ وہ اجنبی بھی کمر کَس کر ایک کنارے کھڑا ہوگیا۔ لاکھوں تماشائیوں کیلئے یہ بڑا ہی حیرت انگیز منظر تھا ،ایک طرف شُہرت یافتہ پہلوان اور دوسری طرف کمزور و نَحیف شخص ۔
امام احمد رضا بریلوی مخالفین کی نظر میں۔
May 09, 2020 Abdullah Hashim Madni
احمد رضا خان بریلوی مخالفین کی نظر میں
از:مولانا کاشف اقبال مدنی قادری رضوی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
انتساب
اعلٰی حضرت امام اہل سنت مجدد اعظم کشتہ عشق رسالت شیخ الاسلام والمسلمین پاسبان ناموس رسالت امام الشاہ محمد احمد رضا خان حنفی بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام جنہوں نے تمام بد مذہبوں کے خلاف جہاد فرما کر اہل اسلام کے ایمان کی حفاظت فرمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور
آفتاب علم و حکمت منبع رشد و ہدایت محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد صاحب قدس سرہ العزیز کے نام جنہوں نے خطہءٰ پنجاب میں عشق رسول کی دولت کو عام کیا۔
نائب محدث اعظم پاکستان پاسبان مسلک رضا حامی سنت ماحی بدعت حضرت مولانا ابو محمد عبدالرشید قادری رضوی علیہ الرحمۃکے نام جنہوں نے بد مذہبوں کے رد کرنے میں فقیر کو خوب دعاؤں سے نوازا۔
مولانا امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور فن تفسیر: - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلّی علٰی رسولہ الکریم ط اعلٰی حضرت عظیم البرکت قدس سرہ ان ہستیوں میں سے ہیں جن کے لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا !
افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علٰی نور من ربہ
یہ شرح صدر ہی تو تھا کہ قلیل عرصہ میں جملہ علوم و فنون سے فراغت پالی ورنہ عقل کب باور کر سکتی ہے کہ چودہ سال کی عمر میں علوم و فنون ازبر ہوں
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
( یہ سعادت بزور بازو نہیں ملتی جب تک کہ بخشنے والا خداوند تعالٰی نہ عطا کرے )
اور یہ علوم و فنون صرف ازبر نہ تھے بلکہ ہر فن پر مبسوط تصانیف موجود ہیں اور وہ بھی کسی سے مستعار نہیں بلکہ قلم رضوی کے اپنے آب دار موتی ہیں اور تحقیق کے ایسے بہتے ہوئے بحر ذخار کو دیکھ کر بڑے بڑے محققین انگشت بدنداں ہو جاتے ہیں۔ آپ کو قلم کا بادشاہ کہا جاتا ہے ۔
علم کیا ہے سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کی نظر میں۔۔۔۔ Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
علم کیا ہے ؟
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
فاضل بریلوی کی نظر میں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تصور علم ایک اہم فلسفیانہ تصور ہے جو کسی بھی صاحب فکر کے تصورات کے فہم کے لئے ضروری ہے ، مولانا احمد رضا خاں بریلوی علم کی ضرورت و اہمیت سے واقف تھے ، ان کی اپنی زندگی بچپن سے بڑھاپے تک حصول علم اور اشاعت علم کا نمونہ تھی ۔
علم کی تعریف :
مولانا احمد رضا خاں بریلوی علم کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں : علم وہ نور ہے جو شے اس کے دائرہ میں آگئی منکشف ہوگئی اور جس سے متلعق ہوگیا اس کی صورت ہمارے ذہن میں مرتسم ہوگئی ۔
قرآن پاک میں اللہ و رسول (جل جلالہ، و صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی صفات - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
قرآن پاک میں اللہ و رسول (جل جلالہ، و صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی صفات
اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات حضور پاک ؐکی عطائی صفات
الرحمن علم القرآن
(پارہ ٢٧،سورہ الرحمن آیت ١،٢)
یعلمھم الکتب وا لحکمۃ
(پارہ ١ ، سورہ البقرہ آیت ،١٢٩)
اللہ اور رسول (جل جلالہ، و صلی اللہ علیہ وسلم) دونوں معلم ہیں
ولکن اللہ یزکی من یشاء
(پارہ ١٨، سورہ النور ،آیت ٢١)
ویزکھیم
(پارہ ١، سورۃ البقرہ آیت ١٢٩)
اللہ اور رسول (جل جلالہ، و صلی اللہ علیہ وسلم) دونوں پاک کرتے ہیں
یا یھا الانسان ما غرک بربک الکریم (پارہ٣٠، سورہ الانفطار، آیت ٦)
انہ لقول رسول کریم
کیا اذان سے پہلے اور بعد درو د و سلام پڑھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔؟: - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
کیااذان سے پہلے اور بعد درو د و سلام پڑھ سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اذان سے پہلے ' اذان کے بعد ' نماز کے بعد ہر وقت صلوٰۃ و سلام بلند آواز سے یا آہستہ پڑھنا جائز ہے۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیماo
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (پارہ ٢٢،سورۃ الاحزاب، آیت ٥٦)
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو درود و سلام پڑھنے کا حکم فرمایا ہے اس میں کسی وقت' جگہ یا کسی خاص صیغہ سے پڑھنے کی پابندی نہیں لگائی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور شجر و حجر پڑھتے تھے ''الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ''
(سیرۃ الحلبیہ ص ٤٩٣ ، جلد ٣، معارج النبوۃ ص ٦٧٧، جلد ٣ ، مشکوٰۃ شریف ، ابوداؤد شریف ص ٣٥١ ، ٢١٦، حزب الصلوٰۃ والسلام محمد ہاشم دیوبندی' فتاویٰ علماء حدیث ص ١٥، جلد ٩)
تراویح آٹھ رکعت ہیں یا بیس -Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
تراویح آٹھ رکعت ہیں یا بیس
من یطع الرسول فقد اطاع اللہ
جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ عزوجل کا حکم مانا ۔
(پ٥سورہ النساء آیت نمبر٨٠)
احادیث مبارکہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان شریف میں ہمیشہ بیس رکعت (تراویح) پڑھتے تھے ۔ وتر کے علاوہ (طبرانی ، بیہقی ج٢ ص٤٩٦ ،مصنف ابی شیبہ ج٢ ص٢٩٤)
حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ ''ہم (صحابہ) حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے ۔
(بیہقی معرفتہ السنن بسند صحیح،آثارالسنن ص٥٥)
حضرت ابوعبد الرحمن سلمیٰ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں قاریوں کو بلایا پھر ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں کو پانچ ترویحے ، بیس رکعتیں پڑھاؤ اور حضرت علی انہیں وتر پڑھاتے تھے ۔ (سنن کبریٰ ،بیہقی ج٢ص٩٦ ٤)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیس رکعت (تراویح) اور تین وتر پڑھتے تھے
(عمدۃ القاری شرح بخاری)
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ الباری شرح نقایہ میں فرماتے ہیں کہ بیس رکعت تراویح پر مسلمانوں کا اجماع ہے کیونکہ بیہقی نے صحیح اسناد سے روایت کی ، صحابہ کرام اور سارے مسلمان سیدنا عمر فاروق ، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے ۔ ثابت ہوا کہ بیس رکعت تراویح پڑھنا یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، سنت صحابہ اور اجماعِ اُمت ہے۔ اس کی مخالفت اللہ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی ہے۔ پاکستانی نجدی غور کریں کہ آج بھی عرب شریف ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بیس رکعت تراویح پڑھائی جاتی ہیں۔
خداچاہتا ہے رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
خداچاہتا ہے رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراض::۔
منکریں شان رسالت دیوبندی وہابی لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب مستطاب "تجلی الیقین" میں جو روایت نقل کی ہے "اے محمد! سب میری رضا چاہتے ہیں اور میں تیری رضا چاہتا ہوں" اس کی کوئی اصل و حوالہ کیا ہے؟۔مطالعہ فرمائیں۔
الجواب::۔
اگرچہ اعلی حضرت فاضل بریلوی جیسی بالغ النظر وسیع المطالعہ مستند شخصیت کا لکھنا ہی اپنی جگہ دلیل و حوالہ ہے لیکن مخالفین پر اتمام حجت کےلئے بیک وقت اس کا ڈبل حوالہ ملاحظہ ہو"فتاویٰ رشیدیہ"صفحہ 374میں ہے۔
سوال::۔ایک روایت بطور حدیث ملک میں مشہور ہے ۔بعض علماء کو دیکھا ہے کہ خطبہ میں بھی پڑھتے ہیں ۔بعض رسالوں میں بھی اس کو دیکھا ہے ۔یہاں تک کہ تکمیل الایمان شیخ عبدالحق محدث دہلوی میں بھی تحت مسئلہ شفاعت مندرج ہے ۔مگر کسی جگہ اس کی سند نہیں دیکھی گئی اور نہ کسی کتاب حدیث شریف سے منقول پایا اور وہ روایت یہ ہے۔۔۔۔
کلھم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاک یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
آیا یہ روایت معتبر ہے یا غیر معتبر اوراس کے معنی کیا ہیں اور معنی اس کے مطابق شرع شریف کے ہیں یا نہیں۔
جواب::۔ اس کی سند صحت بندہ کو معلوم نہیں اورجو اس کے معنی آیت کریمہ" ولسوف یعطیک ربک فترضی " ترجمہ (اور آگے دے گا تجھ کو تیرا رب پھر تو راضی ہو گا۔) کے لیے جائیں تومعنی صحیح ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مقتدائے علماء دیوبند مولوی::.
