یہ ایک خالص اسلامی بلاگ ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر مختلف اسلامی موضوعات پر وقتاً فوقتاً مواد شائع کیا جاتا ہے۔ اس بلاگ ویب سائٹ کا واحد مقصد اس پُر فتن دور میں دین کی صحیح معلومات کو پھیلانا اور اسلامی شعار کو محفوظ رکھنا ہے نوٹ: ویب سائٹ پر اپلوڈ کئے گئے مضامین میں حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہے ویب سائٹ اس بارے میں ذمہ دار نہیں۔ شُکریہ

تلاشِ موضوع

Showing posts with label " عیادت کی فضائل و آداب". Show all posts
Showing posts with label " عیادت کی فضائل و آداب". Show all posts

کتاب"سیرت الانبیاء"کا تعارف اور مطالعہ کرنے کا طریقہ




**کتاب"سیرت الانبیاء"کا تعارف اور مطالعہ کرنے کا طریقہ**

از قلم::ابو امجد غلام محمد عطاری مدنی
22/2/2021
03163627911
 *کتاب کے مصنف* :
شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم عطاری
 **موضوع*:* 
انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت ،واقعات ،انکی قوموں کے احوال کا بیان
 *کل صفحات:* 
829صفحات
 *کتنے انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت کا بیان ہے* :
33انبیائے کرام کی سیرت کا بیان ہے۔
1،آدم علیہ السلام 2،شیث علیہ السلام3،ادریس علیہ السلام 4،نوح علیہ السلام 5،ہود علیہ السلام 6،صالح علیہ السلام 7،ابراھیم علیہ السلام 8،اسماعیل علیہ السلام 9،اسحاق علیہ السلام 10،لوط علیہ السلام 11،یعقوب علیہ السلام 12،یوسف علیہ السلام 13،ایوب علیہ السلام 14،ذوالکفل علیہ السلام 15،یونس علیہ السلام 16،شعیب علیہ السلام 17،موسی علیہ السلام 18،ھارون علیہ السلام 19،خضر علیہ السلام 20،یوشع علیہ السلام 21،شمویل علیہ السلام 22،داود علیہ السلام 23،سلیمان علیہ السلام 24،الیاس علیہ السلام 25،یسع علیہ السلام 26،عزیر علیہ السلام 27،ارمیا علیہ السلام 28،دانیال علیہ السلام 29،شعیا علیہ السلام 30،ذکریا علیہ السلام 31،یحیی علیہ السلام 32،عیسی علیہ السلام 33،سید الانبیاء محمد مصطفیٰ علیہ السلام
 *ابواب بندی:* 
سیرت الانبیاء کتاب کو *116* ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے 
 *اسلوب:* 
اس کتاب میں انبیاء کرام علیہم السلام کا تعارف،انبیاء کے قرآن میں تذکرہ کے مقامات،احادیث میں تذکرہ کے مقامات،انبیاء کی دعوت و تبلیغ کا بیان،جن انبیاء کی قوموں پر عذاب آیا انکے واقعات،انبیاء کی دعائیں۔

" عیادت کی فضائل و آداب"



" عیادت کی فضیلت و آداب"

 تحریر: عبداللہ ھاشم عطاری مدنی
03313654057

اسلام میں مریض کی عیادت کو بڑی اہمیت اورفضیلت حاصل ہے، بیمار پرسی کرنا، مریض کو تسلی دینا اورہمدردی ظاہر کرنا اونچے درجے کا نیک عمل اور مقبول ترین عبادت ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ سوسائٹی میں جذبۂ الفت اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حاجت مندوں کی معاونت کی جائے اور جو کام شہری زندگی کو سنوارتے ہیں وہ اللہ تعالی کو پسند ہیں اور عیادت رشتہ الفت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے؛ اس لیے اس میں بڑا اجر و ثواب رکھا گیا ہے۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے:
فرامِین مصطَفٰے:
{1}  عُوْدُواالْمَرِیضَیعنی مریض کی عیادت کرو۔(الادب المفرد، باب عیادۃ المرضی، ص۱۳۷،حدیث۵۱۸)
{2}جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر پَچَھتَّر ہزار (75000)  فرشتوں   کا سایہ کرتا ہے اور اُس کے ہر قدم اُٹھانے پر اُس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور ہر قدم رکھنے پر اُس کا ایک گناہ مٹاتا ہے اورایک دَرَجہ بلند فرماتا ہے یہاں   تک کہ وہ اپنی جگہ پربیٹھ جائے، جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اُسے ڈھانپ لیتی ہے اور اپنے گھر واپس آنے تک رحمت اُسے ڈھانپے رہے گی(معجم اوسط،باب العین،۳ / ۲۲۲،حدیث ۴۳۹۶)
{3} جو شخص کسی مریض کی عیادت کو جاتا ہے توآسمان سے ایک مُنادی ندا کرتاہے: تجھے بشارت (یعنی خوشخبری) ہو تیرا چلنا اچھا ہے اورتونے جنت کی ایک منزل کواپنا ٹھکانہ بنا لیا(ابن ماجہ،کتاب الجنائز، باب ماجاء فی ثواب من عاد مریضاً،۲ / ۱۹۲،حدیث۱۴۴۳)
{4} جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے لیے صبح کو جائے تو شام تک اُس کے لیے ستّر ہزار فرشتے اِستغفار (یعنی بخشِش کی دعا) کرتے ہیں   اور شام کو جائے تو صبح تک ستّر ہزار فرشتے اِستغفار کرتے ہیں   اور اُس کے لیے جنت میں   ایک باغ ہوگا (ترمذی،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عیادۃ المریض، ۲ / ۲۹۰، حدیث۹۷۱)