یہ ایک خالص اسلامی بلاگ ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر مختلف اسلامی موضوعات پر وقتاً فوقتاً مواد شائع کیا جاتا ہے۔ اس بلاگ ویب سائٹ کا واحد مقصد اس پُر فتن دور میں دین کی صحیح معلومات کو پھیلانا اور اسلامی شعار کو محفوظ رکھنا ہے نوٹ: ویب سائٹ پر اپلوڈ کئے گئے مضامین میں حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہے ویب سائٹ اس بارے میں ذمہ دار نہیں۔ شُکریہ

تلاشِ موضوع

Showing posts with label اختیارات مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. Show all posts
Showing posts with label اختیارات مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. Show all posts

شیعوں کی مکاری دھوکے بازی


 

شیعوں کی مکاری دھوکے بازی منافقت....اور...چیلنج......!!
نوحہ ماتم غم تعزیہ پر شیعہ کی مضبوط ترین دلائل اور انکا جواب....!!
سیدہ بی بی عائشہ کا نوحہ۔۔۔۔؟؟
سیدنا اویس قرنی کا ماتم..........؟؟
انبیاء سابقین کا گریہ و نوحہ...۔۔۔۔۔؟؟
ماتم نوحے کالے کپڑے غم و تعزیہ......؟؟
سیدناحمزہ کی شہادت پےنوحہ،گریہ......؟؟
سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم،بی بی سلمہ کاگریہ....؟؟
.
*ماتمی شیعوں کی کئ کتب میں نوحے ماتم تعزیہ گریہ غم کرنے کی ایک مضبوط ترین دلیل یہ لکھی ہے کہ:*
اہلسنت کی معتبر ترین کتب صحاح ستہ سیرت ابن ہشام وغیرہ کتب میں ہے کہ حضرت حمزہ کی شھادت پر نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) خود بھی روئے اور کہا کہ حمزہ پر نوحہ کرنے والے کیوں نہیں، پھر حضرت حمزہ کی شھادت پر خوب نوحہ ہوا، گریہ و زاری ہوئی...
.
اس دلیل کو بحارالانوار ،اکمال الدین، ماتم حسینی، وسائل شیعہ ،منتھی الامال وغیرہ کئ کتابوں میں پرزور طریقے سے پیش کیا گیا ہے
.
جواب.و.تحقیق
ماتم نوحے کرنے والوں کے پاس جھوٹے بے بنیاد کمزور دلائل تو ہیں مگر مستند دلیل ان کے پاس نہیں... جھوٹی بے بنیاد ٹوٹی پھوٹی دلیل تو شیطان نے بھی دی تھی کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کرونگا کیونکہ وہ مٹی سے بنا ہے...جی ہاں ٹوٹی پھوٹی جھوٹی دلیل تو ہر ایک کے پاس ہوتی ہے... باطلوں منافقوں کے پاس بھی جھوٹی ٹوٹی پھوٹی دلیل ہوتی ہے جس سے وہ عوام کو گمراہ بناتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں
.
اوپر جو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نوحہ کرنے کو دلیل بنایا گیا دراصل یہ بھی جھوٹ و دھوکے بازی ہیں..ہم آپ کے سامنے پوری بات، پورا واقعہ لکھیں گے، جب آپ پڑھیں گے تو خود بخود کہیں گے کہ یہ واقعہ تو نوحے کو حرام کرنے کا ہے...اس طرح ماتمیوں کی مکاری چالبازی دھوکے بازی آپ پر واضح ہوجائے گی...
.
یہ لیجیے پورا واقعہ پڑھیں... یہ واقعہ صحاح ستہ کی کتاب ابن ماجہ میں ہے...واقعہ کچھ یوں ہے کہ:
ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بنساء عبد الأشهل، يبكين هلكاهن يوم أحد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لكن حمزة لا بواكي له» فجاء نساء الأنصار يبكين حمزة، فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ويحهن ما انقلبن بعد؟ مروهن فلينقلبن، ولا يبكين على هالك بعد اليوم
(ابن ماجہ حدیث نمبر1591)
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر عبدالاشھل قبیلے کی عورتوں کے قریب سے ہوا، وہ عورتیں احد کے وفات شدگان پر رو رہی تھیں،(نوحہ کر رہی تھیں)تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لیکن حمزہ پر کوئی رونے والا نہیں....!! پس انصار عورتیں آئیں اور حضرت حمزہ پر رونے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور فرمایا کہ:
ہلاکت ہو ابھی تک لوٹ کر نہیں گئیں...؟؟انہیں کہہ دو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی پر بھی نوحہ نہ کریں(یعنی اب نوحہ ماتم ہمیشہ کے لئے ممنوع اور حرام ہے)
(ابن ماجہ حدیث نمبر1591)
.
دیکھا آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کسی پر بھی نوحہ کرنے سے روک دیا تھا...
.
اسی طرح ماتمی دھوکے باز لوگ سیرت ابن ہشام وغیرہ کی بھی آدھی بات پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں جبکہ اسی واقعہ کو سیرت ابن ہشام مین تفصیلا لکھ کر یہ بھی لکھا ہے کہ
ونهي يومئذ عن النوح...ترجمہ: اس دن آپ علیہ السلام نے نوحہ کرنے سے منع کردیا..(سیرت ابن ہشام 2/99)
.
مغازی واقدی میں اسی واقعہ کے ساتھ لکھا ہے کہ
ونهاهن الغد عن النوح أشد النهي..ترجمہ اس دن کے بعد آپ علیہ السلام نے نوحہ کرنے سے سخت منع کر دیا
(مغازی الواقدی 1/317)