مولوی رشید احمد گنگوہی کے فتاوی رشیدیہ کا حوالہ بیک وقت دو اہم حوالوں کا مجموعہ ہے۔ پہلا تو یہی گنگوہیصاحب کا حوالہ جنہوں نے اپنے محد ود علم کے مطابق سندوصحت معلوم ہونے کے باوجود روایت کو ضعیف و موضوع و شرک و غیرہ قراردے کر مسترد کرنے کی بجائے اس معنوی طور پر قرآن کی آیت سے صحیح مطابق شرع قرار دیا ہے کہ "ولسوف ےعطیک ربک فترضی"کامفہوم بھی یہی ہے کہ رب تعالیٰ اپنے حبیب کریم کی رضا چاہتا ہے سب کو اپنی مرضی ے سے عطا کرتا ہے اور پیار ے حبیب کو عطا کرتا ہے تو ان کی رضا کے مطابق جب تک ان کی رضا پوری نہ ہوگی رب کی عطا میں کمی نہ ہوگی ۔
شان محبوبیت::۔
دیوبندی وہابی علماء کے شیخ الہند مولوی محمود الحسن دیوبندی کے مذکورہ ترجمہ قرآن کے حاشیہ پر دیوبندی شیخ الاسلام مولوی شبیر احمد عثمانی نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ "تیرا رب تجھ کو دنیا و آخرت میں اس قدر دولتیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا کہ تو پوری طرح مطمئن اور راضی ہو جائے گا"۔
حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محمد راضی نہ ہو گا جب تک اس کی امت کا ایک آدمی بھی دوزخ میں رہے۔"لا ارضی واحد من امتی فی النار"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بارگاہ الہٰی میں کیا محبوبونہ نازوانداز اور امے پر شفقت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں محمد راضی نہ ہو گا جب تک امت کا ایک آدمی بھی دوزخ میں رہے قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ شان محبوبیت اور رضائے مصطفےٰ کی اہمیت جبکہ دوسری طرف انہی دیابنہ وہابیہ کا منافقانہ عقیدہ باطلہ "تقویۃالایمان" میں یوں لکھا ہے کہ"جس کا نام محمد ہے وہ کسی کےچیز کا مختار نہیں" ۔۔۔"پیغمبروں کی خواہش کچھ نہیں چلتی"۔ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا"۔
(تقویۃ الایمان از اسماعیل دہلوی صفحہ 24،49،71 )
کہاں وہ شان محبوبیت اور کہاں یہ نجدی خرافات۔
دوسرا حوالہ:۔
"فتاویٰ رشیدیہ"کے حوالہ میں دوسرا اس سے بھی بہت بڑھ کر اہم حوالہ شیخ المحدثین شیخ محقق علامہ محمد عبدالحق محدث دہلوی کا حوالہ ہے جنہوں نے اپنی کتاب "تکمیل الایمان"میں یہ روایت نقل فرمائی ہے
کلھم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاک یا محمد
اے محمد!سب میری رضا چاہتے ہیں اور میں تیری رضا چاہتا ہوں۔اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے بدیں الفاظ اردو جامہ پہنایا ہے کہ
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمدؐ
اور اسی کے تحت تبرکاً اہلسنت و جماعت کے بین الاقوامی محبوب و مقبول ترجمان کا نام ماہنامہ "رضائے مصطفےٰ" رکھا ہے جو بفضلہٖ تعالی اسی نام کی برکت و نسبت سے نصف صدی سے زائد عرصہ سے شائع ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ ماشاء اللہ۔بارک اللہ۔الحمدللہ تعالیٰ
اگرچہ اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ روایت کا ماخذ و حوالہ ہم نے قرآن وحدیث اور محالفین کی کتب سے متعددمزید حوالوں سے ثابت کر دیا ہے مگر موضوع کی اہمیت اور مضمون کی تکمیل کےلئے مزید حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ::۔
نے "فضیلت سید المرسلین"میں بدیں الفاظ یہی روایت نقل فرمائی ہے۔
یا محمد کل احد یطلب رضائی وانا اطلب رضاک
اے محمد!ہر ایک میری رضا چاہتا ہے اور میں تیری رضا چاہتا ہوں۔
نزہۃ المجالس(جلد2،صفحہ135):۔
میں علامہ عبدالرحمٰن صفوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی علامہ ابن جوزی کے مذکورہ حوالہ سے نقل کیا ہے۔ نیز امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے یہ روایت بھی نقل فرمائی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا
الکلیم یعمل برضاءمولاہ والحبیب یعمل مولاہ برضائہ
کلیم مولیٰ کی رضا پر عمل کرتا ہے اور مولیٰ حبیب کی رضا پر حکم فرماتا ہے۔
تفسیر کبیر(جلد4،صفحہ106):۔
میں فخرالمفسرین امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آیت کریمہ(ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے۔اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری رضاوخوشی ہے۔)کے تحت نقل کیا ہے
یا محمد کل احد یطلب رضائی وانا اطلب رضاک فی الدارین
یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا جس قبلہ میں میری رضا ہے بلکہ فرمایا:اے حبیب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھر دیں گے جس میں تیری رضا ہے۔سبحان اللہ
اللہ اکبر! رب اکبر اپنے رسول کی رضا کا خود طالب ہے۔ خدارا! غور تو کرو کہ خدا خداوند عرش عطیم تو رضائے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا طالب ہے اور تم خوشنودئ خیر الانام کا انکار کر رہے ہو۔اب تو پڑھئے
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمدؐ
اختیارات مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
اختیاراتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت وجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کے حکم کے بغیر نہ کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان، اور اللہ تعالیٰ کی عطاء کے بغیر کوئی کسی چیز کا ذاتی طورپر مالک و مختار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے شمار شانیں اور اختیارات عطا فرمائے ہیں ۔خالق کائنات کا قرآن پاک میں ارشاد ہے ۔ قد نریٰ تقلب وجھک فی السماء فلنولینک قبلۃ ترضھا۔
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی (مرضی اور چاہت) ہے ۔
(سورہ البقرہ ، پارہ٢، آیت ١٤٤)
٭ وما نقموا الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ۔
اور انہیں (کفارو منافقین کو ) کیا بُرا لگا یہی نا کہ اللہ و رسول نے انہیں (مسلمانوں کو) اپنے فضل سے غنی کر دیا۔(پ ١٠۔ رکوع ١٦، سورہ التوبہ آیت ٧٤)
حدیث شریف:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: یا ایھا الناس فرض علیکم الحج فحجوا ۔ اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا ہے پس حج کیا کرو ۔ ایک شخص نے عرض کیا ''اکل عام یا رسول اللہ '' (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے حتیٰ کہ اس آدمی نے تین بار عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لو قلت نعم لو جبت اگر میں ہاں فرما دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ۔ (مشکوٰۃ شریف، کتاب المناسک پہلی فصل)
انما انا قاسم و خازن واللہ یعطی۔ (بخاری و مسلم ، مشکوٰۃ شریف کتاب العلم ، پہلی فصل)
میں تقسیم کرنے والا ہوں اور میرے پاس خزانے ہیں اوراللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے ۔
خالق ِکل نے آپ کو مالک کل بنا دیا
دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں
قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مختار کل بنایا ہے ۔ جس قبلہ شریف کی طر ف منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں یہ قبلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مرضی اور چاہت کی وجہ سے ہی بنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جس کو چاہیں غنی فرما دیں ' جس چیز کو چاہیں حلا ل فرما دیں اور جس کو چاہیں حرام قرار دے دیں ۔ جس کو چاہیں فرض فرما دیں اور جس فرض سے چاہیں رخصت عنایت فرما دیں۔
ہماراعقیدہ:
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت وجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور نبی اکرم نور مجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر انور میں بحیاتِ حقیقی (مع جسم) زندہ ہیں ۔ قانون قدرت کے مطابق موت کا حکم آپ پر طاری ہوا اورآپ کو قبر انور میں اُتاراگیا قانونِ قدرت پورا ہونے کے بعد آپ اُسی طرح مع جسم زندہ و سلامت ہیں ۔
قرآن پاک : النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کی جانوں سے زیادہ ان کے قریب ہیں۔
(پ٢١، رکوع ١٧، سورہ الاحزاب ، آیت ٦)
٭ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاء وک فاستغفرواللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیماo اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبو ب تمہارے حضورحاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کوبہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ (پ ٥، سورہ النساء ، آیت ٦٤)
حدیث شریف :حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر جمعہ کے رو ز درود شریف کی کثرت کیا کرو ، کیونکہ اس دن ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور بے شک جب بھی کوئی مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے تو وہ درود شریف اس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کر دیا جاتاہے ۔ حضرت ابودرداء کہتے ہیں میں نے عرض کیا''کیا وفات کے بعد بھی ؟'' تو آپ ؐنے ارشاد فرمایا ''ہاں وفات کے بعد بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے ۔ پس اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے اسے رزق بھی دیا جاتا ہے''۔ (ابن ماجہ شریف ص ١١٩، مشکوٰۃ شریف کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ)
٭حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''اللہ کے سارے نبی زندہ ہیں اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے ہیں''۔(مسند ابویعلیٰ موصلی جلد ٦ ، ص ١٤٧، شفاء السقام ص ١٧٩، فتح الملھم شرح صحیح مسلم جلد ١، ص ٣٢٩)
سیدی اعلیٰ حضرت کیا خوب عقیدہ بیان فرماتے ہیں کہ:
انبیاء کو بھی اجل آنی ہے مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھراُسی آن کے بعد اُن کی حیات مثل سابق وہی جسمانی ہے
آج کل اگر کسی کو مسلمان کرنا ہو توہم اُسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کرتے ہیں ۔ کلمہ طیبہ کا ترجمہ ''اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ؐ) اللہ کے رسو ل ہیں''۔ لفظ ''ہیں'' ہمیشہ زندہ و موجود کیلئے آتا ہے ' مردہ کیلئے نہیں آتا ۔ پانچ وقت نماز وںمیں بھی زندہ و حاضر و ناظر نبی ؐکی خدمت میں سلام عرض کیا جاتا ہے ۔ ''اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ پر سلام ہواور اللہ کی رحمتیں ''۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر معاذ اللہ حضور نبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زندہ نہیں ہیں تو کلمہ شریف ' نماز' اذان وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کیوں پکارا جاتا ہے؟
شہید کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ شہید زندہ ہے اُسے مردہ گمان بھی نہ کرو ۔ کیا شہید کو موت نہیں آتی؟ کیا اُس کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا ؟ کیا اُسے قبر میں دفن نہیں کیا جاتا؟ سب کچھ کرنے کے باوجود قرآن پاک کا حکم ہے کہ اُسے مردہ نہ کہو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہے اور اُسے روزی دی جاتی ہے ۔لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔ (پارہ ٤ آلِ عمران آیت ١٦٩)
جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلمہ پڑھنے والا ایک عام اُمتی شہید ہونے کے بعد زندہ ہے تو اس پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا عالم کیا ہوگا؟ جہاں خداکی خدائی ہے وہاں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بادشاہی ہے۔ آپ کی نبوت و رسالت کا دور کبھی ختم نہیں ہو گا ۔قیامت تک کلمہ، اذان ، نماز (وغیرہ) میں آپ کے نام کا سکہ جاری رہے گا ۔ جو بدبخت 'بدعقیدہ آپ کی حیات مبارکہ کا انکار کرتا ہے وہ قرآن و احادیث مبارکہ کا منکر ہے۔ وہ کلمہ ،اذان ، نماز میں آپ کا نام لینا چھوڑ دے یا اپنے غلط عقیدہ سے توبہ کر لے۔
ندائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
ندائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
ََََََََََََََََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر قید زمان و مکاں ہر وقت ہر جگہ لفظ یا سے پکارنا 'ندا کرنا ' یا رسول اللہ ' یا حبیب اللہ کہنا جائز و مستحب ہے ۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
یا ایھا النبی 'یا ایھا الرسول یا ایھا المزمل'یا ایھا المدثر
٭ لا تجعلوادعاء الرسول بینکم کدعا ء بعضکم بعضا ط
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔
(پارہ ١٨، سورۃ النور ، آیت ٦٣)
حدیث شریف: ینا د و ن یا محمد یا ر سو ل ا للہ
(صحیح مسلم شریف ص ٤١٩، جلد ٢)
٭ امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد فرمایا '' دو موتیں نہ آئیں گی ، یعنی آپ نے موت کا ذائقہ چکھا وہ ہو گیا اس کے بعد حیات ہے ۔ حیات کے بعد پھر موت نہیں آئے گی جیسا کہ خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فنبی اللہ حی ۔ اللہ کے نبی زندہ ہیں۔(ابن ماجہ ص ١١٩، جلاء الافہام ابن قیم)
٭ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انورپر حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اپنی اُمت کیلئے بارش طلب فرمائیں ۔ تحقیق وہ ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد حضورنبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو خواب میں زیارت عطا فرمائی اور فرمایا کہ عمر کو میرا سلام کہنا اور خوشخبری دو بارش ہو گی۔مصنف ابن ابی شیبہ (از: امام محدث ابوبکر عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ' اُستاذ امام مسلم و بخاری) جلد نمبر١٢، ص ٣٢ کتاب الفضائل ' فتح الباری شرح بخاری جلد ٢ ، ص ٤٩٥ نیز فرمایا اس کی سند صحیح ہے۔
٭ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ روضہ مبارک پر لے جا کر رکھ دیا گیا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی ''السلام علیک یا رسول اللہ '' یہ ابوبکر صدیق ہیں اجازت چاہتے ہیں ۔ (آپ کے پاس دفن ہونے کی) پھر اس کے بعد دروازہ مبارک کھل گیا اور آواز آئی ا د خلو ا لحبیب ا لی حبیبہ
(خصائص الکبریٰ محدث جلال الدین سیوطی ، تفسیر کبیر ص ٤٧٨، جلد ٥)
حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سیدنا عبد اللہ بن سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کا پاؤں سن ہوا تو انہوں نے پکارا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت سیدنا خالد بن ولید نے مسیلمہ کذاب سے جنگ کے وقت فرمایا
بشعار المسلمین یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وسلم)
فتوح الشام ص ١٦٠ ، ج ١ ، ابن کثیر نے البدایہ ص ٣٢٤ جلد ٦ میں لکھا ہے ۔
کا ن شعا ر ھم یو مئذ یا محمد اہ صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت عبیدہ بن الجراح کی قیادت میں حلب میں لڑنے والے اسلامی لشکر نے کہا ''یا محمد یا محمد یا نصر ا للہ انزل '' (تاریخ فتوح الشام ، ج١)
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے
ا لسلام علیک ا یھا ا لنبی و رحمۃ ا للہ و برکا تہ
(الشفاء شریف جلد دوم ، ص ٥٣)
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کا قدم مبارک سن ہوا تو انہوں نے پکارا '' یا محمد'' صلی اللہ علیہ وسلم ۔
(تحفۃ الذاکرین ص ٢٠٢ ، شوکانی ، الداء والدواء ص ٤٧ ، صدیق حسن خان)
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ حضور نبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو لفظ یا سے ندا کرنا ' دور سے یا نزدیک سے پکارنا جائز ہے ' ان کی ظاہر ی زندگی میں بھی اوروصال کے بعد بھی' ہر طرح جائز اور باعث برکت ہے۔قرآن و حدیث عمل صحابہ اور ہر نمازی کا نماز میں سلام عرض کرنا یہ روشن دلیلیں موجود ہیں ۔ بدعقیدہ لوگ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کہنے والے کو مشرک کہتے ہیں ۔ لفظ یا سے پکارنے والے پر شرک کا فتویٰ لگتاہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یا سے ندا فرماتا ہے' صحابہ کرام آپ کی ظاہری زندگی میں بھی اور وصال کے بعد بھی یا سے پکارتے رہے ۔ ان کے بارے میں بدمذہبوں کا کیا عقیدہ ہے ۔ ان پر کیا فتویٰ لگے گا ۔
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی کثرت کیجئے
مزید حوالہ جات: حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں آیا ہے '' یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی ''یعنی یا محمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ بیہقی اور جزری نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔
( ہدیۃ المہدی ص ٢٤ (عربی) ، نشر الطیب ص ٢٧٦ )
٭ ایک روایت میں ہے یا رسول اللہ انی توجہت بک الی ربی یعنی یا رسول اللہ ! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ''۔
(ہدیۃ المہدی (عربی) ص ٢٤، مولوی وحید الزمان وہابی )
() حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آسمان سے میں نے یہ آواز سنی ''یا محمداہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ( الشمامۃ العنبریہ ص ١١٣ ، صدیق حسن بھوپالوی )
() امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مناسک میں لکھا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ تو اتنا ہی کہتے تھے ''السلام علیک یا رسول اللہ السلام علیک یا ابابکر ، السلام علیک یا ابتاہ ''۔ (فضائل حج ص ٩١٧ ، ذکریا سہارنپوری' دیوبندی)
()جو عوام الناس کہتے ہیں یعنی یا رسول اللہ، یا علی ، یا غوث تو اکیلی نداء سے ان پر شرک کا حکم نہیں دیا جائے گا اور کیسے دیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ حضور ؐ نے بدر کے مقتولوں کو فلاں بن فلاں کہتے ہوئے پکارا تھا ۔ اور حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ بھی آئے ہیں اور ایک حدیث میں یا رسول اللہ کا لفظ بھی ہے ''۔ (ہدیۃ المہدی (اُردو) ص ٥١،٥٠)
() صلوٰۃ و سلام کے الفاظ میں تنگی نہیں ہے ادب شرط ہے ۔ چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے قبر شریف پر سلام اس طرح پڑھاہے ''السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا نبی اللہ، السلام علیک یا حبیب اللہ ، السلام علیک یا احمد ؐ ، السلام علیک یا محمد ؐ ۔ (الصلوٰ ۃ والسلام ص ١٢٦ ، فردوس شاہ قصوری وہابی)
()تفسیر ابن کثیر و مدارک میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کے بعد ایک اعرابی آیا اور اپنے کو روتے اور سر پر خاک ڈالتے ہوئے قبر شریف پر گرا دیا اور کہا ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں ۔ قبر مبارک سے آواز آئی ''کہ تجھ کو بخش دیا گیا ہے''۔ (نشر الطیب ص ٢٧٩ ، فضائل حج ص ٢٥٣)
() (اشرف علی تھانوی نے کہا) اس بندہ نے آپ کو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مستغیث ہو کر اور اُمید کی چیزوں کا اُمید وار ہو کر پکارا ہے''۔ (نشر الطیب ص ٢٧٩ )
() جب روم کے بادشاہ نے مجاہدین اسلام کو عیسائیت کی ترغیب دی تو انہوں نے بوقت شہادت ''یا محمداہ'' صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ لگایا جیسا کہ ہمارے اصحاب میں سے ابن جوزی نے روایت کیا ۔ (ہدیۃ المہدی ، نواب وحید الزمان حیدر آبادی)
() غوث پاک رضی اللہ عنہ نے فرمایا'' دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد ١٠٠ مرتبہ درود غوثیہ پڑھ کر ١١ بار یہ درود و سلام پڑھو
اغثنی یا ر سو ل ا للہ علیک ا لصلو ٰۃ و ا لسلام
( کتاب غوث اعظم ص٣٢، احتشام الحسن کاندھلوی دیوبندی)
()صحابہ رضی اللہ عنہم سے ان کا قول ''السلام علیک ایھا النبی '' بغیر کسی اعتراض کے ثابت ہے اور حضور ؐ کا یہ قول ''یا ابراہیم اپنے مردہ فرزند کو ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور حضرت حسان کا فرمان '' و جا ہک یا ر سو ل اللہ جا ہ ''(یا حرف محبت ص ٩٤)
() حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ(علیہم السلام ) نے آپ کو بایں الفاظ سلام کیا
''ا لسلام علیک یا ا وّل ، ا لسلام علیک یا آخر ، السلام علیک یا حا شر ''۔ ( کتاب معراج مصطفےٰ ص ١٢ ، مولوی محمد علی جانباز وہابی)
() فضائل اعمال میں لکھا ہے : زمہجوری برآمد جان عالم تراحم یا نبی اللہ تراحم
آپ کے فراق سے کائنات عالم کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے ۔ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نگاہ کرم فرمائیے اے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم رحم فرمائیے''۔ (اسعد اللہ دیوبندی )
شفاعت مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم: - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
شفاعت مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شفاعت کا اختیار عطا فرمایا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی عطا سے گنہگاروں کی شفاعت فرمائیں گے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذنلہ الرحمن ورضی لہ قولا۔
اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی مگر اس کی جسے رحمن (اللہ تعالیٰ) نے اِذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی۔ (پارہ١٦،سورۃ طٰہٰ ، آیت ١٠٩ )
٭ لا یملکون الشفاعۃ الا من اتخذعند الرحمن عھدا ۔
لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس اقرار کررکھا ہے ۔
(پارہ ١٦، سورۃ مریم ، آیت ٨٧)
واستغفر لھم الرسول لوجد وا اللہ توابا رحیماo
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی شفاعت فرمائیں تو ضرور اللہ (عزوجل) کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ (پارہ ٥،سورۃ نساء ، آیت ٦٤ )
احادیث مبارکہ : حضور نبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''قیامت کے دن میں حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد کا سردار ہوں گا سب سے پہلے میں اپنی قبر انور سے نکلوں گا سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔
(مسلم شریف ، کتاب الفضائل ، مشکوٰۃ شریف ،کتاب الفتن)
()میری شفاعت میری اُمت میں ان کیلئے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں
(مشکوٰۃ شریف باب الفتن ، باب الحوض والشفاعۃ دوسری فصل ،ترمذی ، ابن ماجہ)
()میں اپنی اُمت کی شفاعت کروں گا یہاں تک کہ میرا رب مجھے فرمائے گا ''اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کیا تو راضی ہوا؟ میں عرض کروں گا ''اے میرے رب میں راضی ہوا ''۔ (درمنثور ، روح البیان)
سب سے پہلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شفاعت فرمائیں گے ' اُس کے بعد دوسرے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ' اولیاء کرام ' قرآنِ پاک ' علمائے کرام ' شہداء ' رمضان المبارک ' حجر اسود اور مسلمانوں کے نابالغ بچے (وغیرہ) بھی شفاعت کریں گے ۔
یقینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے ہر صحیح العقیدہ گنہگار اُمتی کی شفاعت فرما کر اُسے جنت میں داخل فرمائیں گے ۔
مجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تیرا گمان ہے
کیا نبّی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطا کیا گیا۔۔۔۔۔۔؟- Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
کیا نبّی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطا کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے ' عالم الغیب ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ، نے اپنے پیارے حبیب شب اسریٰ کے دولہا کو اپنے رسولوں میں سے چن لیا اور علم غیب کے خزانے عطا فرمائے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بفضلہ تعالیٰ عالم ماکان وما یکون ہیں۔
