کیا اذان سے پہلے اور بعد درو د و سلام پڑھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔؟: - Abdullah Madni 1991
کیااذان سے پہلے اور بعد درو د و سلام پڑھ سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اذان سے پہلے ' اذان کے بعد ' نماز کے بعد ہر وقت صلوٰۃ و سلام بلند آواز سے یا آہستہ پڑھنا جائز ہے۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیماo
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (پارہ ٢٢،سورۃ الاحزاب، آیت ٥٦)
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو درود و سلام پڑھنے کا حکم فرمایا ہے اس میں کسی وقت' جگہ یا کسی خاص صیغہ سے پڑھنے کی پابندی نہیں لگائی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور شجر و حجر پڑھتے تھے ''الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ''
(سیرۃ الحلبیہ ص ٤٩٣ ، جلد ٣، معارج النبوۃ ص ٦٧٧، جلد ٣ ، مشکوٰۃ شریف ، ابوداؤد شریف ص ٣٥١ ، ٢١٦، حزب الصلوٰۃ والسلام محمد ہاشم دیوبندی' فتاویٰ علماء حدیث ص ١٥، جلد ٩)