اختیارات مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - Abdullah Madni 1991


اختیاراتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت وجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کے حکم کے بغیر نہ کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان، اور اللہ تعالیٰ کی عطاء کے بغیر کوئی کسی چیز کا ذاتی طورپر مالک و مختار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے شمار شانیں اور اختیارات عطا فرمائے ہیں ۔خالق کائنات کا قرآن پاک میں ارشاد ہے     ۔ قد نریٰ تقلب وجھک فی السماء فلنولینک قبلۃ ترضھا۔
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی (مرضی اور چاہت) ہے ۔
(سورہ البقرہ ، پارہ٢، آیت ١٤٤)
٭ وما نقموا الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ۔
اور انہیں (کفارو منافقین کو ) کیا بُرا لگا یہی نا کہ اللہ و رسول نے انہیں (مسلمانوں کو) اپنے فضل سے غنی کر دیا۔(پ ١٠۔ رکوع ١٦، سورہ التوبہ آیت ٧٤)
حدیث شریف:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: یا ایھا الناس فرض علیکم الحج فحجوا ۔ اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا ہے پس حج کیا کرو ۔ ایک شخص نے عرض کیا ''اکل عام یا رسول اللہ '' (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے حتیٰ کہ اس آدمی نے تین بار عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لو قلت نعم لو جبت اگر میں ہاں فرما دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ۔ (مشکوٰۃ شریف، کتاب المناسک پہلی فصل)
انما انا قاسم و خازن واللہ یعطی۔ (بخاری و مسلم ، مشکوٰۃ شریف کتاب العلم ، پہلی فصل)
میں تقسیم کرنے والا ہوں اور میرے پاس خزانے ہیں اوراللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے ۔
خالق ِکل  نے  آپ  کو  مالک کل  بنا  دیا
دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں
قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مختار کل بنایا ہے ۔ جس قبلہ شریف کی طر ف منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں یہ قبلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مرضی اور چاہت کی وجہ سے ہی بنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جس کو چاہیں غنی فرما دیں ' جس چیز کو چاہیں حلا ل فرما دیں اور جس کو چاہیں حرام قرار دے دیں ۔ جس کو چاہیں فرض فرما دیں اور جس فرض سے چاہیں رخصت عنایت فرما دیں۔
ہماراعقیدہ:
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت وجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور نبی اکرم نور مجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر انور میں بحیاتِ حقیقی (مع جسم) زندہ ہیں ۔ قانون قدرت کے مطابق موت کا حکم آپ پر طاری ہوا اورآپ کو قبر انور میں اُتاراگیا قانونِ قدرت پورا ہونے کے بعد آپ اُسی طرح مع جسم زندہ و سلامت ہیں ۔
قرآن پاک : النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کی جانوں سے زیادہ ان کے قریب ہیں۔
(پ٢١، رکوع ١٧، سورہ الاحزاب ، آیت ٦)
٭ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاء وک فاستغفرواللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیماo اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبو ب تمہارے حضورحاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کوبہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ (پ ٥، سورہ النساء ، آیت ٦٤)