ع۔۔۔۔۔۔ ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
جبکہ مخالفین کا عقیدہ باطلہ ہے کہ (معاذ اللہ) انہیں دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔ اہلسنّت کی تائید میں قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل ملاحظہ ہوں:
قرآن پاک: وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشآء (سورۃ آل عمران ، پارہ ٤ ، رکوع ١٨، آیت١٧٩)
اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے ۔
عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احداo الا من ارتضیٰ من رسول ۔ غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(پ٢٩، سورہ جن ، رکوع ٢، آیت ٢٦،٢٧)
وما ھو علی الغیب بضنین (پ٣٠، ع٦، سورہ التکویر آیت ٢٤)
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں ۔
حدیث شریف: امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں ایک جگہ قیام فرمایا پھر ہم کو ابتدائے پیدائش سے لے کر جنتیوں کے اپنی منزلوں میں پہنچنے اور دوزخیوں کے اپنی منزلوں میں پہنچنے تک کی تمام خبریں دیں ۔ جس نے یاد رکھا اُس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا ۔(بخاری شریف کتاب بدء الخلق ص ٤٥٣، مشکوٰۃ شریف ص ٥٠٦)
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
اوّل و آخر سب کچھ جانے دیکھے بعید و قریب
غیب کی خبریں دینے والا اللہ کا وہ حبیب
جن آیات میں علم غیب کی نفی ہے اُس سے مراد یہ ہے کہ آپ ؐذاتی طور پر علم غیب نہیں جانتے بلکہ اللہ کی عطا سے جانتے ہیں ۔ بد مذہب لوگ صرف انہی آیات (جن میں ذاتی علم غیب کی نفی ہے) کا سہارا لے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔
علم غیب پر اعتراضات او ر ان کے جوابات:
اعتراض نمبر١: علم غیب خدا کی صفت ہے اس میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے۔
جواب: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ذاتی طور پر علم غیب کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم غیب عطا فرمایا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی عطا سے علم غیب جانتے ہیں۔
اعتراض نمبر٢: اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم تھا تو خیبر میں زہر آلود گوشت کیوں کھایا؟
جواب: ایک یہودی نے زہر آلود بھنی ہوئی بکری حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کے گوشت میں سے بازو لیا اور کچھ گوشت تناول فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی گوشت کھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کھانے سے ہاتھ اُٹھا لو او ر اس یہودن کو بلا کر لاؤ۔ جب یہودن آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس بکری کے گوشت میں تو نے زہر ملایا! تو وہ بولی آپ کو کس نے خبر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ جو میرے ہاتھ میں بکری کا بازو (دستی )ہے اس نے مجھے بتایا وہ عورت کہنے لگی ہاں! میں نے کہا اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ گوشت آپ کو نقصان نہیں دے گا۔ آپ نے اس عورت کو معاف فرما دیا اور جن صحابہ کرام نے گوشت کھایا تھا وہ شہید ہو گئے۔ (مشکوٰۃ شریف)غور کریں کہ گوشت جانتا تھا کہ مجھ میں زہر ملا ہوا ہے اور بقول معترض اللہ تعالیٰ کے پیارے محبو ب کو اس کی خبر نہیں تھی (معاذ اللہ)حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم تھا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے اور یہ بھی علم تھا کہ یہ مجھے کوئی کسی قسم کا نقصان نہ دے گا اور گوشت کھانے میں یہ حکمت تھی کہ اُس یہودن کو پتہ چل جائے کہ میں اللہ کا سچا نبی ہوں اگر آپ گوشت تناول نہ فرماتے تو اس یہودن کو کیسے یقین ہونا تھا؟ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا شامل تھی کہ آپ یہ گوشت تناول فرما لیں تا کہ بوقت ظاہری وصال اس کا اثر لوٹ آئے اور آپ کو شہادت کا مرتبہ بھی عطا فرمایا جائے۔
اعتراض نمبر٣: منافقین دھوکے سے ستر (٧٠) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے گئے اور اُن کو شہید کر دیا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم غیب تھا تو ستر صحابہ کو کیوں بھیجا؟
جواب: حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم غیب تھا کہ ان کے مقدر میں اللہ تعالیٰ نے شہادت لکھی ہوئی ہے اور ان کی شہادت کا وقت آ گیا ہے ۔ اس لئے آپ نے اُن صحابہ کو بھیجا جنہوں نے شہید ہونا تھا ۔ جو معترض اعتراض کرتے ہیں وہ یہ بتائیں کہ بقول ان کے اللہ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم نہیں تھا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے وحی کیوں نازل نہیں فرمائی کہ اے پیارے محبوب (ؐ) ان ستر صحابہ کو نہ بھیجنا یہ شہید ہو جائیں گے؟
اللہ تعالیٰ کے کئی انبیاء کرام کو اُن کی قوم نے ناحق شہید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے پھر اس نے اپنے انبیاء کرام کو ایسی قوموں کی طرف کیوں بھیجا؟ اللہ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علم غیب پر اعتراض کرنے والو جواب دو؟
اعتراض ٤: حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا جگہ جگہ تلاش کیا نہ ملا پھر اونٹ کے نیچے سے ہار برآمد ہوا ۔ اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم غیب ہوتا تو آپ پہلے ہی بتا دیتے۔
جواب: بیان نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ علم نہ تھا ۔ نہ بتانے میں بہت سی حکمتیں شامل تھیں۔ جو نبی آسمانوں کے ستاروں کی تعداد جانتا ہے جو نبی اپنے تمام اُمتیوں کی نیکیوں کی تعداد جانتا ہے ' وہ نبی اونٹ کے نیچے پڑے ہوئےہا ر کو بھی جانتا ہے لیکن بتایا اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا یہ تھی کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو اور مسلمان ہار کی تلاش میں رُک جائیں اور ظہر کا وقت آ جائے پھر مسلمانوں کو طہارت اور وضو کے لئے پانی کی ضرورت پڑے تو پانی میسر نہ ہونے پر اُمت محمدیہ کی بہتری اور آسانی کیلئے آیت تیمم نازل ہو ۔ اگر اس وقت ہار کے بارے میں بتا دیا جاتا تو آیت تیمم نازل نہ ہوتی۔
اعتراض نمبر٥: غار ثور میں سانپ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ڈس لیا اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم غیب ہوتا تو آپ پہلے بتا دیتے۔
جواب: یہاں بھی نہ بتانے میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ تھیں ۔
نمبر١: سانپ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت سے مشرف ہونا تھا۔
نمبر٢: سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جاں نثاری کا صلہ ملنا تھا۔
نمبر٣: سانپ کے ڈسنے کی جگہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا لعاب دہن لگا کر یہ معجزہ ظاہر فرمانا تھا کہ میرا لعاب دہن دافع بلا' حاجت روا اور مشکل کشا ہے ۔
نمبر٤: بوقت وصال سانپ کے زہر کے اثر کی وجہ سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو شہادت کا مرتبہ ملنا تھا۔
اعتراض نمبر٦: حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگی تو آپ نے بغیر وحی کے کچھ نہ فرمایا۔ آپ وحی کے آنے سے پہلے پریشان رہے اگر علم غیب ہوتا تو آپ پر یشان کیوں ہوتے؟
جواب: حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم تھا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر غلط تہمت لگائی گئی ہے ۔ آپ کا اس بارے میں فوراً ارشاد نہ فرمانے میں یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ آپ کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں آیات نازل فرمائے گا۔ اس سلسلہ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ مبارکہ ہے کہ ''اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی کی پاکیزگی بالیقین جانتا ہوں''۔ (بخاری شریف جلد٢، ص ٥١٥)
حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس تہمت کی وجہ سے پریشان نہیں ہوئے بلکہ چند روز آپ نے انتظار فرمایا اور خاموشی اختیار کی صرف اس لئے کہ میری زوجہ مطہرہ کی پاکی کے متعلق خود خالق کائنات رب العالمین ارشاد فرمائے۔ اگر آیات کے نزول کا انتظار نہ فرمایا جاتا اور پہلے ہی اپنی زوجہ محترمہ کی پاک دامنی کا آپ اظہار فرما دیتے تو منافقین کہتے کہ اپنی اہل خانہ کی حمایت کی ہے اور مسلمانوں کو تہمت کے مسائل اور مقدمات کی تحقیق کے طریقہ کار کا پتہ نہ چلتا۔
اعتراض نمبر٧: حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوعلم غیب نہیں تھا بلکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے بتانے سے آپ کو پتہ چلتا تھا۔ (معاذ اللہ)
جواب: حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم امام الانبیاء ہیں۔ جہاں خدا کی خدائی ہے وہاں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بادشاہی ہے ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت جبرائیل علیہ السلام کے محتاج نہیں تھے بلکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے اُمتی اور خادم ہیں۔حضرت جبرائیل علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وحی لے کر آتے تھے ۔ نظام قدرت کے تحت یہ سلسلہ جاری رہا۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والو یہ بتاؤکہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی طرف وحی بھیجنے کے لئے حضرت جبرائیل علیہ السلام کا محتاج تھا؟ کیا وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود کلام نہیں کرسکتا تھا؟ اسی طرح کیا اللہ تعالیٰ ماں باپ کے وسیلے کے بغیر اولاد عطا نہیں کرسکتا ؟اللہ تعالیٰ ذاتی طور پر ہر چیز کا مالک ومختار ہے لیکن ہر کام اس کے مقرر کردہ قا نونِ قدرت کے مطابق ہوتا ہے۔بے شمار احادیث مبارکہ ایسی ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر وحی کے اپنے عطائی علم غیب کا اظہار فرمایا ہے ان میں سے دو حدیث مبارکہ بطور حوالہ پیش خدمت ہیں۔
نمبر١:حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک میری گود میں تھا میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر بھی ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''ہاںعمر کی ''(نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں)میں نے عرض کیا کہ (میرے باپ حضرت )ابوبکر کی نیکیوں کا کیا حال ہے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''عمر کی ساری نیکیاں ابو بکر کی ایک نیکی جیسی ہیں۔(مشکوٰۃ شریف ج سوم باب مناقب ابوبکر)
آسمان کے ستارے کتنے ہیں یہ بھی غیب کی بات ہے اور جو شخص نیکیاں کرتا ہے اس کی نیکیاں کتنی ہیں یہ بھی غیب کی بات ہے اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ عقیدہ ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم غیب نہیں جانتے تو کبھی ایسا سوال نہ کرتیں۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوال کرتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراًبغیر وحی کے اپنے عطائی علم غیب سے جواب ارشاد فرما یا۔
نمبر ٢:حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو قبروں پر گزرہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''اِن دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کے سبب نہیں (بلکہ) ان میں ایک پیشاب (کی چھینٹوں)سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خورتھا''۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تازہ (سبز) شاخ منگوا کر اس کو درمیان سے چیر کر دونوں قبروں پر لگا دیا۔صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے ایسا کیوں کیا؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''یہ شاخیں جب تک خشک نہ ہوں گی ان کے عذاب میں تحفیف ہوتی رہے گی''۔
