مولانا امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور فن تفسیر: - Abdullah Madni 1991
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلّی علٰی رسولہ الکریم ط اعلٰی حضرت عظیم البرکت قدس سرہ ان ہستیوں میں سے ہیں جن کے لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا !
افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علٰی نور من ربہ
یہ شرح صدر ہی تو تھا کہ قلیل عرصہ میں جملہ علوم و فنون سے فراغت پالی ورنہ عقل کب باور کر سکتی ہے کہ چودہ سال کی عمر میں علوم و فنون ازبر ہوں
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
( یہ سعادت بزور بازو نہیں ملتی جب تک کہ بخشنے والا خداوند تعالٰی نہ عطا کرے )
اور یہ علوم و فنون صرف ازبر نہ تھے بلکہ ہر فن پر مبسوط تصانیف موجود ہیں اور وہ بھی کسی سے مستعار نہیں بلکہ قلم رضوی کے اپنے آب دار موتی ہیں اور تحقیق کے ایسے بہتے ہوئے بحر ذخار کو دیکھ کر بڑے بڑے محققین انگشت بدنداں ہو جاتے ہیں۔ آپ کو قلم کا بادشاہ کہا جاتا ہے ۔