حدیث شریف :حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر جمعہ کے رو ز درود شریف کی کثرت کیا کرو ، کیونکہ اس دن ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور بے شک جب بھی کوئی مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے تو وہ درود شریف اس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کر دیا جاتاہے ۔ حضرت ابودرداء کہتے ہیں میں نے عرض کیا''کیا وفات کے بعد بھی ؟'' تو آپ ؐنے ارشاد فرمایا ''ہاں وفات کے بعد بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے ۔ پس اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے اسے رزق بھی دیا جاتا ہے''۔ (ابن ماجہ شریف ص ١١٩، مشکوٰۃ شریف کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ)
٭حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''اللہ کے سارے نبی زندہ ہیں اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے ہیں''۔(مسند ابویعلیٰ موصلی جلد ٦ ، ص ١٤٧، شفاء السقام ص ١٧٩، فتح الملھم شرح صحیح مسلم جلد ١، ص ٣٢٩)
سیدی اعلیٰ حضرت کیا خوب عقیدہ بیان فرماتے ہیں کہ:
انبیاء  کو  بھی  اجل  آنی  ہے  مگر  ایسی  کہ فقط  آنی  ہے
پھراُسی آن کے بعد اُن کی حیات مثل سابق وہی جسمانی ہے
آج کل اگر کسی کو مسلمان کرنا ہو توہم اُسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کرتے ہیں ۔ کلمہ طیبہ کا ترجمہ ''اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ؐ) اللہ کے رسو ل ہیں''۔ لفظ ''ہیں'' ہمیشہ زندہ و موجود کیلئے آتا ہے ' مردہ کیلئے نہیں آتا ۔ پانچ وقت نماز وںمیں بھی زندہ و حاضر و ناظر نبی ؐکی خدمت میں سلام عرض کیا جاتا ہے ۔ ''اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ پر سلام ہواور اللہ کی رحمتیں ''۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر معاذ اللہ حضور نبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زندہ نہیں ہیں تو کلمہ شریف ' نماز' اذان وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کیوں پکارا جاتا ہے؟
    شہید کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ شہید زندہ ہے اُسے مردہ گمان بھی نہ کرو ۔ کیا شہید کو موت نہیں آتی؟ کیا اُس کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا ؟ کیا اُسے قبر میں دفن نہیں کیا جاتا؟ سب کچھ کرنے کے باوجود قرآن پاک کا حکم ہے کہ اُسے مردہ نہ کہو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہے اور اُسے روزی دی جاتی ہے ۔لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔ (پارہ ٤ آلِ عمران آیت ١٦٩)
    جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلمہ پڑھنے والا ایک عام اُمتی شہید ہونے کے بعد زندہ ہے تو اس پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا عالم کیا ہوگا؟ جہاں خداکی خدائی ہے وہاں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بادشاہی ہے۔ آپ کی نبوت و رسالت کا دور کبھی ختم نہیں ہو گا ۔قیامت تک کلمہ، اذان ، نماز (وغیرہ) میں آپ کے نام کا سکہ جاری رہے گا ۔ جو بدبخت 'بدعقیدہ آپ کی حیات مبارکہ کا انکار کرتا ہے وہ قرآن و احادیث مبارکہ کا منکر ہے۔ وہ کلمہ ،اذان ، نماز میں آپ کا نام لینا چھوڑ دے یا اپنے غلط عقیدہ سے توبہ کر لے۔