(صحیح بخاری ،صحیح مسلم،مشکوٰۃ باب الاداب الخلاء پہلی فصل)
قبر کا معاملہ بالکل غیب اور پوشیدہ ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم دنیا میں کھڑے ہوکر عالم برزخ کی خبر دے رہے ہیںاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کو عذاب کیوں ہورہا ہے ۔یہ سب کچھ آپ نے بغیر وحی کے اپنے عطائی علم غیب سے ارشاد فرمایا۔
قرآن پاک میںحضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم (پارہ ٣ ، سورہ آل عمران)
اورمیں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر تے ہو۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام یہ غیب کی باتیں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی کے ذریعے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ عطائی علم غیب سے بتاتے تھے۔
اسی طرح قرآن پاک میں حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام پر وحی نازل نہیں ہوئی کہ آپ یہ کام کریں بلکہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ عطائی علم غیب سے سب کچھ کیا۔
اعتراض کرنے والے بدعقیدہ کتنے گستاخ ہیں کہ وہ ایک خادم اور اُمتی کو امام الانبیاء حضور نبی اکرم نور مجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم پر فضیلت دے رہے ہیں۔ (معاذ اللہ' استغفر اللہ)
اعتراض نمبر٨: جس چیز کے بارے میں پتہ چل جائے ' وہ غیب نہیں رہتی۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب کو کچھ بتایا تو وہ غیب نہ رہا۔
جواب: اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے رسولوں میں سے جسے چن لوں اُسے غیب کا علم عطا فرماتا ہوں (پارہ ٢٩، آیت ٢٧)
ہر غیب کو ذاتی طور پر جاننے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ اُس کی عطا سے اُس کے پیارے محبوب امام الانبیاء بھی غیب جانتے ہیں۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جانتے ہیں وہ ہم نہیں جانتے ہمارے لئے وہ غیب ہے۔ بقول منکرین جس چیز کے بارے پتہ چل جائے وہ غیب نہیں رہتی تو منکرو بتاؤ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پتہ ہے وہ ہر چیز کو ذاتی طور پر جانتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کے پاس بھی علم غیب نہ رہا؟
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
یاد رکھیں کہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب پر ہمیشہ کفار اور منافقین نے اعتراضات کیئے آج تک کسی صحیح العقیدہ امتی نے آپ کے علم غیب کا انکار نہیں کیا۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عشق رسول ﷺ - Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور عشق رسول ﷺ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلسفہ کی گہرائی اور خدا شناسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ اقبال علیہ الرحمہ کا مدار فکر اور معیار تمدن ہمیشہ اسوہ حسنہ رہا۔ ان کا کاسۂ سرعلم سے پر رہا اور کاسہ دل عشق سے معمور رہا۔ علم وہ نہیں جو سوز دماغ ہے بلکہ جوسوز جگر ہے اور عشق وہ نہیں جو بوالہوسوں کاشعار ہے بلکہ جو یزداں شکار ہے۔ علم سے انہوں نے راستہ معلوم کیا اور عشق سے منزل کو پایا۔ بیکن نے سچ کہا ہے کہ فلسفے کا تھوڑا علم انسان کو خدا سے بیزار اور گہرا علم خدا کا پرستار بنادیتا ہے اور اقبال علیہ الرحمہ بلاشبہ فلاسفے کے گہرے عالم تھے۔ وہ اتنی گہرائی میں اتر کر عشق رسول کے موتی چن کر باہرلائے اور انہیں اپنے دامن میں سجاکر پوری دنیا کو دعوت نظارہ دی اور بڑی بلند آہنگی اور خود اعتمادی سے کہا۔ اے منطق و کلام کے متوالو! اس کلام کو پڑھو جو امی نبیﷺ پر اترا ہے۔ شاید تمہارا کام بن جائے۔ اے افلاطون اور ارسطو کے شیدائیوں! ان کی بارگاہ میں پہنچ کر کچھ سیکھو جن کے ہاتھوں نے تختی کو چھوا اور نہ ان کی انگلیوں نے کبھی قلم پکڑا۔ لیکن لوح و قلم کے سارے رازان پر منکشف ہوگئے۔
(روزنامہ نوائے وقت 21 اپریل 1994)
علامہ اقبال… جن کا سرمایہ ہستی تھی فقط عشق رسولﷺ صاحبزادہ خورشید گیلانی)
والدین کی تربیت
اقبال علیہ الرحمہ کو عشق رسولﷺ اپنے والد سے ورثہ میں ملا تھا۔ شیخ نور محمد نے جب بھی اقبال کو کچھ سمجھانا ہوتا یا تنبیہ کرنا ہوتی تو وہ قرآن پاک کے حوالے سے یا حضورﷺ کی سیرت یا تعلیمات کے حوالے سے کرتے۔ علامہ محمد اقبال کے والد محترم شیخ نور محمد رحمتہ اﷲ علیہ کے عشق مصطفی کی کیفیت کا ایک واقعہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے حوالے سے فقیر سید وحید الدین نے یوں تحریر کیا ہے۔
’’مثنوی رموز بے خودی میں علامہ نے اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک سائل بھیک مانگتا اور صدا لگاتا ہوا ان کے دروازے پر آیا۔ یہ گدائے مبرم یعنی اڑیل فقیر تھا۔ دروازے سے ٹلنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ اس کے بار بار چیخ چیخ کر صدا لگانے پر علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے طیش میں آکر اسے مارا۔ علامہ کے والد اس حرکت پر بہت آزردہ اور کبیدہ خاطر ہوئے اور دل گرفتہ ہوکر بیٹے سے کہا کہ ’’قیامت کے دن جب خیرالرسل کی امت سرکارﷺ کے حضور جمع ہوگی تو یہ گدائے دردمند تمہارے اس برتائو کے خلاف حضور رسالت مآبﷺ سے فریاد کرے گا‘‘
علامہ کے والد ماجد اپنے ریش سفید کا واسطہ دے کر بیٹے کو کہتے ہیں کہ مجھے میرے آقا و مولیٰﷺ کے حضور یوں رسوا نہ کرو۔ تم چمن محمدیﷺ کی ایک کلی ہو، وہی اخلاق اپنائو جو حضورﷺ کو پسند ہے۔
فقیر وحید الدین لکھتے ہیں کہ شیخ نور محمد علیہ الرحمہ کے حسن تربیت کا یہ اعجاز تھا کہ جب علامہ اقبال قرآن کی آیت اور حدیث رسول سنتے تھے تو فورا ’’گردن بہ طاعت نہادن‘‘ کی تصویر بن جاتے تھے (روزگار فقیر جلد دوم، ص 152)
کوہِ احد پر لرزہ طاری ہوگیا
سید نذیر نیازی کی روایت ہے کہ ’’ایک مرتبہ ایک صاحب نے علامہ اقبال کے سامنے بڑے اچنبھے کے ساتھ اس حدیث کا ذکر کیا کہ رسولﷺ اصحاب ثلاثہ کے ساتھ احد تشریف رکھتے تھے۔ اتنے میں احد لرزنے لگا اور حضورﷺ نے فرمایا ’’ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دوشہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس پر پہاڑ ساکن ہوگیا‘‘ علامہ اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا ’’اس میں اچھنبے کی کون سی بات ہے؟ میں اس کو استعارہ ومجاز نہیں، بالکل ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس کے لئے کسی تاویل کی حاجت نہیں۔ اگر تم حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے مادے کے بڑے سے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں۔ مجازی طور پر نہیں، واقعی لرز اٹھتے ہیں‘‘ (اقبال کامل ص 64 اور جوہر اقبال ص 38)
نور بصیرت کا راز
ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ رسول مقبولﷺ کا دیدار کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ’’پہلے حضورﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرو اور اپنی زندگی کو اسی میں ڈھالو اور پھر اپنے آپ کو دیکھو۔ یہی ان کا دیدار ہے۔ کسی نے پوچھاکہ آپ کو اتنی بصیرت کیسے حاصل ہوئی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ اکثر اوقات رسول کریمﷺ پر درود بھیجتا رہتا ہوں۔ اب تک ایک کروڑ مرتبہ درود شریف کا ورد کیا ہے۔
آپ کے صاحبزادہ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ میں نے اماں جان کی موت پر بھی انہیں روتے نہیں دیکھا مگر قرآن سنتے وقت یا رسول اکرمﷺ کا نام زبان پر آتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے۔ 1933ء میں ایک نوجوان نے حکیم الامت سے اس بارے میں استفسار کیا کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے تھے آنحضرتﷺ جب چلتے تھے تو درخت تعظیم سے جھک جاتے۔ اس کا کیا مفہوم ہے؟ کیونکہ یہ بات ماورائے فطرت معلوم ہوتی ہے۔ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے جواب دیا کہ تمہارا ذہن مختلف راستے پر منتقل ہوگیاہے۔ تم الجھ کر رہ گئے ہو۔ قدرت کے مظاہرے اور درختوں کے جھکنے میں بھائی یہ واقعہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا عشق بتاتا ہے۔ کہ ان کی آنکھ یہ دیکھتی ہے ’’اگر تمہیں عمر رضی اﷲ عنہ کی آنکھ نصیب ہو تو تم بھی دیکھو گے کہ دنیا ان کے سامنے جھک رہی ہے‘‘ (ماہنامہ فکر ونظر مارچ 1979ء رسالت مآب اور اقبال… رحیم بخش شاہیں)
ما ترا جوئیم و تو از دیدہ دور
نے غلط، ماکور و تو اندر حضور
علامہ اقبال
ہم آپ کو ڈھونڈتے ہیں اور آپ ہماری آنکھوں سے دور ہیں
نہیں یہ بات نہیں، آپ سامنے ہیں، مگر ہم اندھے ہیں
برکات کا نزول
علامہ اقبال علیہ الرحمہ سید غلام میراں شاہ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’خدا تعالیٰ! آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت، ہمت، اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کریں‘‘
ان کو ایک اور خط میں لکھتے ہیں:
’’میں آپ کے وجود کو غنیمت سمجھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا اخلاص اور وہ محبت جو آپ کو حضور رسالتﷺ سے ہے۔ آپ کے خاندان پر بہت بڑی برکات کے نزول کے باعث ہوگی‘‘
اسم اعظم
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسلام کی خدمت وہی کرسکتا ہے جو عشق محمدیﷺ سے سرشار ہو اور جس کو حضورﷺ کی ذات اور تعلیمات پر پورا پورا یقین ہو۔ شیخ اعجاز احمد (علامہ اقبال کے بھتیجے) کہتے ہیں کہ مجھے میری پھوپھی (ہمشیرہ اقبال) نے بتایا کہ میاں جی کو اسم اعظم معلوم ہے اور انہوں نے اسے اقبال کو بتادیا ہے۔ علامہ اقبال لاہور سے سیالکوٹ تشریف لائے تو ایک روز اعجاز صاحب نے ان کے پائوں دباتے ہوئے پوچھا۔ میں نے سنا ہے کہ میاں جی نے آپ کو اسم اعظم بتادیا ہے۔ فرمایا یہ بات تم میاں جی سے ہی پوچھنا۔ چنانچہ ایک دن اعجاز صاحب نے میاں جی سے اسم اعظم کے بارے میں دریافت کیا۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا مشکلوں کو آسان کرتی ہے۔ اس لئے دعا ہی اعظم ہے۔ پھر فرمایا۔ قرآن کریم میں آیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی بہت سی اچھی صفات ہیں جس کے ذریعے سے اس سے دعائیں کرنی چاہئیں۔ مثلا صحت کے لئے یاشافی، رزق کے لئے یارزاق، اسی طرح اﷲ تعالیٰ کے دوسرے صفاتی نام پکارنے سے مشکلیں حل ہوتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ الفاظ صرف زبان سے ہی نہیں، دل سے بھی نکلیں اور دل اﷲ تعالیٰ کی صفت پر یقین بھی رکھتا ہو۔ اس کے بعد کہا کہ قبولیت دعا کے لئے ایک نسخہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر دعا سے پہلے اور بعد حضور سرور کائناتﷺ پر درود بھیجیں۔ کیونکہ درود سے بڑھ کر اور کوئی اسم اعظم نہیں اور تمہارے چچا کو میں نے اسی ’’اسم اعظم‘‘ کی تلقین کی ہے‘‘ (ماہنامہ کوثر نونمبر 1988ء اقبال کیسے بنتا ہے، ص 13-14)
خدا چاہتا ہے اور رضائے محمدﷺ
’’غالبا 1929ء کا واقعہ ہے کہ انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کا سالانہ جلسہ تھا۔ علامہ اقبال اس جلسے کے صدر تھے۔ جلسے میں کسی خوش الحان نعت خواں نے مولانا احمد رضا صاحب کی ایک نظم شروع کردی۔ ایک مصرعہ یہ تھا۔
خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم خدا چاہتا ہے رضائے محمدﷺ
نظم کے بعد علامہ اقبال اپنی صدارتی تقریر کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور تجالاً ذیل کے دو شعر ارشاد فرمائے۔
تماشہ تو دیکھو کہ دوزخ کی آتش
لگائے خدا اور بجھائے محمدﷺ
تعجب تو یہ ہے کہ فردوسِ اعلیٰ
بنائے خدا اور بسائے محمدﷺ
(نوادر اقبال، سرسید بک ڈپو علی گڑھ، ص 25)
(بحوالہ راجہ رشید محمود اقبال و احمد رضا 1977ء ص 33)
قیمتی آنسو
ڈاکٹر محمد اقبال علیہ الرحمہ کی زندگی کا سب سے زیادہ ممتاز، محبوب اور قابل قدر وصف جذبہ عشق رسولﷺ ہے۔ اس کا اظہار ان کی چشم نمناک اور دیدہ تر سے ہوتا تھا کہ جہاں کسی نے حضورﷺ کا نام نامی ان کے سامنے لیا، ان پر جذبات کی شدت اور رقت طاری ہوجاتی تھی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوگئے۔ رسول اکرمﷺ کا نام آتے یا آپﷺ کا ذکر چھڑتے ہی علامہ اقبال علیہ الرحمہ پر وارفتگی طاری ہوجاتی۔ رسول اکرمﷺ کی محبت میں علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے احباب نے انہیں بارہا آنسو بہاتے دیکھا تھا۔ فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں ’’میں نے ڈاکٹر صاحب کی صحبتوں میں عشق رسولﷺ کے جو مناظر دیکھے ہیں ان کا لفظوں میں پوری طرح اظہار بہت مشکل ہے۔ وہ کیفیتیں بس محسوس کرنے کی تھیں)
(فقیر سید وحید الدین، روزگار فقیر جلد اول، ص 94)
چشم نمناک
فقیر صاحب لکھتے ہیں ’’ڈاکٹر صاحب کا دل عشق رسولﷺ نے گداز کررکھا تھا۔ زندگی کے آخری زمانے میں تو یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بندھ جاتی تھی۔ آواز بھرا جاتی تھی۔ اور وہ کئی کئی منٹ مکمل سکوت اختیار کرلیتے تھے تاکہ اپنے جذبات پر قابو پاسکیں اور گفتگو جاری رکھ سکیں‘‘
(فقیر سید وحید الدین، روزگار فقیر جلد اول، ص94)
آنسوئوں کی زبانی
فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں:
’’جب ڈاکٹر صاحب رائونڈٹیبل کانفرنس سے واپس آئے تو والد صاحب مرحوم ان سے ملنے گئے۔ بڑی مدت بعد ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس لئے بڑے تپاک سے ملے اور ڈاکٹر صاحب سے ان کے سفر کے تجربات کے متعلق گفتگو ہونے لگی۔ والد صاحب مرحوم نے اثنائے گفتگو کہا ’’اقبال اگر تم یورپ ہوآئے، مصر اور فلسطین کی بھی سیر کی تو کیا اچھا ہوتا کہ واپسی پر روضۂ اطہر کی زیارت سے بھی آنکھیں نورانی کرلیتے‘‘ یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کی حالت دگرگوں ہوگئی۔ چہرے پر زردی چھا گئی اور آنکھں سے آنسو بہنے لگے۔ چند لمحے تک یہی کیفیت رہی۔ پھر کہنے لگے فقیر! میں کس منہ سے روضہ اطہر پر حاضر ہوتا‘‘
مرزا جلال الدین بیرسٹر کہتے ہیں
’’حضرت علامہ علیہ الرحمہ کی طبیعت کا سوزوگداز عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا اور عشق رسولﷺ میں ان کی سرشاری اور استغراق کے درجے پر جا پہنچا۔ آخر میں تو یہ حال ہوگیا تھا کہ ذرا حضورﷺ کا نام کسی کی زبان پر آیا اور آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں۔ اسی طرح آپ کو فریضہ حج کی ادائیگی اور روضہ مبارک کی زیارت کی شدید آرزو تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی جاتی تھی۔ آخر زمانے میں بیماریوں اور ضعف کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہوگیا تھا۔ مگر اس وقت بھی یہی لگن تھی کہ شاید طاقت عود کر آئے اور مجھے یہ مقدس سفر نصیب ہوجائے‘‘
(جلال الدین بیرسٹر ملفوظات اقبال)
عید میلاد النبیﷺ
1926ء میں لاہور میں عید میلاد النبیﷺ کے جلسے کی صدارت کرتے ہوئے علامہ اقبال نے جذبہ تقلید اور جذبہ عمل قائم رکھنے کے تین طریقے بتائے۔ پہلا طریقہ درود سلام ہے جو مسلمان کی زندگی کا جزولاینفک ہے۔ دوسرا طریق اجتماعی ہے کہ مسلمان کثیر تعداد میں جمع ہوں اور کوئی حضور آقائے دوجہاںﷺ کے سوانح حیات بیان کرے اور ’’تیسرا طریقہ اگرچہ مشکل ہے لیکن بہرحال اس کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے وہ طریقہ یہ ہے کہ یاد رسول اس کثرت اور ایسے انداز میں کی جائے کہ انسان کا قلب نبوت کے مختلف پہلوئوں کا خود مظہر ہوجائے یعنی آج سے تیرہ سو سال پہلے جو کیفیت حضور سرور کائناتﷺ کے وجود مقدس سے پیدا ہوتی تھی، وہ آج ہمارے قلوب کے اندر پیدا ہوجائے‘‘
(آثار اقبال مرتبہ غلام دستگیر رشید، ص306، ماہنامہ صوفی منڈی بہاء الدین، اکتوبر 1926)
(بحوالہ راجہ رشید محمد و اقبال و احمد رضا ص 60-61)
معراج النبیﷺ
لیفٹیننٹ کرنل خواجہ عبدالرشید اپنے مضمون ’’علامہ اقبال کا تصور انسان کامل‘‘ میں کہتے ہیں
اقبال نے اپنے لیکچروں میں ایک شعر نقل کیا ہے
موسیٰ زہوش رفت بیک جلوۂ صفات
توعینِ ذات می نگرمی درتبسمی
اس شعر میں ’’صفات‘‘ اور ’’ذات‘‘ کے الفاظ غور طلب ہیں۔ یہ کیا مقام تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے خود حضور سرور کونین محمد رسولﷺ سے فرمایا کہ آ میرے محبوب! میں تجھے اپنا آپ دکھائوں… جہاں رسول کریمﷺ کو دیگر انبیاء پر بہت سی فضیلتیں ہیں، وہاں یہ دو سب سے اہم ہیں ٭ خاتمیت ٭معراج
(بصیر کراچی، عید میلاد النبی ایڈیشن مئی 1972ء ص 39)
(اور آخرت میں مقام محمود اور شفاعت کبریٰ (مرتب)
نبوت کے اجزاء
سید نذیر نیازی کے نام خط میں انہوں نے لکھا:
’’ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا تھا‘‘
(انوار اقبال مرتبہ بشیر احمد ڈار، ص 45-46)
نعتیہ اشعار بقائے دوام
شاعر مشرق کو حضورﷺ سے غیر معمولی وابستگی کا ثمر یوں عطا ہوا کہ ان کے نعتیہ اشعار بقائے دوام حاصل کرگئے۔ زمانہ صدیوں کی مسافتیں طے کرتا رہے گامگر اقبال علیہ الرحمہ کے نعتیہ کلام کی آب و تاب میں کمی رونما نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر آنے والا دور اس سے فیض یاب ہوتے ہوئے فخر محسوس کیا کرے گا۔ مروجہ اسلوب میں باقاعدہ نعت گوئی نہ کرنے کے باوجود بھی علامہ اقبال علیہ الرحمہ توصیف مصطفیﷺ میں اتنا کچھ کہہ گئے ہیں کہ زمانے بھر کے نعتیہ دوادین سے ان کے نعتیہ اشعار کا مقام و مرتبہ اولیٰ تر ہے۔ کیونکہ انہوں نے کوئی بھی نعتیہ کلام نعت برائے نعت کے حوالے سے نہیں لکھا۔ بلکہ ان کی نعت مفاہیم ومضامین کاعزوم بے کنار اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ نئے سے نیا پیغام، نئی سے نئی تجلی، غرضیکہ تجلیات نعت کی فراوانی نے ان کی نعت کو عالمگیریت عطا کردی ہے۔
(پروفیسر محمد اکرم رضا، علامہ اقبال، گلزار نعت میں، کاروان نعت ص 163)
دیدار نبیﷺ
حضور نبی کریمﷺ کے دیدار سے مشرف ہونے کی علامہ محمد اقبال رحمتہ اﷲ علیہ نے بہت عمدہ اور دلچسپ تفسیر و توجیہ کی ہے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ اتباع رسول اور تقلید نبوی میں ڈوب جانے کا نام ہی دیدار رسول ہے۔ دنیا میں ایسے زندگی بسر کرو جیسے رسول پاکﷺ کا اسوہ حسنہ تم کو تلقین کرتا ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کو جن و انس سب میں مقبولیت حاصل ہوجائے گی۔ آپ کی سنت کی پیروی میں ڈوب کر خود شناسی حاصل کرو۔ یہی آپ کا دیدار ہے۔
(اقبال اور محبت رسول، ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی)
روئے تو ایمان من قرآن من
جلوۂ داری دریغ از جان من
علامہ اقبال
آپ کا چہرہ ہی میرا ایمان اور میرا قرآن ہے
آپ اپنے دیدار سے مجھے کیوں محروم رکھتے ہیں
ختم نبوت
ختم نبوت کے عقیدے پر گفتگو میں انہوں نے فرمایا کہ ’’ختم نبوت کے عقیدے کی ثقافتی قدروقیمت یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے ہمیشہ کے لئے اعلان فرمادیا کہ آئندہ کسی انسان کے ذہن پر کسی انسان کی حکومت نہیں ہوگی۔ میرے بعد کوئی شخص دوسروں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری بات کو بلاچوں و چرا تسلیم کرلو۔ ختم نبوت ایسا عقیدہ ہے جس کی بدولت انسانی علم کے دائرے کو وسعت نصیب ہوگئی۔
(ملفوظات اقبال، یوسف سلیم چشتی)
جواب شکوہ
شمع رسالت کے اس پروانے نے بارگاہ الٰہی میں جب ’’شکوہ‘‘ پیش کیا اور مسلمان کی حالت زار کی نشاندہی کی تو کس عقیدت اور محبت سے مقام رسول کو خدا کی جانب سے بطور ’’جواب شکوہ‘‘ متعین کیا:
کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(ماہنامہ کاروان قمر، مارچ 2010ء ص 25)
فیضان رسالت
علامہ اقبال علیہ الرحمہ خطابت میں فرماتے ہیں:
’’پیغمبر اسلامﷺ کی ذات گرامی کی حیثیت دنیائے قدیم و جدید کے درمیان ایک واسطہ کی ہے۔ بااعتبار اپنے سرچشمہ وحی کے آپ کا تعلق دنیائے قدیم سے ہے۔ لیکن بااعتبار اس کی روح کے دنیائے جدید سے۔ یہ آپ ہی کا وجود ہے کہ زندگی پر علم و حکمت کے وہ تازہ سرچشمے منکشف ہوئے جو آئندہ رخ کے عین مطابق تھے‘‘
’’میرا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی اسی طرح مستفیض ہوسکتے ہیں جس طرح صحابہ کے زمانے میں ہوا کرتے تھے‘‘
(ماہنامہ کاروان قمر، مارچ 2010، ص 24)
مقام حضرت بلال رضی اﷲ عنہ
یہ سب عزت و عظمت عشق نبی کے صدقے میں ان کو حاصل ہوئی تھی اور دنیا میں روزانہ پانچ وقت اذان کی آواز بلند ہوتی ہے۔ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ جنتی ہیں۔ جب نبی کریمﷺ معراج پر تشریف لے گئے تو آپ کو جنت میں ایک طرف سے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تو محسن اعظم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو جواب آیا کہ یہ آپ کے موذن حضرت بلال رضی اﷲ عنہ ہیں۔ سبحان اﷲ
(ذکر رسولﷺ، ڈاکٹر حمید یزدانی)
اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے
رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے
روحانی غذا
1931ء میں بیرون موچی دروازہ میلاد النبیﷺ پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، تقریر مولانا سید احمد سعید کاظمی کی اور صدارت حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی تھی۔ اس جلسہ کی کیفیت اور حضرت علامہ علیہ الرحمہ کے عشق رسول کریمﷺ کی کہانی مولانا کاظمی کی زبانی سنئے، فرماتے ہیں:
’’علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے دل میں حضور نبی کریمﷺ کی ذات مقدس کی عظمت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ 1931 ’’دارالعلوم نعمانیہ لاہور‘‘ کے مدرس کی حیثیت سے میں ایک جلسہ میلاد النبیﷺ میں شرکت کے لئے گیا۔ اس جلسہ کا اہتمام بیرون موچی دروازہ کیا گیا تھا۔ علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کا تعارف مجھ سے کرایا گیا۔ میں نے ’’محمد رسول اﷲﷺ‘‘ پر سیر حاصل تقریر کی۔
دوران جلسہ وہ اس قدر روئے کہ ہر دیکھنے والا یہ محسوس کررہا تھا کہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نبی کریمﷺ کی محبت میں مخمور تھے۔ جلسے کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں آج روحانی غذا میسر کی ہے۔ علامہ اقبال علیہ الرحمہ ذی علم تو تھے مگر حضور نبی کریمﷺ کی ذات مقدس کی عظمت ان کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ایک سچے مسلمان تھے۔ ان کی شاعری میں خالصتاً اسلام کا رنگ جھلکتا تھا۔
(روزنامہ امروز 24 فروری 1982، مضمون سید محمد عبداﷲ قادری، بحوالہ ماہنامہ جہان رضا اپریل 2010ئ)
اتباع
اسی رطح ’’اسرار خودی‘‘ میں عشق رسول کے سلسلے میں انہوں نے بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ سنت کے بے حدپابند تھے اور انہوں نے خربوزہ صرف اس لئے نہ دکھایا کہ انہیں معلوم نہ ہوسکا کہ آنحضڑتﷺ اس پھل کو کبھی کھایا یا نہیں اور اگر کھایا تو کس طرح۔ یہ بات یاد رہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ کے علامہ ’’بسطام‘‘ میں خربوزہ بڑی وافر مقدار میں ہوتا ہے۔
کامل بسطام در تقلید فرد
اجتناب از خوردن خربوزہ کرد
(ماہنامہ کاروان قمر مارچ 2010ئ)
بسطام کا مرد کامل نسبت رسول میں بے مثال تھا۔ حتی کہ اتباع رسول مقبولﷺ میں خربوزہ کھانے سے اجتناب کرتا تھا۔
گل صد برگ
ڈاکٹر صاحب ’’اسرارورموز‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی مثال گل صد برگ کی سی ہے کہ گو اس میں سو پنکھڑیاں ہیں مگر سب ایک اصل سے وابستہ ہیں اور میں تمہیں کیا بتائوں کہ آپ کی محبت کیا چیز ہے۔ یہ محبت تو وہ ہے جو بے جان چیزوں کوبھی آپ کے لئے بے قرار رکھتی ہے۔ چنانچہ منبر کی خشک لکڑی بھی آپ کی جدائی میں ایسے زار و قطار اور بلند آواز سے روئی تھی کہ سننے والے ششدر رہ گئے۔ مسلمانوں کا وجود آپ کے جلوئوں سے روشن ہے اور آپ کے قدموں کی خاک ایسی مقدس اور بلند رتبہ ہے کہ اس سے طور جنم لیتے ہیں۔ سبحان اﷲ خاک طیبہ! یہاں کی خاک دونوں عالم سے بہتر اور بڑھ کر ہی۔
مٹی صاحب ایمان
آپﷺ نے فرمایا:
’’میرے جسم میں استعمال ہونے والی خاک کو اس شہر مدینہ (مدینہ منورہ) کی خاک کا وہ حصہ ہونے کا شرف حاصل ہے جہاں میری آخری آرام گاہ ہے اور اسی طرح آپﷺ نے ایک دفعہ فرمایا جس اﷲ کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے اس کی قسم مدینہ منوہ کی مٹی بھی صاحب ایمان ہے‘‘
چنانچہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے بھی خوب فرمایا (نقوش سیر نمبر9)
خاک طیبہ از دو عالم خوش تر اسب
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبراست
ترجمہ: طیبہ کی خاک دونوں جہانوں سے بہتر ہے۔ اے (دل) کی ٹھنڈک شہر کہ وہاں محبوب ہے۔
زندہ واپس نہیں آئیں گے
میر غلام بھیک نیرنگ تحریر فرماتے ہیں۔
’’اقبال کا قلبی تعلق حضور سرور کائناتﷺ کی ذات قدسی صفات سے اس قدر نازک تھا کہ حضورﷺ کا ذکر آتے ہی ان کی حالت دگرگوں ہوجاتی تھی۔ اگرچہ وہ فورا ضبط کرلیتے تھے۔ چونکہ میں بارہا ان کی یہ کیفیت دیکھ چکا تھا۔ اس لئے میں نے ان کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ مگر خاص لوگوں سے بطور راز ضرور کہا کہ یہ اگر حضور پاکﷺ کے مرقد پر حاضر ہوں گے تو زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ وہیں جاں بحق ہوجائیں گے، میرا اندازہ یہی تھا۔ اﷲ بہتر جانتا ہے‘‘
(سید عبدالرشید فاضل، اقبال اور عشق رسالت مآبﷺ، ص 51-52)
آخری خواہش
’’چراغ سحری بجھا چاہتا ہوں۔ تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن حکیم سے متعلق اپنے افکار قلمبند کرجائوں۔ جو تھوڑی سی ہمت و طاقت ابھی مجھ میں باقی ہے اسے اسی خدمت کے لئے وقف کرنا چاہتا ہوں تاکہ قیامت کے دن آپ کے جد امجد (حضور نبی کریمﷺ) کی زیارت مجھے اس اطمینان خاطر کے ساتھ میسر ہو کہ اس عظیم الشان دین کی جو حضورﷺ نے ہم تک پہنچایا کوئی خدمت بجالایا‘‘
وہ عشق رسولﷺ کے تقاضوں سے اچھی طرح واقف تھے، وہ اس دین کی خدمت بجالانے کو حضورﷺ کا وسیلہ سمجھتے تھے۔
تو اے مولا طیبہ آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی، میرا ایمان ہے زناری
آخری عمر میں ان کا حال یہ تھا کہ وہ قرآن حکیم اور مثنوی مولانا روم علیہ الرحمہ کے علاوہ ہر قسم کا مطالعہ چھوڑ بیٹھے تھے۔ حکیم محمد حسن عرشی کے نام لکھتے ہیں ’’آپ اسلام اور اس کے حقائق کے لذت آشنا ہیں۔ مثنوی رومی کے پڑھنے سے اگر قلب میں گرمی شوق پیدا ہوجائے تو اور کیا چاہئے۔ شوق خود مرشد ہے۔ میں ایک مدت سے مطالعہ کتب ترک کرچکا ہوں۔ اگر کبھی کچھ پڑھتا ہوں تو صرف قرآن یا مثنوی رومی‘‘
(ماہنامہ فکر و نظر اسلام آباد اپریل 1986، اقبال کے خطوط کے چند نظریاتی پہلو)
یم عشق کشتی من یم عشق ساحل من
نہ غم سفینہ دارم نہ سر کرانہ دارم
شر رے فشاں و لیکن شر رے کہ دانسوزد
کہ ہنوز نو نیازم غم آشیانہ دارم
علامہ اقبال
دریائے عشق ہی میری کشتی ہے، دریائے عشق ہی میرا ساحل ہے
نہ مجھے سفینے کا غم ہے اور نہ ہی کنارے کی خواہش ہے مجھے پر اپنی
محبت کی چنگاری ڈالیئے، مگر ایسی نہیں جو مجھے بالکل ہی جلادے
میں نو نیاز عشق ہوں، میرے اندر ابھی تک آشیانے سے وابستگی باقی ہے
خوشنودی رسولﷺ
1931ء میں علامہ اقبال دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن گئے تو راستہ میں اسکندریہ (مصر) کے جہاں مصر کے دیگر علماء شخصیات کے ساتھ سید محمد قاضی ابوالعزام نے استقبال کیا اور پھر شام کو اپنے صاحبزادوں کے ساتھ علامہ کی قیام گاہ پر ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ علامہ نے کہا: میں خود زیارت کے لئے حاضر ہوجاتا۔ آپ کیوں تشریف لائے؟ قاضی ابوالعزم نے کہا کہ خواجہ دوجہاں کا ارشاد ہے: جس نے دین سے تمسک کیا اس کی زیارت کو جائو گے تو مجھے خوشی ہوگی لہذا ارشاد نبویﷺ کے مطابق چلا آیا ہوں کہ میرے آقا خوش ہوں۔ علامہ نے سنا تو بے تاب ہوگئے اور انہیں ایک چپ سی لگ گئی۔ سید قاضی ابو العزم نصیحتیں کرتے رہے اور علامہ سنتے رہے۔ جب وہ واپس ہوئے تو علامہ دیر تک روئے اور فرمایا : ایسا زمانہ آگیا ہے کہ لوگ مجھ جیسے گنہ گار کو متمسک بالدین جان کر خواجہ دوجہاںﷺ کے ارشاد کی اتباع میں حضورﷺ کی خوشنودی کے لئے ملنے آتے ہیں۔ اتنا کہہ کر پھر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔
(ماہنامہ کاروان قرم، مارچ 2010ء ص 33)
حج بیت اﷲ کی آرزو
علامہ اقبال علیہ الرحمہ کو روضہ رسول کی زیارت کا بے حد شوق تھا۔ ان ہی کوایک خط میں لکھتے ہیں ’’حج بیت اﷲ کی آرزو تو گزشتہ دو تین برس سے میرے دل میں ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے استطاعت عطا فرمائے تو مزید برکت کا باعث ہو، چند روز ہوئے سر اکبر حیدری وزیراعظم حیدرآباد کا خط مجھے ولایت سے آیا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ حج بیت اﷲ تمہاری معیت میں نصیب ہو تو بڑی خوشی کی بات ہے لیکن درویشوں کے قافلے میں جو لذت و راحت ہے وہ امیروں کی معیت میں کیونکر نصیب ہوسکتی ہے‘‘
وفات سے ایک سال پہلے بھی ان کے دل میں یہ خواہش موجزن تھی۔ سرراس مسعود کے نام جو ان کے جگری دوست تھے، لکھتے ہیں:
’’امسال دربار حضورﷺ میں حاضری کا قصد تھا۔ مگر بعض موانع پیش آگئے۔ انشاء اﷲ امید ہے کہ سال (آئندہ) حج بھی کروں گا اور دربار رسالت میں حاضری بھی دوں گا۔ اور وہاں سے ایک ایسا تحفہ لائوں گا کہ مسلمانان ہند یاد رکھیں گے‘‘ (10 جنوری 1937ئ)
(ماہنامہ فکر و نظر اسلام آباد 1986، اقبال کے خطوط کے چند نظریاتی پہلو… کیپٹن محمد حامد)
مرد مومن
سلطان دوعالمﷺ سے غیر معمولی محبت اور عشق و عقیدت نے انہیں تاریخ اسلام کا مرد مومن بنادیا۔ وہ مرد مومن کہ جس کی عظمتوں کو وقت آخر انہوں نے یوں سلام کیا تھا۔
نشان مرد مومن باتو گویم
چو مرگ آید تبسم برلب اوست
اور پھر اقبال علیہ الرحمہ کی وہ رباعی جو انہوں نے اپنے وصال سے چند منٹ پیشتر کہی۔ یہ وہ وقت تھا کہ سانس بھی رک رک کر چل رہا تھا۔ بعض اوقات آنکھوں کے اشارے اور ہاتھ کی جنبش سے کچھ سمجھاتے تھے۔
راجہ حسن اختر صاحب کا بیان ہے کہ علامہ مرحوم نے انتقال سے تقریبا دس منٹ قبل اپنا حسب ذیل قطعہ کہہ کر وقت آجانے کا اعلان کردیا تھا۔
سرودِ رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سرآمد روزگارے ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید
(پروفیسر محمد اکرم رضا، علامہ محمد اقبال گلزار نعت میں، کارواں نعت ص 163)
ترجمہ: سرزمین حجاز سے آنے والی خوبصورت اور زندگی بخش ہوا کہ جھونکے ختم ہونے کو ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ اس طرح کی ٹھنڈی اور فرحت افزا ہوا چلے گی یا نہیں۔ ایک مرد حق آگاہ کی زندگی کا پیالہ لبریز ہوچکا ہے اس قدر دور اندیش انسان مسلمانوں میں پھر کبھی پیدا ہوگا یا نہیں
حضرت سید احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بارگاہ رسالتﷺمیں۔ Abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
حضرت شیخ سید احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بارگاہ رسالتﷺمیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی کبیر و امام شہیر حضرت سید احمد ابن رفاعی رضی اﷲ عنہ کے لئے نبی کریمﷺ کا اپنی قبر شریف سے دست مبارک کو باہر نکالنے کے بارے میں سوال ہوا ہے کہ آیا وہ واقعہ ممکن ہے یا نہیں؟ اور کیا اس مشہور روایت کی سندیں عالی و صحیح ہیں یا نہیں؟ میں نے اسی سوال کے جواب میں یہ کتابچہ تحریر کیا ہے اور اس کا نام رکھا ہے
’’الشرف المحتم فیما من اﷲ بہ علی ولیہ السید احمد الرفاعی رضی اﷲ عنہ من تقبیل ید النبی صلی اﷲ علیہ دیوسلم‘‘
سب سے پہلے جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک نبی کریمﷺ کی حیات اور تمام دوسرے انبیاء کی حیات قطعی و یقینی ہے اور اس یقین کے لئے ہمارے پاس یقینی دلائل و براہین ہیں۔ صحیح روایتیں اور متواتر خبریں ہیں، خود میں نے حیات الانبیاء کے موضوع پر ایک خاص کتاب تصنیف کی ہے جس میں دلائل و اخبار کو تفصیل سے ذکر کیاہے۔
یہاں میں ان دلائل میں سے چند ایک کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ امام ابو نعیم نے ’’الحلیۃ‘‘ میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے کہ
’’ان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم مر بقبر موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام وہو قائم یصلی فیہ‘‘
یعنی نبی کریمﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرے تو پایا کہ وہ قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ
’’الانبیاء احیاء فی قبورہم یصلون‘‘
یعنی انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں
اور یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمدﷺ کے لئے مرتبۂ نبوت و شہادت دونوں اکھٹا کردیا ہے، یعنی دونوں مرتبے آپﷺ کی ذات میں جمع ہوگئے ہیں اور اس کی دلیل امام بخاری اور امام بیہقی کی روایت کردہ وہ حدیث ہے جسے ان حضرات نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے تخریج کیا ہے کہ: نبی کریمﷺ اپنے مرض وفات میں فرمایا کرتے تھے کہ
’’لم ازل اجد الم الطعام الذی اکلت بخیبر فہذا او ان انقطاع ابہری من ذالک السم‘‘
میں اب بھی خیبر میں کھائے گئے (زہریلے) کھانے کی تکلیف محسوس کرتا ہوں، اس زہر کے اثر سے ’’ابہری‘‘ رگ کے منقطع ہونے کا وقت آگیا ہے۔
لہذا نص قرآنی کے مطابق آپﷺ کی حیات ثابت شدہ ہے، کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ
’’لاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون‘‘
اﷲ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ مت سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق پا رہے ہیں۔
انبیائے کرام شہداء سے اس بات کے زیادہ حقدار ہیں اور ہمارے نبی کریمﷺ تمام انبیاء کرام صلوٰۃ اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی یہ احقیت ان فضائل و خصائص کے سبب ہے جو اﷲ تعالیٰ نے آپ کو عطا کئے ہیں، نہایت ثقہ محدثین نے انبیاء کی حیات کو مستقلا موضوع بنایا ہے، بعض انبیاء علیہم السلام کو خود ہمارے نبیﷺ نے باحیات دیکھا ہے اور آپﷺ نے ہی ہمیں خبر دی ہے اور بلاشبہ ان کی خبر سچی ہے کہ ہمارے درود آپﷺ پر پیش کئے جاتے ہیں اور ہمارے سلام آپ تک پہنچائے جاتے ہیں اور آپﷺ اس کا جواب دیتے ہیں جو سلام پیش کرتا ہے۔
البارزی سے نبی کریمﷺ کی حیات کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا کہ
“آپﷺ باحیات ہیں، امام حرہ میں حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ قبر رسولﷺ سے ایک گونج سن کر ہی نماز کے اوقات کو جانتے تھے”
’’احبار مدینہ‘‘ میں زبیر بن بکار نے حضرت سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے
“میں ایام حرۃ میں مزار رسولﷺ سے اذان و اقامت کی آواز سنتا رہتا تھا، یہاں تک کہ لوگ واپس آگئے”
عفیف الدین یافعی فرماتے ہیں کہ
’’یہ طے شدہ ہے کہ جو چیز انبیائے کرام کیلئے بطور معجزہ جائز ہے وہ سب اولیاء کے لئے بطور کرامت بلا شرط چیلنج جائز ہے‘‘
اور فرماتے ہیں کہ اور یہ ایسی بات ہے کہ اس بات کا انکار صرف جاہل شخص ہی کرے گا، حیات انبیاء کے سلسلے میں علماء کے بے شمار اقوال ہیں لیکن میں اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں، چونکہ حیات انبیاء ثابت ہے اور اولیاء کا انبیائے کرام کے کلام کو سننا اور ان کی زیارت کرنا بھی صحیح ہے، لہذا سیدی سید احمد ابن رفاعی رضی اﷲ عنہ کے لئے نبی کریمﷺ کے دست مبارک کا قبر شریف سے باہر آنا بھی ممکن ہے اور اس میں یا تو کجی و گمراہی والا شبہ کرے گا یا ایسا منافق جس کے دل پر اﷲ نے مہر لگادی ہے، اس صفت و خوبی یا س کے مثل کا انکار سوئے خاتمہ کا سبب ہوتا ہے۔ اﷲ ہماری حفاظت فرمائے، کیونکہ اس میں دائمی معجزہ اور کھلی کرامت کا انکار ہے۔
ہم سے ہمارے شیخ، شیخ الاسلام کمال الدین امام کاملیہ نے روایت کی ہے، انہوں نے ہمارے مشائخ کے شیخ امام علامہ شیخ شمس الدین جزری سے، انہوں نے اپنے شیخ امام زین الدین مراعی سے، انہوں نے شیخ الشیوخ شجاع و محدث و واعظ و فقیہ و مقرر و مفسر، امام و مقتدا و حجت شیخ عزالدین احمد فاروقی سے، انہوں نے اپنے والد استاد اصیل علامہ جلیل شیخ ابو اسحاق فقرائے ابراہیم فاروقی سے، اور انہوں نے اپنے والد امام فقہاء و محدثین شیخ فقرائے اکابر و علمائے عاملین شیخ عز الدین عمر ابوالفرج قدس اﷲ سرہم اجمعین سے روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ 555ھ کے حج میں، میں اپنے شیخ و ملجا اور اپنے سردار ابو العباس قطب و غوث شیخ سید احمد رفاعی حسینی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ تھا۔ اس سال آپ کو اﷲ تعالیٰ کی جانب سے حج کی سعادت حاصل ہوئی تھی، جب حضرت رفاعی مدینہ پہنچے تو نبی کریمﷺ کے حجرے کے سامنے کھڑے ہوکر لوگوں کی موجودگی میں بلند آواز سے عرض کیا۔ السلام علیک یا جدی یعنی اے میرے جد آپ پر سلام ہوتو حضورﷺ نے فرمایا وعلیک السلام یا ولدی اے میرے بیٹے تم پر بھی سلامتی ہو اور اس (جواب) کو مسجد نبوی میں موجود ہر شخص نے سنا اور یہ سن کر سیدنا احمد رفاعی پر جذب طاری ہوگیا۔ آپ تھرا اٹھے، آپ کا رنگ زرد پڑگیا، گریہ و زاری کرتے ہوئے گھٹنے کے بل کھڑے ہوگئے اور دیر تک سسکیاں لیتے رہے پھر عرض کیا اے جد کریمﷺ
فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلہا
تقبل الارض عنی وہی نائبتی
وہذہ دولۃ الاشباح قد حضرت
فامدد یمینک کی تحظی بہا شفتی
اے جد کریم! دوری کی حالت میں اپنی روح و خیال کو بھیجا کرتا ہے جو میری نیابت میں آستاں بوسی کرتے تھے اور آج یہ دور افتادہ خود در دولت پر حاضر ہے لہذا آپ اپنے دست کرم کو دراز فرمائیں تاکہ میرے لب دست بوسی کی سعادت حاصل کرسکیں۔
تو رسول اﷲﷺ نے اپنے معطر دست مبارک کو قبر انور شریف سے باہر نکالا، جسے نوے ہزار زائرین کے ہجوم میں امام رفاعی نے چوما، یہ سارے لوگ دست مبارک کو دیکھ رہے تھے، اس وقت مسجد میں حجاج کرام کے درمیان شیخ حیات بن قیس حرانی، شیخ عبدالقادر جیلی (حضرت غوث اعظم مقیم) بغداد، شیخ خمیس اور شیخ عدی بن مسافر شامی وغیرہ بھی موجود تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہم سب کو ان حضرات کے علوم و اسرار سے نفع بخشے، ہم نے بھی ان حضرات کے ساتھ حضورﷺ کے پاکیزہ دست مبارک کی زیارت کی اور اسی دن شیخ حیات بن قیس حرانی نے سید احمد کبیر رفاعی سے خرقہ خلافت حاصل کیا اور آپ کے مریدین و مسترشدین میں شامل ہوگئے۔
ایک دوسرے طریقے سے مجھ سے روایت کیا ہے۔ شیخ محمد علی نے ان سے شیخ ابی الرجال یونینی بعلبکی نے، ان سے شیخ عبداﷲ بطائحی قادری نے، ان سے شیخ علی بن ادریس یعقوبی نے اور ان سے ان کے شیخ قطب یگانہ و غوث زمانہ شیخ عبدالقادر جیلی بغدادی نے روایت کیا ہے۔ فرمایا کہ اس محفل کرامت میں، میں بھی موجود تھا جس میں اﷲ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی دست بوسی کے ذریعہ شیخ احمد کبیر رفاعی کی کرامت و بزرگی کا اظہار کیا۔ یعقوبی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ حضرت جیلانی سے عرض کیا: حضور حاضرین کو اس کرامت و بزرگی سے حسد نہیں ہوا تو یہ سوال سن کر حضرت غوث صمدانی رونے لگے اور جواب دیا۔ اے ابن ادریس اس پر تو ملاء اعلیٰ (فرشتوں) نے بھی رشک کیا ہے۔ ایک اور طریقے سے، مجھ سے امام قوصی نے بیان کیاہے۔ ان سے شیخ قطب الدین خزانچی نے، ان سے شیخ رکن الدین سنجاری نے، ان سے ان کے شیخ عدی بن مسافر نے اور ان کے خادم شیخ علی بن موہوب نے بیان کیا ہے، دونون فرماتے ہیں کہ:
حج والے سال ہم مسجد نبوی میں تھے تو دیکھا کہ شیخ احمد بن رفاعی رضی اﷲ عنہ حجرہ طیبہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہیں اور کچھ عرض کررہے ہیں جسے بہت سے حضرات نے یاد رکھا اور نقل کیا ہے اور جیسے ہی آپ کی گفتگو ختم ہوئی، فورا اﷲ کے رسولﷺ کا دستِ مبارک قبر شریف سے باہر نکلا اور شیخ رفاعی نے اس کا بوسہ دیا۔ ہم جملہ حاضرین کے ساتھ اس (روح پرور اور ایمان افروز) منظر کو دیکھ رہے تھے (شیخ عدی کے خادم) ابن موہوب کہتے ہیں کہ : خدا کی قسم! گویا اب بھی وہ نظارہ میرے سامنے ہے، جب سفید گورا معتدل ہاتھ قبر مبارک سے باہر نکلا جس کی انگلیاں خوب لمبی لمبی تھیں، گویا بجلی چمک رہی ہو، حرم و اہل حرم گویا سبھی رقص کناں ہوں۔
لوگ سلطان محمدی اور جلال احمدی سے اس قدر مرعوب و لرزاں و ترساں تھے اور (اس معجزۂ گرامی) سے اس طرح حیرت زدہ تھے گویا قیامت آنے والی ہو۔ لوگ حیرت و دہشت میں بے قرار و بے اختیار اٹھ بیٹھ رہے تھے۔ کبھی اﷲ کی تکبیر وبڑھائی بولتے تو کبھی حضورﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجتے۔
یہ بات معروف ہے کہ حضرت رفاعی کی یہ منقبت مسلمانوں کے درمیان درجہ تواتر کو پہنچ چکی ہے۔ اس کی سندیں عالی اور بلند مرتبہ ہیں اور اس کی روایتیں صحیح ہیں۔ تمام راویوں کا اس کی صحت و صداقت پر اتفاق ہے، اور اس کا انکار منافقت کی نشانیوں میں سے ہے۔
فائدہ: اگر یہ کہا جائے کہ کیا اس فضل و منقبت کے سبب سید احمد (رفاعی) رضی اﷲ عنہ اور دوسرے زائرین صحابہ کے زمرے میں داخل ہوگئے؟ کیونکہ ان حضرات کو نبی کریمﷺ کی رویت حاصل ہوئی ہے۔
جواب: ہمارے اساتذہ کے موقف کے مطابق زمرۂ صحابیت میں ان کا دخول محل نظر ہے اور صحیح تر یہ ہے کہ یہ لوگ داخل نہیں ہیں۔ یہی رائے سنجاوی وغیرہ کی ہے کیونکہ صحابیت کا ثبوت حضورﷺ کی ظاہری دنیوی حیات سے متعلق ہے اور یہ حیات اخروی ہے، دنیوی نہیں ہے اور دنیا کے احکام بھی اس سے متعلق نہیں ہیں۔
یہ واقعہ بھی ثابت شدہ ہے کہ جب سید احمد کبیر رفاعی رضی اﷲ عنہ نے دوبارہ حج فرمایا اور اسی سال میں ان کا وصال بھی ہوا تھا تو انہوںنے روضہ مبارک علی ساکنہا افضل الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کھڑے ہوکر انتہائی عاجزی و خاکساری سے عرض کیا یعنی اگر کہا گیا کہ تم نے زیارت کی تو کیا لے کر لوٹے؟ تو اے بزرگ ترین رسولﷺ ہم کیا جواب دیں گے؟
تو قبر انور سے ایک آواز آئی جسے مسجد میں موجود ہر شخص نے سنا۔
اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ حبیب خداﷺ ہر ایک کو اس کی زبان میں مخاطب کرتے تھے، جب حمیری نے پوچھا ’’ہل من امبر صیام فی امسفر‘‘ تو آپﷺ نے بھی حمیری لہجے میں جواب دیا اور لام تعریف کی جگہ میم استعمال فرمایا تھا اور یہ مشہور و معروف بات ہے، سید احمد رفاعی کو بھی آپﷺ کا جواب اسی قبیل سے تھا ۔
میں (امام سیوطی) اﷲ تعالیٰ کے لئے جس بات کو مانتا ہوں اور جس پر عقیدہ رکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ سید احمد ابن رفاعی فاطمی حسینی رضی اﷲ عنہ معرفت الٰہی میں پائیدار پہاڑ کی مانند تھے، عظیم ترین سردار تھے، بہت بڑے ولی تھے اور سنت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا بحر بے کنار تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ اولیاء اﷲ اور گروہ صوفیا کے ایسے مستند سردار تھے جن کی ذات پر طریقت کا خاتمہ ہوجاتا ہے، جن کی عظمت پر علماء والیاء کا اجماع واقع ہے۔ ان کے تمام معاصر اولیاء نے ان کی سربراہی میں اور ان کے تقدم کا اعتراف کیا ہے۔ آپ کے زمانے کے اکابر مشائخ نے آپ کے پرچم رشد وہدایت کے نیچے راہ سلوک طے کیا ہے۔ آپ نبیﷺ کی سنت پر پختگی کے ساتھ کاربند اور ان کی اتباع میں خوب راسخ قدم تھے۔ آپﷺ کی ذات پر تواضع اور حسن اخلاق کا خاتمہ ہوگیا۔
اﷲ تعالیٰ حضرت سید احمد ابن رفاعی رضی اﷲ عنہ کے علوم، روحانی امداد سے اور حال وقال سے مستفیض فرمائے اور ہمیں ان کے اور ان کے ولی دوستوں کے زمرے میں اور اپنے نبیﷺ کے لواء کے سائے میں رکھے۔
وسلام علی المرسلین والحمدﷲ رب العالمین
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا - abdullah Madni 1991
May 08, 2020 Abdullah Hashim Madni
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا٭
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں محدَّث ہوا کرتے تھے اگر میری امت میں کوئی محدَّث ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے۔ زکریا بن ابی زائدہ نے سعد سے اور انہوں نے ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ زیادہ روایت کئے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں یعنی بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کلام فرماتا تھا حالانکہ وہ نبی نہ تھے۔ اگر ان جیسا میری امت کے اندر کوئی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 25 : أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب فضائل الصحابة باب مناقب عمر بن الخطابص، 3 / 1349، الحديث رقم : 3486، و في کتاب الأنبياء، باب أم حسبت أن أصحاب الکهف و الرقيم، 3 / 1279، الحديث رقم : 2382، و ابن أبي عاصم في السنة، 2 / 583، الحديث رقم : 1261.
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ تم سے پہلی امتوں میں محدَّثون ہوتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی محدَّث ان میں سے ہے تو وہ عمر بن الخطاب ہے، ابن وہب نے کہا محدَّث اس شخص کو کہتے ہیں جس پر الہام کیا جاتا ہو۔ اس حدیث کو امام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 26 : أخرجه مسلم فی الصحيح، کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل عمر، 4 / 1864، الحديث رقم : 2398، و الترمذی فی الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب فی مناقب عمر بن الخطاب، 5 / 622، الحديث رقم : 3693، و ابن حبان فی الصحيح، 15 / 317، الحديث رقم : 6894، و الحاکم فی المستدرک علی الصحيحين، 3 / 92، الحديث رقم : 4499، و النسائي في السنن الکبریٰ، 5 / 39، الحديث رقم : 8119.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتا۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اورکہا : یہ حدیث حسن ہے۔
الحديث رقم 27 : أخرجه الترمذی فی الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب فی مناقب عمر، 5 / 619، الحديث رقم : 3686، و أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 154، و الحاکم في المستدرک، 3 / 92، الحديث رقم : 4495، و الطبرانی فی المعجم الکبير، 17 / 298، الحديث رقم : 822، و الرویاني في المسند، 1 / 174، الحديث رقم : 223، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 356، الحديث رقم : 519.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سابقہ امتوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے تھے جو نبوت کی سی باتیں کرتے تھے اور اگر میری امت میں ایسا کوئی ہے تو وہ عمر ہے۔ اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔‘‘
الحديث رقم 28 : أخرجه ابن أبيشبية في المصنف، 6 / 354، الحديث رقم : 31972.
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں محدَّثون ہوا کرتے تھے جو کہ انبیاء نہیں تھے اور اگر میری امت میں سے کوئی محدَّث ہے تو وہ عمر ہے۔ اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے۔‘‘
الحديث رقم 29 : أخرجه الديلمي في المسند الفردوس، 3 / 278، الحديث رقم : 4839.
Subscribe to:
Posts (Atom)







